بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مون سون کی بارشوں نے آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی
حکومت آزاد کشمیر نے دارالحکومت مظفرآباد، میرپور، راولا کوٹ، کوٹلی، باغ، نیلم، بھمبر، ہٹیاں، پلندری اور ضلع حویلی میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے،تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر صاحبان کے دفاتر میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم
سلیم پروانہ:
مون سون کی بارشوں نے آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی ہے۔ حکومت آزاد کشمیر نے دارالحکومت مظفرآباد، میرپور، راولا کوٹ، کوٹلی، باغ، نیلم، بھمبر، ہٹیاں، پلندری اور ضلع حویلی میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر صاحبان کے دفاتر میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دئیے ہیں۔ دریاؤں کے کنارے آباد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید نے آزاد کشمیر کی انتظامیہ اور عوامی مفاد کے اداروں کو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے اور آپس میں گہری کوارڈی نیشن قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔ آزاد کشمیر میں دریاؤں، ندی نالوں کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ ہزاروں مکانوں، کاروباری مراکز میں بارش اور سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔ لوگوں کا سامان تباہ ہو گیا ہے۔
تمام سڑکیں، بازار اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے اور بھاری پتھر گرنے سے ٹریفک کا نظام بھی مفلوج ہوا ہے۔ آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل کی صدارت میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس بھی گزشتہ روز منعقد ہوا ہے جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فیاض اختر چودھری، سیکرٹری ایس ڈی ایم محمد اکرم، سیکرٹری شاہرات محمد الیاس عباسی، سیکرٹری صحت میجر جنرل ملک محمد عباس، سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ محمد خلیل چودھری اور دیگر محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری نے ہدایت دی ہے کہ عوام کو دریاؤں، ندی نالوں کے پاس جانے سے روکا جائے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو سکے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے ساتھ رابطہ سڑکوں کو کھلا رکھنے کے لئے ممکنہ شاہرات کی مشینری اور عملہ کو خطرناک لینڈ سلائیڈنگ ہٹانے کے لئے ہمہ وقت متحرک رکھا جائے۔ بارشوں، دریاؤں کے پانی کی سطح بلند ہونے سے کئی خیمہ بستیاں اور مہاجرین کی آبادیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
درجنوں مقامات پر دریاؤں کے کنارے مکان پانی کی زد میں آ گئے ہیں۔ سیکرٹری ایس ایم ڈی محمد اکرم سہیل نے رابطہ پر بتایا کہ جمعہ کے دن 2 بجے تک آزاد کشمیر میں 33 افراد جاں بحق، 30 زخمی ہوئے ہیں۔ 418 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے جبکہ 560 مکانوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ 20 دکانیں، ایک سکول اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نقصانات کے ساتھ ساتھ کوائف اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ہمارے نزدیک دریاؤں کے پانی کی سطح 1992ء والے سیلاب کی جھلک دکھا رہی ہے جس میں اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا اور کئی ارب روپے کی لکڑی پر بھی ہاتھ صاف کر لئے گئے تھے اور متاثرین کی فوری امداد و بحالی کے حوالے سے پریشانی کا سامنا تھا۔ اب بھی سینکڑوں افراد سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ این جی اوز کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
وقت کے ساتھ ریسکیو کے اداروں نے ترقی کی ہے اور ان کے سربراہ، سینئر آفیسرز صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہں مختلف نوعیت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دیگر اداروں کے ساتھ مکمل کوارڈی نیشن کے ساتھ خود کو وقف رکھنا ہو گا۔ بارشوں سے پن بجلی کے منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ تاریں گری ہیں۔ اندرون طور پر بھی درجنوں مقامات سے رابطے کٹ چکے ہیں۔ لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
کئی اضلاع کے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے پانی و بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ایمرجنسی سروس سے متعلق آفیسران و عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے فیصلے بہترین ہیں۔ ان پر پوری کمٹمنٹ کے ساتھ عمل درآمد کی صورت میں متاثرین کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی۔ کئی مقامات پر شکایات کا سلسلہ شروع بھی ہو گیا ہے۔ امدادی ٹیموں نے بارش، لینڈ سلائیڈنگ میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت اتارا بھی ہے تاہم لوگوں کی رہنمائی کے ساتھ ہمدردی کا فریضہ انجام دیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان