بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مون سون بارشیں زحمت بن گئی
آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔۔۔۔۔ہلکی پھوار کے ساتھ ہونے والی بارش کے باعث کئی گھروں کی چھتیں گر گئی ہیں جس میں 100 کے قریب معصوم بچوں کے ساتھ خواتین و مرد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں
چودھری محمد اشرف:
پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں چار موسم پائے جاتے ہیں۔ ان چار موسموں کی وجہ سے پاکستان بہت زیادہ اہمیت کا حامل ملک ہے۔ گرمی، سردی، بہار اور خزاں کا موسم پاکستان کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ گرمی کا موسم آتا ہے تو ہمارے ملک کے بعض حصوں میں ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اگر سردی کا موسم شروع ہو جائے تو بھی ریکارڈ سردی معمولات زندگی کو درھم برھم کر دیتی ہے۔
اسی طرح موسم گرما کے اختتام پر مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، پری مون سون 15 مئی جبکہ مون سون 15 جون سے شروع ہوتا ہے۔ مون سون کا اختتام 15 ستمبر کو ہوتا ہے اکثر اوقات مون سون مون اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوتے ہی اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ صوبائی دارلحکومت لاہور سمیت پنجاب کے اکثر علاقوں میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
ندی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جس کی بنا پر صوبائی حکومت کے ساتھ ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول کی انتظامیہ بھی حرکت میں آ چکی ہے تاہم شدید بارشوں کے باعث امدادی کاموں میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پنجاب اور کشمیر میں جاری مون سون کی شدید بارشوں سے جہاں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے وہیں پر انسانی جانوں کی ضیاع بھی ہوا ہے۔
ہلکی پھوار کے ساتھ ہونے والی بارش کے باعث کئی گھروں کی چھتیں گر گئی ہیں جس میں 100 کے قریب معصوم بچوں کے ساتھ خواتین و مرد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ حکومتی مشنری نے سیلابی کی صورتحال سے نمبٹنے کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر رکھا ہے اور اپنے عملے کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ امدادی کاموں میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔ صوبائی دارلحکومت لاہور جس کا شمار ترقی یافتہ شہروں میں ہوتا ہے اس میں کچے مکانوں کی چھتیں گرنے سے 20 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ پکے مکانوں کے لینٹروں سے پانی رسنا شروع ہو گیا ہے۔
لاہور کی اکثر شاہراہوں پر بڑی مقدار میں پانی کھڑا ہونے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے شہر میں نئی سڑکیں بنائے جانے کی وجہ سے بعض علاقوں زیر آب آ گئے اور پانی لوگوں کے گھروں میں گھس گیا۔ پانی کی بڑی مقدار لوگوں کے گھروں میں گھسنے کی وجہ سے لوگوں کا قیمتی سامان خراب ہو گیا۔ لاہور کے علاقے لکشمی چوک میں آ تک پانی کے نکاس آب کو نظام موثر نہیں بنایا جا سکا ہے یہی وجہ ہے جب بھی کبھی بارش ہوتی ہے کہ لکشمی چوک کا علاقہ سیلاب کی صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔
لاہور کے پوش علاقے جن میں گلبرگ، ماڈل ٹاون، ڈیفنس، جوہر ٹاون جیسے علاقے میں زیر آب آ گئے ہیں جس کی بنا پر ان علاقوں کے رہائشیوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے تاہم کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ اپنی گھروں کی چھتوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مون سون کی بارش کو زحمت کی بجائے رحمت بنا دے۔ ہم اپنے قائرین کو محکمہ موسمیات کی جانب سے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں کی پیشگوئی کے حوالے سے خوشخبری دیتے ہیں کہ ہفتہ کی شام کو مون سون کی موجودہ بارشوں کے سلسلہ میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے گی اور معمول کی بارش ہوگی۔
لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، گجرات، راولپنڈی میں بھی سیلابی صورتحال کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث ہونے والی تباہی کا خود جائزہ لینے کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی انتھک محنت کی وجہ سے پنجاب کی سرکاری مشنری پوری طرح حرکت میں ہے۔ پاک فوج جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستانی عوام کی خدمت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ صوبے میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر پاک فوج کے جوانوں نے ہنگامی بنیادوں پر اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لی ہیں۔ ماضی میں جب کبھی ملک میں سیلاب آیا ہے ہمارے فوجی جوانوں نے لوگوں کی مدد کر کے انہیں محفوظ مقام تک پہنچایا تھا۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان فوج کو بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں امدادی کاموں کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پنجاب کے علاقوں سیالکوٹ، ناروال، ہیڈ مرالہ، وزیر آباد اور جلال پور جٹاں میں فوج بھیج دی گئی ہے جبکہ لاہور کے قریب شاہدرہ میں بھی فوج کو امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ملک میں جہاں پنجاب کے وسطی علاقوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں بارش کے باعث مٹی کا تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو کہ مون سون کے حوالے سے تمام صورتحال کی سرکاری محکموں کو اپنی رپورٹ بھجواتے ہیں تاکہ ہر سکاری محکمہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔

محکمہ موسمیات کی جانب یکم ستمبر سے 5 ستمبر تک ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی بارش کے ریکارڈ کے مطابق اب لاہور شہر میں 291 جبکہ لاہور ائرپورٹ پر 244 ملی میٹر جبکہ دیگر شہروں اسلام آباد ائرپورٹ پر 316، زیر پوائنٹ میں 308، جہلم 205، قصور 202، مری 242، فیصل آباد میں 226، شاہدرہ میں 333، منگلہ میں 338، گجرات 248، سیالکوٹ میں 316، سیالکوٹ ائرپورٹ 245، راولاکوٹ میں 440، گلگت میں 212، کوٹلی میں329 ، گڑھی ڈوپٹہ میں 178 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان