بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مودی پاکستان کیلئے سب سے بڑا موذی ثابت ہوگا
نریندرا مودی نے آداب مہمان نوازی کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا تو پھر نواز شریف کو بھی مہمان بے زبان نہیں بننا چاہیے تھا۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت ان کی بھارت یاترا کے حق میں نہیں تھی
مرزا محمد اعظم:
سیکولر بھارت میں برسرِاقتدار آنے والے مذہبی انتہا پسند رہنما نریندر مودی کی مجبوری تھی کہ وہ اپنی تقریب حلف برداری میں پاکستانی وزیراعظم کو مدعو کریں تاکہ ان کے دامن پر لگے مذہبی انتہاپسندی کے داغ پھیکے پڑسکیں اور دنیا ان کے متعلق اپنا تاثر تبدیل کرلے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے ان کی دعوت پر تقریب حلف برداری میں شرکت کر کے ان کی یہ خواہش پوری کردی ہے کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں اور اہم ترین اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ہی بھارت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اپنے بھارتی ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں دوستی، خیر سگالی اور دو طرفہ خوشگوار تعلقات کی امید لے کر گئے تھے لیکن نریندر مودی نے تمام تر سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ہاتھ میں پانچ سنگین الزامات کی فہرست تھمادی اور ہمارے رہنما ماضی کی تلخیوں اور الزامات کی سیاست کو بھول کر آگے بڑھنے کی بات کر کے واپس لوٹ آئے۔
وزیراعظم نوازشریف کو چاہیے تھا کہ اگر میزبان نے آداب مہمان نوازی کو ملحوظ کاطر نہیں رکھا تو پھر انہیں بھی مہمان بے زبان کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں رہنا چاہیے تھا۔ بھارت الزامات کے جواب میں نواز شیرف کو بھی مسئلہ کشمیر، بلوچستان مین بھارتی مداخلت کا معاملہ، پاکستانی دریاؤں کے پانی پر بھارتی ڈاکہ اور دیگر مسائل اٹھانے چاہیے تھے لیکن میاں صاحب خاموشی سے واپس چلے آئے اور انکے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز صاحب نے یہ وضات کرنا ضروری نہیں سمجھی کہ بھارتی وزیراعظم نے ہمارے وزیراعظم کو جو چارج شیٹ تھمائی ہے وہ ملاقات کے ایجنڈے میں شامل تھی یا نہیں؟
ایک برس قبل میاں نواز شریف نے اپنی تقریب حلف برداری میں اس وقت کے بھارت وزیراعظم سردار منموہن سنگھ کو مدعو کیا تھا لیکن بھارتی وزیراعظم نے اس دعوت کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا تھا بلکہ اس کے بعد بھارت کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سرحدوں پر کشیدگی خطرناک حد تک بڑح گئی تھی۔

میاں نوازشریف نے اگرچہ تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد بھارت جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت ان کی بھارت یاترا کے حق میں نہیں تھی۔ شنید ہے کہ دفترِ خارجہ نے بھی انہیں بھارت نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن لیکن میاں نواز شیرف اپنے موجودہ دور حکومت کے پہلے روز سے ہی بھارت کے ساتھ دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھانے کی باتیں کررہے تھے اس لیے انہوں نے مودی کی دعوت قبول کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی اور کشاں کشاں بھارت جاپہنچے جہاں انہوں نے نئے وزیراعظم کے علاوہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور بھارتی صدر پرناب مکرجی کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم پاکستان اگر ان ملاقاتوں میں ہی پاکستانی موقف بیان کردیتے تو شاید ان کا یہ دورہ حلال ہوجاتا ۔ وزیراعظم تو بھارت کے ساتھ تعلقات کو 1999ء کی سطح سے دوبارہ شروع کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اور بھارتی وزیراعظم نے سرسری ملاقات میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی حالانکہ اس متعصب اور مسلم کور بھارتی وزیراعظم کو خوش کرنے کیلئے بھارت جانے سے قبل وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پاکستانی جیلوں میں بند 150سے زائد بھارتی مچھیروں کو باعزت طریقے سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

وطن واپس پہنچے کے بعد تنقید سے بچنے کیلئے وزیراعظم کے قریبی ساتھی بے سروپا اور لایعنی توجیہات پیش کررہے تھے تو اسی روز بھارت کی نئی وزیر خارجہ سشما سوراج پریس کانفرنس میں پاکستان کو رگڑادے رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ بم دھماکوں کی گونج میں امن کی باتیں نہیں کی جاسکتیں۔ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان بھارت کے حوالے کرنا ہونگے اور اپنی سرزمین بھارت کی خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دینا ہوگی۔
اس کے باوجود موجودہ پاکستانی حکومت کے دل میں بھارت کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے اور جنگ کی بھاشا بولنے والوں کو امن کی آشا کا پیغام دینے کی سعی ناکام ہنوز جاری ہے۔
وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ بھارت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مجاہد صحافت ڈاکٹر مجید نظمی نے واضح کیا تھا کہ مودی پاکستان کیلئے سب سے بڑا موذی ثابت ہوگا کیونکہ ہندواتا کے فلسفے پر کاربند نریندر مودی کی اصل تنظیم دہشت گرد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو حکومتی مدد اور تائید بھی حاصل ہوجائے گی۔
نریندر مودی کے مسلمانوں سے پاک اکھنڈ بھارت کے خواب کو مدنظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ان کے برسرِ اقتدار آں ے کے بعد بلوچستان میں بھارتی مداخلت میں اضافہ ہوجائے گا۔
یہ بجا کہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان اس اولین ملاقات میں امن کا راستہ اختیار کرنے کے دعوے اور وعدے کئے گئے لیکن سوال یہ ہے کہ قیام امن کے حوالے سے بھارت کتنا مخلص ہے؟ کیا نریندر مودی واقعی امن کی راہ پر آگے بڑھنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے متمنی ہیں؟ پاکستانی وزیراعظم کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کرنا نریندر مودی کی چالاکی تو ہوسکتی ہے لیکن ان کی جانب سے امن کا پیغام کسی طور قرار نہیں دی جاسکتی اور اس کا سب سے بڑا ثبوت الزامات کی وہ فہرست ہے جو انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو تھمائی ہے۔
اس کا دوسرا سب سے بڑ ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں زیادہ تر توجہ بھارت کے داخلی مسائل کو اجاگر کرنے پر دی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوائے پاکستان مخالف بیانات کے کچھ نہیں کہا تھا۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی وزیراعظم کے خیالات آج بھی وہی ہیں جو انتخابی مہم بلکہ گجرات کی وزارت اعلیٰ کے دور میں تھے۔ بھارت کے ایک تہائی سے زیادہ حصے میں مختلف قومیتوں کی علیحدگی پسندی کی تحریکیں جاری ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت میں اگر ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آجاتا ہے تو نریندر مودی اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کریں گے۔

وزیراعظم میں نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو پاکستان آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی تاہم اس حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا نریندر مودی اس وقت تک پاکستان نہیں آئیں گے جب تک پاکستان ان کے جملہ مطالبات تسلیم نہیں کرلیتا۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ مستقبل قریب یا بعید میں بھارتی وزیراعظم کے پاکستان آنے کا کوئی امکان موجود ہے۔

میان نواز شریف کو مدعوکر کے نریندر مودی نے ایک ماسٹر سٹروک کھیلا اور میاں نواز شریف نے بھارت جا کر مہارت اور صفائی سے اس سٹروک کا جواب دے دیا، یہاں تک بات قابل قبول ہے لیکن اس دورے کر نتیجے میں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی توقات پوری ہونے کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کے ایک منٹ طویل مصافحہ کو خاص رنگ دینے کی کوشش کرنے یا اسے قیام امن اور تعلقات کی بحالی کی نوید قرار دینا درست نہیں ہے۔
اگر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بلکہ دشمنی ختم کرنا مقصود ہے تو اس کیلئے علامتی مصافحہ یا سفارتی خوشدلی سے آگے دیکھا ہوگا۔ نریندر مودی نے سارک تنظیم کے سربراہان کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کر کے اپنی متنازعہ شخصیت کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی ہے۔
جہاں تک میاں نوازشریف کی اس خواہش کا تعلق ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو 1999ء کی سطح سے دوبارہ شروع کرنے کے آرزو مند ہیں تو انہیں علم ہونا چاہیے کہ اتنے برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی نہیں بلکہ کئی سمندر بہہ چکے ہیں۔
آج بھارت میں اٹل بہاری واجپائی کی بجائے نرینرمودی برسرِ اقتدار ہیں جن کے دامن پر گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں اور جو جلد ہی پورے بھارت کو گجرات میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے دورہ بھارت نے پاکستانی عوام کو مایوس کیا ہے اور اب یہ ان کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق مسئلہ کشمیر کے حل، بھارت کی آبی دہشت گردی، بلوچستان میں بھارتی مداخلت او افغانستان میں بھارت کی پاکستانی مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے دو ٹوک، ٹھوس اور خالصتاََ پاکستانی موقف اختیار کریں ۔ بصورتِ دیگر پاکستانی عوام صرف بھارت کے ساتھ دوستی کو ہی نہیں بلکہ اس دوستی کی شدید خواہش رکھنے والوں کو بھی مسترد کردیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-09

(4) ووٹ وصول ہوئے