بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مودی کا ناکام دورہ مقبوضہ کشمیر
کانگریس کی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے جبکہ بی بے پی کی بغل میں چھری اور منہ میں بھی چھری ہے۔۔۔۔۔ بی جے پی کے نیتاوں کا خیال تھا کہ بھارت میں ہمارے اقتدار میں آنے کی دہشت سے ہی کشمیر لرز جائیں گے
ارشاد احمد ارشد :
بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں کے کشمیر کے بارے میں عزائم کبھی بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ کشمیر ایک سیدھا سادھا معاملہ تھا جسے کانگریس کے نیتاوٴں نے ایسا اُلجھایا کہ 67 سال گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے۔ کانگریس کے بعد اب بی جے پی پرسر اقتدار آئی تو وہ کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کشمیر بی جے پی کے خصوصی ایجنڈے پر ہے۔ مودی بار بار ریاست جموں کشمیر کے دورے کر رہے ہیں ۔اہل کشمیر کو جھکانے ڈارنے اور توڑنے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ بی جی پی مسلم دشمن کے حوالے سے ایک خاص شہرت رکھتی ہے۔کانگریس نیتاوٴں کی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے جبکہ بی جے پی کی بغل میں بھی چھری اور منہ میں بھی چھری ہے۔بی جے پی کے نیتاوں کا خیال تھا کہ بھارت میں ہمارے اقتدار میں آنے کی دہشت سے ہی کشمیر لرز جائیں گے۔
مجاہدین بھاگ جائیں گئے، عسکری کارروائیاں رُک جائیں گی اور عسکریت دم توڑ دے گی۔بھارت کے موجودہ وزراعظم مودی کو موڈی کہا جاتا ہے لیکن مودی درحقیقت مسلمانوں کیلئے بھڑیا ہے ۔ اس بھیڑیے نے اقتدار سنبھالنے کے مختصر دورانیہ میں مقبوضہ جموں کشمیر کے متعدد دورے کئے ہیں۔ظاہر بات ہے ان دوروں کا مقصد بھی کشمیر عوام کو ڈرانا دھمکانا اور جھکانا ہے۔
چنانچہ مودی نے 8 دسمبر کو ایک بار پھر مقبوضہ جموں کشمیر کے دورے کا قصد کیا۔ اس دورے کا مقصد دنیا کو یہ بتلانہ مقصود تھا کہ مقبوضہ وادی میں جاری انتخابی ڈارمے کو کشمیری دل سے قبول کر چکے ہیں۔ وادی میں امن قائم ہو چکا اور عسکریت پسند دبک چکے ہیں۔ مجاہدین نے مودی کی آمد سے صرف دو دن قبل بھرپور عسکری کارروائیاں کر کے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں عسکریت زندہ ہے۔
مجاہدین موجود ہیں۔وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں بھارتی فوج پر ضرب کاری لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارتی فوج کا 67 سال یہ وطرہ رہا ہے کہ وہ مقدس ایام میں مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے ۔ عیدین، رمضان المبارک ، شب قدر اور جمعہ کے دن خصوصاََ مسلمانوں کو تنگ کیاجاتا ہے۔ 5دسمبر جمعہ کے دن ہی مجاہدین نے بھی بھارتی فوج کو سرپرائز دیا ور 12 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر 5 زور دار کارروائیاں کرکے اپنی برتری بھارتی فوج پر ثابت کر دکھائی۔

مجاہدین نے بھارتی فوج کے خلاف سب سے بڑا معرکہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک سری نگر مظفر آباد شاہراہ پر واقع فوجی کیمپ میں لڑا۔ حملے کے بعد کیمپ میںآ گ لگ گئی۔ جب فوجی جانیں بچانے کیلئے کیمپ سے باہر بھاگے تو مجاہدین نے انہیں چن چن کر نشانہ بنایا۔ اس حملے میں بھارتی فوج کا ایک کرنل اور ایک جونئیر کمشنڈ آفیسر سمیت 8 فوجی اہلکار جانیں گنوا بیٹھے۔
درجنوں زخمی ہوگئے اس حملے میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر کے علاوہ دو پولیس اہلکار بھی گولہ باری کی زد میںآ کر مارے گئے۔ یہ معرکہ آرائی سات گھنٹے جاری رہی جس میں طرفین کے درمیان شدید گولہ باری بھی ہوئی۔ اُسی روز مختلف مقامات پرمجاہدین چاراورحملے بھی کئے جن میں متعدد فوجی ہلاک ہوگئے۔ فوج کے ذرائع نے ان جھڑپوں میں دو مجاہدین سمیت لشکر طیبہ کہ ایک کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بھارتی فوج کے اعلیٰ عہدید اران نے انڈین ڈیفنس ریویو میں اپنے مضامین میں اعتراف کیا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں تیزی آئی ہے۔ مجاہدین نے سری نگر میں مودی کی آمد اور انتخابات سے قبل جو حملے کئے ان سے بھارتی فوج کا حوصلہ مزید پست ہوا ہے اور فوج کا تاریخی نقصان ہوا ہے جس میں ایک کرنل سمیت درجنوں فوجی مارے گئے ہیں۔ بھارتی فوج کے جنرل پرکاش کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ مجاہدین نے اپنی بھرپور اور کامیاب ترین کارروائی میں فوج کے پورے کیمپ کو اڑا دیا ہے۔
بھارتی جنرل کا مزید کہنا ہے کہ اس سے پہلے ٹنڈا کی کارروائی میں فوج کے بریگیڈ ئر کو ہلاک کیا تھا۔
بھارتی حکومت ، بھارتی چینلز اور بھارتی فوج نے حسب معمول تمام کارروائیوں کا ملبہ پاکستان اور جماعتہ الدعوة پر ڈال دیا ہے۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی تمام کارروائیاں 5 دسمبر جمعہ کے دن ہوئیں۔ 5دسمبر لاہور میں جماعتہ الدعوة کے اجتماع کا آخری دن تھا۔
بھارتی چینلز نے دور کی کوڑی لاتے ہوئے ان حملوں کی جماعت کے اجتماع اور پروفیسر حافظ محمد سعید کے خطبہ جمعہ سے جوڑا ہے۔ بھارتی چینلز کا کہنا ہے کہ جب مقبوضہ وادی میں فوجی کیمپوں اور فوج کی گشتی پارٹیوں پر حملے ہوہے تھے اس وقت بھارت سے صرف 25 کلومیٹر دور حافظ سعید ہمیں دھمکیاں دے رہے تھے۔ بھارتی چینلز نے زہرا گلتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ممبئی حملوں اور مقبوضہ وادی میں مارے جانے والے فوجیوں کے انتقام کی آگ صرف اور صرف حافظ سعید کے خون سے ہی بجھ سکتی ہے۔
حافظ سعید کے خلاف پروپیگنڈہ نئی بات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بھارتی چینلز حافظ سعید کے خلاف زہراگلتے ہوئے ی بھول جاتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حافظ سعید کا پیدا کردہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ اُن کے اپنے لیڈروں کا پیدا کردہ ہے۔ اگر بھارتی حکمران چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-22

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان