بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”مہنگی بجلی“
حقیقت یہ ہےکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اورلوڈشیڈنگ نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے کئی دلبرداشتہ ہو کر خود کشی جیسے فعل کے بھی مرتکب ہو جاتےہیں۔جبکہ بعض پریشانی کےعالم میں بجلی بل پھاڑنے اور جلانےپرمجبورہیں
بتول حسین :
بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے لوگوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔ خاص وعام نے ہائے بجلی ہائے بل کاواویلہ مچا رکھا ہے۔ دراصل ملک میں بجلی مہنگی ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تیل سے بنائی جا رہی ہے جبکہ پانی ،کوئلہ اور دیگر سستے زرائع کی طرف حکومت کی توجہ ہی نہیں جاتی۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں صارفین کو سب سے مہنگی بجلی کا سامنا ہے۔

”ایک تویہ بجلی ہمیں لے کر بیٹھ گئی ہے“، لوڈشیڈنگ کے باوجود بھاری بل کھانے کو ہو یا نہ اُن کی ادائیگی بہت ضروری ہے ، بھئی ایک بار ہی کیوں نہیں ، بم گرایا جاتا ، سسک سسک کر مارنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں“؟
لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ کے باعث خاص و عام اس قسم کی گفتگو کرنے پر مجبور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے کئی دلبرداشتہ ہو کر خود کشی جیسے فعل کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں۔
جبکہ بعض پریشانی کے عالم میں بجلی کے بل پھاڑنے اور جلانے پر مجبور ہیں حالانہ اس کا خمیازہ بھی بعد میں اُنہیں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
پہلے سال دو سال بعد بجلی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوتا تھا جو اتنا محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن اب ماہانہ بنیادوں پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کے ہوش اُڑا دیئے ہیں۔پیپلز پارٹی دور حکومت کے پہلے سال میں جب آئی ایم ایف ورلڈ بنک سے قرضے لینے کی شرائط قبول کی گئیں تھیں تو اُس نے بھی یہ کہا گیا تھا کہ قرضہ واپس کرنے کیلئے بجلی تین سو سے چار سو فیصد تک مہنگی کرنی پڑے گی۔
جس پر پورے ملک میں ایک کھلبلی سی مچ گئی تھی۔ اس صورت میں زرداری حکومت اپنے فیصلے کی تروید کرتے ہوئے ہر ماہ بجلی کی قیمت کو بڑھاتی رہی جس سے بجلی انتہائی مہنگی ہوگئی ۔ اس پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے موجودہ حکومت نے صرف ایک سال میں بجلی کی قیمت ڈبل کر دی۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیاء کا واحد ملک ہے جہاں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اس کے مقابلے میں بھارت میں بجلی فی یونٹ 7.56 روپے جبکہ پاکستان میں یہ اضافہ گزشتہ ایک سال سے تقریباََ 37 فیصد دیکھنے میںآ یا ہے اور عام صارفین کو یہ 20 روپے فی یونٹ فراہم کی جارہی ہے۔

ملک میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی متعدد وجوہات ہیں۔ آبی وسائل محفوظ کرنے کیلئے ڈیمز کا نہ ہونا اس کا ایک بڑا سبب ہے۔سابقہ ادوار سے اب تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہواہے۔فرانس آئل کی قیمت 2006-07 کے دوران بیس ہزار چھ سو چار روپے فی میٹرک ٹن تھی جو 2013-14 میں 72 ہزار ایک سو چانتیس روپے تک پہنچ گئی۔

بجلی کی پیداواری منصوبوں کے حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مالی سال2013-14 کے لئے انکشاف کیا تھا کہ اس میں پن بجلی کی حصہ 34 فیصد فرنس آئل کا 35 فیصد اور گیس کا 33 فیصد ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2005 سے 2012 تک بجلی کی پیداواری ذرائع کا تعین اس طرح ہے۔
2005 ۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔2012
تیل ۔۔۔۔۔۔ 16 % ۔۔۔۔۔۔37 %
گیس۔
۔۔۔۔۔ 52 % ۔۔۔۔۔۔26 %
پانی۔۔۔۔۔۔ 30 % ۔۔۔۔۔۔31 %
کوئلہ۔۔۔۔۔۔ 0 % ۔۔۔۔۔۔ 1 %
دیگر ذرائع ۔۔۔۔۔۔ 1 % ۔۔۔۔۔۔6 %
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بتدریج تیل سے بجلی پیدا کرنے میں اضافہ ہواہے مضحکہ خیز امریہ ہے کہ جب بجلی کی لوڈشیڈنگ کادورانیہ مزید طول پکڑ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے تیل دستیاب نہیں تھا۔ جس کے باعث کئی فیڈر بھی بند کئے جاتے ہیں۔
جس کا عذاب بھی عوام کی ہی بھگتنا پرتا ہے لیکن دیگر ذرائع پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ بجلی کی پیداوار کا سب سے سستا ذریعہ پن بجلی ہے جو پاکستان میں بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ اگرچہ گیس بھی بجلی کی پیداوار کے لئے سستا ذریعہ ہے لیکن یہ بھی ملک کے بجلی کے نظام کی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ۔ اسی طرح ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ذریعے انتہائی زیادہ ہیں۔
لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ۔ سورج سے بھی بجلی انتہائی سستے داموں پیدا ہو سکتی ہے ۔ اس طرح بھی توجہ نہیں دی جارہی۔ کھاد سے بھی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کوئلے سے بھی بجلی کی طلب کو کافی حد تو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کوئلے کے موجودہ ذخائر سے دو سو سال تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صارفین سے بجلی کی جو قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں وہ پیداواری سٹرکچر اورٹرانسمیشن کی لاگت اور بجلی کی تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کی بنا پر ہے۔

نہ جانے حکام یہ بات کیوں نظرانداز کر رہے ہیں کہ متبادل ذرائع سے سستی اور زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ پیدا واری سٹریکچر کے ذمہ دار عوام نہیں، حکومت ہے ۔ پڑوسی ملک بھارت میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان بے حد زیادہ ہے اور ہم اس طرف آتے ہی نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام پر مزید بجلی کے بم گرانا بند کئے جائیں ورنہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان