بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مزدور کی کم ازکم اجرت 13ہزار کا سرکاری نوٹیفکیشن ؟
پنجاب میں4سے9ہزار تک اجرت پانے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے دوسری جانب حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ پنجاب میں محکمہ لیبر کی جانب سے لیبرایکٹ پر عمل درآمد ہی نہیں کروایا جا سکا ۔ یہاں سرکاری فائلوں میں مزور کی تنخواہ 13 ہزار مقرر ہے
ہمارے ہاں کئی کنالوں پر محیط فارم ہاوٴس اور قلعے نما گھروں میں رہنے والوں کے غریبوں کے حق میں دیئے گئے بیانات سپرہٹ جاتے ہیں۔ ہماری سیاست اور انتخابی مہم کا محور بھی مزدور کے حقوق کے گرد نظر آتا ہے۔ لینڈ کروزرز کے قافلوں میں جلسہ گاہ آنے والے ہاتھ لہراتے ہوئے مزدور کی زندگی بدل دینے کے نعرے لگا کر میلہ لوٹ لیتے ہیں۔ اس سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے ہر حکومت کچھ ایسے اقدامات بھی کرتی ہے جس کی بنیاد پر اگلے انتخابات میں اپنے مزدور دوست ہونے کا دعویٰ کر سکے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری فائلوں کے اندر لکھی کہانی اور زمینی حقائق میں بہت فرق ہوتا ہے جہاں ”سب اچھا“ کی رپورٹ دی جاتی ہے عموماََ وہیں ”سب اچھا“ نہیں ہوتا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کم از کم اجرت 13ہزار مقرر ہے اس پر کافی بحث ہو سکتی کہ کیا آج کے اس پرآشوب دور میں ایک غریب شخص کے گھر کا بجٹ 13ہزار میں بن سکتا ہے؟ مکان کے کرایہ۔
بجلی۔ گیس۔ پانی کے بلوں ، بچوں کی فیسوں ،کچھ کا راش، بیماری اور دیگر مسائل کا سامنا 13ہزار کی تنخواہ میں ممکن ہے یا نہیں۔ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ہم فی الوقت اس بحث میں نہیں جاتے کیونکہ خبر اس سے بھی زیادہ بھیناک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے مزدور کی کم از کم اجرت13ہزار مقرر ہے۔ جس کا اعلان ہی نہیں بلکہ باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ پنجاب میں محکمہ لیبر کی جانب سے لیبرایکٹ پر عمل درآمد ہی نہیں کروایا جا سکا ۔ یہاں سرکاری فائلوں میں مزور کی تنخواہ 13 ہزار مقرر ہے لیکن زمینی حقائق کے مطابق پنجاب میں 4سے9ہزار تک میں مزدوری کرنے والوں کی تعداد 20لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جو بھی مالک مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 13ہزار کے حکم پر عمل نہیں کرے گا لیبر ڈیپارٹمنٹ اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
اس کے باوجود پنجاب کے صرف چند بڑے شہروں میں 4سے9 ہزار روپے ماہانہ جرات پر کام کرنے والوں کی تعداد20 لاکھ سے زیادہ ہ۔ چھوٹے شہروں میں کیا صورت حال ہو گئی اس کا محض اندازہ ہی لگا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی فیکٹریاں ایسی بھی ہیں جہاں 3 سے 4ہزار روپے ماہانہ اجرت پر بھی کام لیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح پنجاب میں سکیورٹی کمپنیاں انتہائی کم پیسوں پر سکیورٹی گارڈز سے کام لے رہی ہیں۔
بہت سے مالکان اپنے ملازمین کو نہ تو میڈیکل کی سہولت دیتے ہیں اور نہ ہی انہیں پوری تنخواہ دی جاتی ہے ۔ صوبے میں کم عمر بچوں کو اور ٹائم یعنی اضافی مشقت کرانے کے باوجود صرف 5 ہزار تک تنخواہ دی جاتی ہے۔
سوا ل یہ ہے کہ کیا حکومت کی غریب دوستی صرف کاغذات کی حد تک محدود ہے؟ اگر یہی روش رہی تو اگلے برس بے شک کم از کم اجرت 13ہزار کی بجائے13لاکھ کر دی جائے کیونکہ مزدور کو تو نہ 13ہزار ملنے ہیں اور نہ ہی 13لاکھ لیکن شاید حکومت ایسے دعووٴں سے اپنا قد کاٹھ بلند کر پائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ محض خانہ پری نہ کی جائے۔ا یسے منصوبے فائلوں میں جتنے بھی اچھے ہوں ان سے مزدور کا چولہا نہیں جلتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان احکامات پر عملدرآمد بھی کرایا جائے۔ محکمہ لیبر سمیت متعلقہ محکموں کو فعال کرنا ضروری ہے۔اسی طرح مالکان سے حصہ لے کر سب اچھا کی رپورٹ دینے والے راشی افسروں اور اہلکاروں کا احتساب بھی ضروری ہے جس ملک میں چھاپے مارنے والے گریڈ بارہ کے اہلکاروں نے لاکھوں کی گاڑیاں اور مہنگی ہاوٴسنگ سوسائیٹز میں بنگلے بنا رکھے ہوں وہاں کا مزدور13ہزار کے نوٹیفکیشن کے باجود 4ہزار ہی پاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان