بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مولانامحمد علی جوہر
میں نہ تو ذومعنی باتیں جانتا ہوں اور نہ مصلحت کے غلاف چڑھا کر خطاب کرنا میرا شیوہ ہے ۔ بات وہی میں اترتی ہے جو صاف ہو! بامعنی ہو، سہل ہو اور سیدھی ہو، جس بات کے عقب میں خوف ہویا جس سخن کے ساتھ تذبذب ہو اور۔۔۔
رائے محمد کمال:
لندن میں گول میز کانفرس پر انگریز کو للکارتے ہوئے فرمایا ایک روایت شکن اور روایت ساز خطاب فرمایا تھا ۔ یہ اس ناقابل فراموش تقریر کا آخری حصہ ہے ۔ میری رگوں میں وہی خون ہے جس سے لارڈریڈنگ کی رگیں معمور ہیں جنہوں نے مجھے قید کیا تھا میں سامی نسل سے تعلق رکھتا ہوں ، اگر لارڈریڈنگ نے صیہونیت سے برگشتگی اختیار نہیں کیا ۔
میں جہاں پہلے تھا وہیں اس وقت ہوں ۔ کاش انگلستان میں آپ کے پاس کوئی ایک آدمی بھی ایسا ہو جو درحقیقت انسان ہو، جودل ودماغ رکھتا ہو ۔ ڈیلی ہیرالڈ “ لکھتا ہے کہ میں نے اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا ہے ۔ اور گورنمنٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں میں کہتا ہوں کہ شیطان کے ساتھ مل کر بھی کام کر سکتا ہوں بشر طیکہ خدا کے راستے میں کام کرنا ہو ۔ آج میں جس مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں وہ یہی ہے کہ جب میں اپنے ملک کو واپس جاؤں تو آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو میں ایک غلام ملک میں واپس نہ جاؤں گا ۔
میں ایک غیر ملک میں جب تک کہ وہ آزاد ہے مرنے کو ترجیح دوں گا اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دے سکتے تو پھر آزاد ملک میں آپ کو میرے لیے قبر کی جگہ دینا پڑے گی ۔ ( مولانامحمد علی جوہر کا خطاب شعلہ وشبنم کا آمیختہ ہوا کرتا تھا۔ ایک اور موقع پر ان کے جوہر خطابت ملا حظہ کیجئے ) ۔
” میں نہ تو ذومعنی باتیں جانتا ہوں اور نہ مصلحت کے غلاف چڑھا کر خطاب کرنا میرا شیوہ ہے ۔
بات وہی میں اترتی ہے جو صاف ہو! بامعنی ہو، سہل ہو اور سیدھی ہو، جس بات کے عقب میں خوف ہویا جس سخن کے ساتھ تذبذب ہو اور لہجہ لیپاپوتی کا ہو ، وہ بات کسی حال میں مئوثر نہیں ہوتی ۔ وہ سونا نہیں ملمع ہے ۔ وہ کاغذ کا پھول ہے جو خوشنما ہو سکتا ہے ، خوشبودار نہیں ۔ میں لگی لپٹی رکھنے کا عادی نہیں ۔ وہ زمانہ لدگیا جب الفاظ کے ہیر پھیر کا سہارا لیا جاتا تھا ۔
اب اس طرح کہو جس طرح بادل برستے اور بجلی کڑکتی ہے ۔ وہی بات اندھیروں کو چیر سکتی ہے جس میں تلوار کی کاٹ ہے ۔
میں کھلے الفاظ میں کہتا ہوں کہ برطانیہ کو ہندوستان سے چلے جانا چاہیے ۔ اس کی حکومت ہمارے قومی شرف اور انسانی وجود کی توہین ہے ۔ کوئی غیرت مند شخص اپنی توہین برداشت نہیں کرتا ۔ ہندوستان للکار رہا ہے کہ برطانیہ کو اس کی دھرتی سے چلے جانا چاہئے ۔
ہم فی الحال ترک حولات اور عدم تشدد کے شریفانہ ہتھیاروں سے ہندوستان چھوڑدینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ جس قوم کی آزادی سلب ہو جائے ، اس کو حق پہنچتا ہے کہ غاصبوں کے ساتھ ہر طرح لڑے جو ہتھیار اُٹھانا چاہتی ہے ، اُٹھائے ۔ اس راہ میں ہر ہتھیار جائز ہے ۔ ہم نے ایک الاؤروشن کیا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان میں حکومت برطانیہ دم واپسیں تک پہنچ چکی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-14

(0) ووٹ وصول ہوئے