بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
معصوم زائرین کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا
مستونگ کے صدیوں پرانے روٹ پر زائرین کی خدمت کرنا مقامی لوگوں کا اعزاز ہے مستونگ میں زائرین کی بس پر خود کش حملے کے نتیجہ میں 24افراد ہلاک جبکہ 39زخمی ہوگئے
ریاض اختر:
دہشت گردی کے بعد فرقہ واریت کے نام پر ملک دشمنوں نے پاکستان کی بنیادیں ہلاکررکھ دیں ہے،بم دھماکوں سے آئے روزمعصوم شہری گاجر،مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں،ملک دشمن عناصر کبھی طالبان بن کر اور کبھی فرقہ ورانہ اور کبھی نسلی فسادات کرواکر معصوم شہریوں کا قتل عام کررہے ہیں۔منگل کو مستونگ میں زائرین کی بس پر خود کش حملے کے نتیجہ میں 24افراد ہلاک جبکہ 39زخمی ہوگے،یہ زائرین زیارات کے بعد ایران سے پاکستانی سرحدی علاقے تفتان کے راستے کوئٹہ آرہے تھے کہ کوئٹہ سے 80کلومیٹر کے دور جب یہ بس ضلع مستونگ میں داخل ہوئی تو درین گڑھ کے مقام پر بس کے قریب بم کا زور دار دھماکہ ہوا جس سے بس میں آگ لگ گئی،دھماکے کے نتیجہ میں بس کے آگے جانے والی سیکیورٹی وین میں سوار اہلکاربھی شدید زخمی ہوگئے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کا مطابق دھماکے میں 100 کلوسے زیادہ بارودی مواد استعمال ہوا،شیعہ علما کونسل،مجلس وحدت المسلمین اور تحفظ عزاداری کونسل نے زائرین کی بس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان بھر میں 3روز سوگ اور بدھ کو کوئٹہ میں ہڑتال کی۔اس واقع کی صدر پاکستان ممنون حسین،وزیر اعظم نواز شریف،وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے بھی بھرپور انداز مذمت میں کی۔
کوئٹہ سے ایران،عراق ،سعودی عرب سمیت دیگر عرب ملکوں میں جانے کے لئے تفتان کا یہ راستہ صدیوں سے راہ داری کے طورپر استعمال ہورہا ہے۔دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ نے یہاں سے سپلائی لائن کے طور پر بھی اس راستے کو استعمال کیا،کوئٹہ سے تفتان تک 635کلومیٹر کا یہ راستہ چٹیل پہاڑوں اور ویران علاقے سے گذرتا ہے جہاں میلوں تک کوئی ایک گھر بھی نظر نہیں آتا۔
کوئٹہ شہرسے جب تفتان کے لئے زائرین جاتے ہیں تو بائی پاس روڈ کے ذریعے سب سے پہلے وہ نوشگی پھر دالبندین، نوکنڈی اور پھر تفتان پہنچتے ہیں۔پنجاب،خیبرپختونخوا،سندھ اور بلوچستان کے لوگ زیارات اور حج کے لئے صدیوں سے یہی روٹ استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔جس سے مقامی بلوچوں کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہاں کی قدیم روایات میں سے زائرین کی خدمت کرنا انہیں کھانا کھلانا،پانی پلانا حتیٰ کہ رات کو ٹھہرانا بھی شامل ہے۔
بلوچ حج اور زیارات کو جانے والے زائرین کی خدمت کرکے خوش ہوتے ہیں۔ برسوں پہلے تفتان تک جانے والی سڑک پر میلوں تک ایک بھی پولیس یا سیکورٹی کا اہلکار نہیں ملتا تھا۔ یہ علاقہ پرامن اور محبت کرنے والے قبائلیوں کا گھر ہے۔ جن کی روایات انتہائی مضبوط ہیں۔مگر بدقسمتی سیاب یہ خطہ غیر ملکی ایجنسیوں اور ملک دشمن عناصر کے مقاصد پورے کرنے والوں کا گڑھ بن کر رہ گیا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران ضلع نوشگی بلوچ علیحدگی پسندوں،طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کا گڑھ بن گیا ہے۔اس علاقے میں پولیس اور فوج جانے سے گھبراتی ہے جبکہ مقامی سردار بھی ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔کوئٹہ سے تفتان جانے کے لئے ضلع نوشگی کے اس ریڈ زون سے گذرنے کے لئے کم از کم تین گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے،دھشت گرد تنظیموں کے آپس میں گہرے رابطے ہیں اور وہ غیر ملکی اشاروں پر ملک میں افراتفری اور فساد پھیلانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔
بلوچستان جوکہ تیل وگیس سمیت سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے ، اس میں درجنوں آئل فیلڈ پر سکیورٹی کی وجہ سے کام بند پڑا ہے۔ جبکہ دیگر معدیانات کے منصوبوں پر کام کاج کے لئے حالات ساز گار نہیں۔پاکستان کی ترقی کا نشان گوادر پورٹ بھی دنیا کے ممالک کو کانٹے کی طرح چب رہا ہے،اس پورٹ کو ناکام کرنے کے لئے بعض مسلم ممالک بھی بلوچستان میں اپنی کارروایاں جاری رکھے ہوئے ہیں،گوادر پورٹ چائنہ کو سپرد کرنے پربھارت سمیت دیگر مغربی ممالک کو سخت رنج بھی ہے جوکہ گوادر کو ہر قیمت پر ناکام کرنا چاہتے ہیں،گوادر فنگشنل ہونے سے سے ایران کی چاہ بہار پورٹ بھی صفر ہوکررہ گئی ہے۔

گوادر کے ذریعے سنٹرل ایشیائی ریاستوں تک رسائی انتہائی آسان ہوگئی ہے اور کم فاصلہ اس کی سب سے نمایاں خوبی ہے،کوئٹہ جو کہ پاکستان کی ترقی کا نشان ہے جہاں کھربوں ڈالر کے قیمتی ذخائر دفن ہیں میں دشمن کبھی امن وامان نہیں چاہتا، اس کے لئے اسے چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے وہ دریغ نہیں کرے گا،حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ دیکھ لیا ہے اور اب اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ جو ایک گولی چلائے گا اس پر دس گولیاں چلائی جائیں گی۔
اگر کوئٹہ میں بھی حکومت امن چاہتی ہے تو تمام مصلحتوں کو بالائی طاق رکھ کر آپریشن کلین اپ کرے تاکہ مٹھی بھر دھشت گردوں کا یہاں سے قلع قمع کیا جاسکے۔بلوچستان حکومت سمیت دیگر قومی لیڈروں نے بلوچستان کے حالات کے بارے میں وفاقی حکومت کے آگے ہمیشہ رونا رویا اور مطالبہ کیا کہ دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے،اور غیر ملکی اشاروں پر صوبے میں امن وامان کو سبوثاڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
اب جبکہ حکومت نے طالبان کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ دیگر علاقوں میں جہاں جہاں طالبان یا کالعدم مذہبی جماعتیں دھشت گردی پھیلارہی ہیں کے خلاف آپریشن کرے اور لگے ہاتھوں ملک کے تمام حصوں سے دھشت گردوں کا قلع قمع کردے۔طالبان کے خلاف آپریشن پر قوم بہت خوش اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور جب حکومت فرقہ واریت کے نام پر قتل وغارت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کرے گی تو بھی قوم اسی طرح حکومت کا ساتھ دے گی،تاکہ آئندہ کسی کا معصوم بیٹا،بیٹی،بھائی یاباپ یوں دھشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھ سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-24

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان