بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسیحاوٴں کی ٹارگٹ کلنگ
بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کے خوف سے شہر قائد کے ڈاکٹر ز یا تو موت کی آغوش میں سو چکے ہیں یا پھر اپنی جان بجانے کیلئے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس معاملے پر خصوصی توجہ دے
یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی سال سے کراچی جیسا اہم شہر بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کی لپیٹ میں ہے۔ شہر بھر میں آزادانہ پھرنے والے قاتلوں سے مسیحا بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کے خوف سے شہر قائد کے ڈاکٹر ز یا تو موت کی آغوش میں سو چکے ہیں یا پھر اپنی جان بجانے کیلئے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس معاملے پر خصوصی توجہ دے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کرے جو بلاتفریق سب کی جان بچانے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔

کراچی پاکستان کا اہم تجارتی شہر ہے۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ کراچی کے حالات کا براہ راست اثر پاکستان بھر کی معیشت پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عناصر دہشتگردی کے حوالے سے کراچی کو خصوصاََ اپنے ”فوکس “ میں رکھتے ہیں۔دوسری جانب سند حکومت بھی کراچی کے حالات بہتر بنانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ کراچی جیسا روشنیوں کا شہر طویل عرصہ سے خوف وہراس کا شکار ہے ۔
آئے روز ہونے والی ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور اغواء برائے توان کی وارداتیں اس شہر کے باسیوں کا معمول کا حصہ لگنے لگی ہیں۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ تو معمول کی بات ہے لیکن اب اس کا ایک اور رخ بھی واضح ہو رہا ہے۔ چند سالوں سے ڈاکٹرز کو خصوصاََ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے نوٹس میں بھی ہے۔ ڈاکٹرز اس معاملے کو اُٹھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود صوتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کراچی میں ڈاکٹرز خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔

کراچی میں ڈاکٹرز کو قتل کرنے کی وارداتوں کے حوالے سے بعض ڈاکٹرز نے اپنے کلنکس اور گھروں کے باہر ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں بھی پولیس اور میڈیا کو آگاہ کیا۔ایسے متعدد ڈاکٹروں کو پیشگی اطلاع کے باوجود پولیس فورس نہ بچا سکی اور نہ ہی اُنہیں کسی قسم کا تحفظ فراہم کیا گیا۔ پولیس کو پیشگی اطلاع کے باوجود ٹارگٹ کلرز اُنہیں قتل کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔
صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے اکثر ڈاکٹروں کو تو حملہ آور قتل کر کے چلے گئے لیکن متعدد کو پہلے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔ ان کے گھروں پر فائرنگ اور کلینک پر دستی بم سے حملے کئے جاتے ہیں۔ یہ حملے واضح پیغام ہوتا ہے کہ اُنہیں ڈھیل دی گئی ہے ورنہ براہ راست ان پر بھی گولیاں برسائی جا سکتی تھیں۔ اکثر ڈاکٹر یہ ” پیغام “ سمجھ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود یاتو وہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں یا پھر عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آخر ڈاکٹروں کو کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ اس بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹروں کے قتل میں لسانی اورفرقہ واریت کا عنصر خاص متحریک ہے۔ اُن کے نزدیک ڈاکٹر محض ایک مسیحا نہیں ہوتا بلکہ یہ عناصر اُنہیں مذہب اور فرقہ واریت کے پیمانے پر رکھتے ہیں۔ کراچی کے متعدد ڈاکٹر دیوبندی ، شیعہ، سنی، وہابی اور احمدی ہونے کی وجہ سے قتل کئے جاچکے ہیں۔

ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے دوسرا بڑا عنصر بھتہ خوری کی بھی ہے۔ ہمارے ہاں عام تاثر یہی ہے کہ ڈاکٹر ز بہت امیرہوتے ہیں اس لئے بھتہ مافیا اُنہیں مختلف طریقوں سے پیغام بھیجتا ہے اور بھاری رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔ عموماََ ڈاکٹرز اُن کا بھاری مطالبہ پورا کر دیتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس مافیا کو انکار کرنے کا مطلب جان سے ہاتھ دھونا ہی ہے ۔
اس کے بعد اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ بھتہ مافیا کا پہلا مطالبہ ہی ڈکٹرز بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں کہ اگلے ماہ وہ ایک بار پھر بھاری رقم کا مطالبہ کر دیتے ہیں ۔ جب ڈاکٹر کیلئے یہ رقم ادا کرنا ممکن نہیں رہتا تو اس کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہوئے آخرت سے سفر پر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور رُخ یہ بھی ہے کہ کسی عام شہری کو قتل کرنے سے یہ خبریں اس طرح نہیں پھیلتی جس طرح ڈاکٹر کو قتل کرنے سے پھیلتی ہے۔
ڈاکٹرز کا وسیع حلقہ احباب ہوتا ہے اور سینکڑوں لوگ اُن کے پاس علاج کرانے آتے ہیں۔ اسلئے جب کسی علاقے میں ڈاکٹر کو قتل کیا جائے تو اس کے اثرات دور تک پھیلتے ہیں ۔ خصوصاََ سینئر ڈاکٹرز اور سرجنزکے قتل کی خبر سالوں تک ذہن سے محونہیں ہوتی۔ ایسے قتل جہاں علاقے میں ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کا خوف پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہیں شہر بھر میں خوف کی فضا بھی قائم کر دیتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر کے قتل کی خبر کی گونج ملکی میڈیا میں بھی سنائی دیتی ہے۔ جس سے اُن ملک دشمن عناصر کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ جو پاکستان میں خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1995 سے اب تک126 ڈاکٹروں کو ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان میں سے بھی 17 کو گزشتہ برس قتل کیا گیا اور رواں برس کے آغاز میں ہی دو ڈاکٹروں کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا جا چکا ہے۔
کراچی کے بیشتر ڈاکٹرز اس صورتحال سے خوفزدہ ہو کر ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ بعض ڈاکٹرز کو ٹارگٹ کلرز کے خوف سے بیرون ملک منتقل ہو گئے تھے ان کے خاندان کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے یہ ڈاکٹر یا تو بیروں ملک رقم بھیجنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا پھر اپنے خاندان کے دیگر افراد کو ملک سے باہر لے جانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صورتحال کی سنگینی کا احساس کرے اور اسے سیاسی مفادات کیلئے نظرا نداز نہ کرے۔بھتہ مافیا کے سات ساتھ دیگر ممالک دشمن عناصر بھی یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کسی کی جان و مال کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اب فوجی وسیاسی قیادت کو مل کر اس مسئلہ کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ جب تک کراچی سے ملک دشمن عناصر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک نہ تو پاکستان ترقی کر پائے گا اور نہ ہی پڑھا لکھا طبقہ اپنی خدمات پاکستان کیلئے وقف کر سکے گا۔ ملکی ترقی کیلئے وطن عزیز کے عام شہریوں کو تحفظ دینا بہت ضروری ہے۔ اب اس جانب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان