بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مقبوضہ سڑک
پاکستان کی سرزمین میں کچھ ایسی کشش ہے کہ جہاں کہیں کوئی خالی جگہ دیکھتا ہے۔ اُس پر قبضہ کر لیتا ہے۔اگر کسی سے قبضہ نہیں ہوتا تو ہو کم از کم قبضہ کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اُنہوں نے سن رکھا ہے
خان بابا:
پاکستان کی سرزمین میں کچھ ایسی کشش ہے کہ جہاں کہیں کوئی خالی جگہ دیکھتا ہے۔ اُس پر قبضہ کر لیتا ہے۔اگر کسی سے قبضہ نہیں ہوتا تو ہو کم از کم قبضہ کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اُنہوں نے سن رکھا ہے کہ اگر نیکی کر نہیں سکتے تو کم از کم نیکی کرنے کی نیت ہی کر لو۔ اس کا بھی ثواب ہے لہٰذا جو لوگ قبضہ کرنے کی جرات یاصلاحیت نہیں رکھتے وہ بھی دل میں نیت ضرور رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کئی کنال پرمشتمل پلازوں نے بھی فٹ پاتھ پر قبضہ کیا ہوتا ہے۔ بازار میں چلے جائیں توبہت بڑی دکان ہونے کے باوجود دکان سے زیادہ جگہ سڑک پر گھیر رکھی ہوتی ہے۔بازار میں گاڑی لے کرجانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو چکا ہے ۔اگر کوئی غلطی سے گاڑی لے جائے تو دکاندار اس گاڑی اور گاڑی والے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں اس سے اُسے سبق مل جاتا ہے کہ آئندہ اس بازار میں خریداری کے لیے نہیں آنا ۔
پھر یہی دکاندار مختلف وظائف اور عملیات کے ذریعے گاہکوں کو بلانے کی کوششیں کرتے ہیں مگر اُنہیں کامیابی نہیں ملتی۔ آئے روز مختلف شہروں میں بلدیہ کا تہہ بازاری کا عملہ ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف آپریشن کرتا ہے مگر جائز یا جائز تضاوزات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لاہور میں میٹروبس کا منصوبہ اس لیے بنایا تھا کہ اُنہیں معلوم ہوا کہ لاہور میں ٹریفک کاہجوم بہت زیادہ ہو گیا ہے،شہریوں کو شہر میں سفر کرنے میں بڑی دشواری پیش آتی ہے۔
اس لیے انہیں کوئی متبادل راستہ اور سواری دی جائے۔چنانچہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں لاہور میں27 کلومیٹر لمبا خاص ٹریک بنایا گیا ہے یہ ٹریک کہیں تو زمین سے بلند ہے اور کہیں سڑک کے برابرہے۔ لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ اس منصوبے سے پنجاب بھر کے لوگ مستفید ہوں گے مگر بعد میں معلوم ہو اکہ پورا بھی اس سے فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔ بلکہ زیادہ تر لاہوریوں کو اس سے فائدہ کی بجائے اُلٹا نقصان پہنچا ہے۔
شہر میں سفر کرنے والے بتاتے ہیں کہ پہلے جو سفر وہ ایک گھنٹے میں کرتے تھے اس ٹریک کی وجہ سے 60سے70 منٹ میں مکمل کر لیتے ہیں ۔ پہلے جہاں سے 40 کلومیٹر کی رفتار سے گزرجاتے تھے وہاں سے اب 8سے 10 کلو میٹر فلی گھنٹہ کی رفتار سے گزر جاتے ہیں۔ شاید یہ ٹریک وقت کے اسی فرق کیلئے تعمیر کیا گیا ہے۔
بات ناجائز قبضہ کے حوالے سے ہو رہی تھی۔توقع تھی کہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ ناجائز قابضین سے محفوظ رہے گا ۔
لاہوربھر میں ٹریفک کا رش داتا دربار کے باہر بہت زیادہ ہے۔ یوں بھی یہاں زائرین آتے رہتے ہیں اور اس راستے پر کسی موٹرسائیکل یا گاڑی والے کا کوئی بس نہیں چلتا۔
وزیر پنجاب نے اپنے اس ”عظیم الشان“ منصوبے کی کامیابی کے بعد روالپنڈی، اسلام آباد ، ملتا ن اور فیصل آباد میں بھی میٹروبس کے منصوبے شروع کئے۔ جن میں سے روالپنڈی کا منصوبہ مکمل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔
چند روز قبل ایک خبر سے معلوم ہواہے کہ راولپنڈی میں مریڑچوک کے قریب اس ٹریک سے کنکریٹ کا ایک ٹکڑا گر کی ایک راہگیر کو لگا جس سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بعد میں اس کے لواحقین کو حکومت اور دیگر مخیر اداروں کی طرف سے لاکھوں روپے کی امداد مل گئی ۔ اربوں روپے مالیت کے منصوبوں میں سے اگر چند لاکھ کسی ایسے کام میں چلے بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ایسے اقدامات کو سرے سے ہی روکا جائے۔
اربوں روپے مالیت کے منصوبوں میں جب اس طرح کے گھپلے یا بے ضابطگیاں نظر آتی ہیں تو عوام یقینا یہ سوچتے ہیں کہ آخر اُن کی اپنی کیا وقعت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-10

(0) ووٹ وصول ہوئے