بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لیاری تشدد میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے!!
علیحدگی پسندوں اور گینگ وار کا گٹھ جوڑ توڑنا ہوگا بابالاڈلہ اور عذیرجان بلوچ کے درمیان لیاری میں گینگ وار جاری ہے۔ اب یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ لیاری کے تشدد میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے جو گینگ وار کو سرمایہ بھی فراہم کر رہا ہے
شہزاد چغتائی:
لیاری میں گینگ وار گروپوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقوں کے کنٹرول کی جنگ شروع ہو گئی ہے ۔ عذیر جان بلوچ کے جانثاروں کے بابا لاڈلہ گروپ کی پسپا کر کے ساحلی علاقوں پر گرفت مضبوط کر لی ہے۔ لیاری میں رینجرز کا آپریشن شروع ہونے کے بعد عذیر بلوچ گروپ کے کارندوں نے ملیر اور میمن گوٹھ میں پناہ لے لی ہے۔ اس علاقے میں گینگ وار کا مکمل کنٹرول ہے اور وہاں سے انہیں یومیہ لاکھوں روپے بھتہ ملتا ہے۔
اس کے علاوہ یہاں اغواء برائے تاوان کی وار داتیں بھی عروج پر ہیں۔
بابالاڈلہ اور عذیرجان بلوچ کے درمیان لیاری میں گینگ وار جاری ہے۔ اب یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ لیاری کے تشدد میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے جو گینگ وار کو سرمایہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ لیاری سے لے کر کراچی کے ساحل تک گینگ وار اور علیحدگی پسندوں کا گٹھ جوڑ ہے اور دونوں کے رابطے اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں
لیاری میں رینجرز کے آپریشن کے بعد مطلوب افراد ساحلی علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں علیحدگی پسندوں نے انہیں بلوچستان بھجوادیا اور وہاں پڑوسی ملک نے اپنی سرحدیں بلوچ نوجوانوں کیلئے پہلے ہی کھول دی ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں ترغیبات بھی دی جارہی ہیں۔ پہلے کراچی میں یہ دعوے کیے جاتے تھے کہ عذیر جان بلوچ کو علیحدگی پسندوں کو روکنے کیلئے بیٹھایا گیاہے۔
نیا سال پولیس اور رینجرز کے لئے ابھی تک اچھا ثابت نہیں ہوا۔ سال کے پہلے 18 دنوں میں 18 پولیس والے قتل ہوئے اور 4ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنایاگیا جبکہ مجموعی طور پر 20 روز میں 100افراد جان کی بازی ہارگئے۔
سابق صدرآصف زرداری نے پولیس شُہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شُہدا کے لواحقین کے ایک ایک کڑور روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس فاونڈیشن کی تقریب میں آصف زرداری نے شُہدا کے بچوں کے سر پر نہ صرف ہاتھ رکھا بلکہ انہیں نوکریاں دینے کی بھی ہدایت کی۔ گزشتہ سال 150 پولیس والے شہید ہوئے تھے جن میں ایس ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک تمام عہدوں کے لوگ شامل تھے۔
زیادہ تر پولیس والے کراچی کے شمالی علاقوں میں مارے گئے ہیں جہاں طالبان علیحدگی پسندوں اور گینگ وار کا کنٹرول ہے۔ ایس ایس پی چوہدری اسلم اور انسپکٹر شفیق تنولی کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا اور طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ حکمران پولیس کے شُہدا کے لئے بڑے بڑے معاوضے اور نوکریوں کے اعلانات تو کرتے ہیں لیکن معاوضے کے چیک اور نوکریاں نہیں ملتیں۔
شُہدا کے گھروں میں فاقے ہوتے ہیں اور ان کے بچے دربدر پھرتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے اس بات کا خاص طور پر نوٹس لیا اور استفسار کیاکہ شہداء کے بچوں کو نوکریاں کیوں نہیں دی گئی؟ المیہ یہ بھی ہے کہ پولیس خود اپنی حفاظت میں ناکام ہے تو وہ شہریوں کی حفاظت کیا کرے گئی؟ پولیس کا شہر پر کنٹرول صرف اس حد تک ہے کہ وہ سٹرک سے گزرنے والے رکشاوں اور موٹر سائیکل سواروں کی چیکنگ کرتی ہے اور ان سے دن بھرکی کمائی چھین لیتی ہے۔
شہریوں سے رقم چھینتے ہوئے بھی کئی پولیس موبائلوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
کراچی کی یونیورسٹی روڈ ”قاتلوں کی جنت“ بن چکی ہے جہاں اب تک 50 افراد قتل کیے جا چکے ہیں جن میں اہم شخصیات ،صحافی ،ڈاکٹر ، وکیل ، پروفیسر ، سرکاری افسر، پیش امام سب شامل ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس شاہراہ پر کیمرے نصب نہیں ہیں۔ کے ایک سی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو جس مقام پر قتل کیا گیا وہاں جامعہ کراچی کے پروفیسر شکیل اوج اور دوسرے افراد کوبھی گھات لگا کر مارا گیا تھا۔
کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ یوسف طلعت سنیئر صحافی نذیر خان کے صاحبزادے تھے۔
کراچ میں جاری آپریشن کو قومی ایکشن پلان کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ا س آپریشن کو سندھ بھی میں توسیع دیدی جائے گی۔ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے سندھ کی چوٹی کی کمیٹی اور ذیلی کمیٹیوں کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ سانحہ پشاور سندھ کی بیورو کریسی کیلئے رحمت ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وزیراعظم جب کراچی آپریشن کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرنے کیلئے کراچی آئے تھے تو حکومت سندھ نے اسلحہ اور جدید آلات خریدنے کیلئے 10ارب مانگ لئے تھے۔
اب حکومت سندھ نے کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کیلئے 32 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ لگاتے ہوئے یہ رقم چار قسطوں میں ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب آئی جی جیل خانہ جات نے بھی جیلوں کی حفاظت کے لئے اربوں کے فنڈز کا تقاضا کیا ہے۔ اگر وفاق نے ان مالی تقاضوں کو پورا کیا تو بیورو کریسی کی عقابی نگاہیں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بجائے فنڈز کے حصول پرمرکوز ہیں۔ سندھ میں امن اومان پر پہلے ہی 52ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان