بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لوڈشیڈنگ سے بیزار عوام اور کاروباری طبقہ
وزیرمملکت اور وفاقی وزیر پانی و بجلی کے بیانات اور دعووٴں کے برعکس بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ،اس کے اعلانیہ دورانیے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس طرح ایک تو بجلی کی لوڈشیڈنگ 18گھنٹوں سے تجاوز کر چکی ہے
احمد جمال نظامی:
اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ سابقہ سالوں کی طرح انتہائی حد کو پہنچ چکی ہے۔ وزیرمملکت اور وفاقی وزیر پانی و بجلی کے بیانات اور دعووٴں کے برعکس بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ،اس کے اعلانیہ دورانیے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس طرح ایک تو بجلی کی لوڈشیڈنگ 18گھنٹوں سے تجاوز کر چکی ہے دوسرا تین تین گھنٹے متواتر بجلی غائب رہتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں متواتر پانچ سے چھ گھنٹوں تک بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی اس قدر متاثر ہو رہا ہے کہ عوام سمیت ہر مکتبہ فکر کے احباب کو گیارہ مئی 2013ء سے قبل کے تمام سیاسی جماعتوں کے وعدے اور بلند بانگ دعوے یاد آنے لگے ہیں۔ اس وقت بجلی کی شارٹ فال 45سو میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ وزیراعظم نے مزید ایک ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سٹیشن میں آ جانے کی عوام کو نوید سنائی ہے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ناقابل برداشت ہے جسے کم کر کے سات گھنٹوں تک کیا جائے۔
18 فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہوئی تھی اور وفاق میں پیپلزپارٹی نے مخلوط حکومت بنائی تھی۔ پیپلزپارٹی اپنے پانچ سال کے دوراقتدار کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں نہ صرف بری طرح ناکام رہی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی اس پارٹی کے اقتدار کے دوران بجلی کا بحران مزید سنگین ہوا اور اس بابت مسائل دوچند ہو گئے۔
ان مسائل اور بحرانوں پر ہر طرف سے احتجاج ہوتا رہا۔ میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے ہوئے بھی صوبہ پنجاب میں احتجاج کرتے رہے۔ کیمپ آفس مینار پاکستان کے پاس قائم کر کے علامتی احتجاج جاری رکھا ۔ پنجاب میں پن بجلی کے منصوبے، چنیوٹ میں ڈیم اور دیگر اضلاع میں نہروں پر چھوٹے ڈیم بنا کر بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہے مگر بجلی کا بحران جوں کا توں رہا۔
ان اعلانات کے دوران آئین میں اٹھارویں ترمیم کے تحت کیونکہ وفاق سے صوبوں کو بہت سارے اختیارات دے دیئے گئے تھے۔ ان اختیارات کو جواز بنا کر ہی حالیہ گزرنے والے انتخابات کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، مسلم لیگ(ن) کی پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے کہ اس نے اپنے صوبے میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کیوں شروع نہ کئے۔
یہ بات بڑی حد تک جائز بھی ہے لیکن اس کا اطلاق اس وقت تحریک انصاف پر بھی ہوتا ہے جو خیبر پی کے میں حکمران جماعت ہے۔جس کی کارکردگی سوشل میڈیا پر عوام کا ذہن گمراہ کرنے کے علاوہ اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ وفاق میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے۔ پنجاب میں بھی حکمران جماعت ن لیگ ہی ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اقتدار پر براجمان ہے، صوبہ خیبر پی کے میں عمران خان کی تحریک انصاف اقتدار میں موجود ہے۔
بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومت قائم ہے۔ اس صورت حال میں صوبہ پنجاب جب ملک کی کل آبادی کا 60فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے سابقہ دور کے اعلانات کے باوجود چنیوٹ میں دریائے چناب کے مقام پر ڈیم بنانے کے بوجوود ابھی تک اس پر عمل نہیں کر سکے۔ انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر دریائے چناب کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کے لئے آئندہ دنوں میں پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والے بجٹ میں اس کے لئے فنڈ مختص کر دیں۔
کم از کم پن بجلی کے آٹھ سے دس منصوبوں کے لئے بجٹ مختص کیا جائے اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب اپنی تمام تر قابلیت، تجربے اور انقلابی اقدامات سے ان منصوبوں کو ایک سال کے اندر اندر مکمل کروائیں۔ یہی وہ اقدامات ہیں جن سے پنجاب کے اندر بجلی کے بحران پر زیادہ سے زیادہ قابو پایا جا سکے گا۔ سندھ حکومت کی بات کریں تو پیپلزپارٹی نے دوسری مرتبہ قائم علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ منتخب کروا یا ہے۔
اندرون سندھ میں کوئلے کے بیش بہا ذخائر موجود ہیں۔ تھرپارکر کے علاقے میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مند مبارک اپنا تمام تر ریسرچ ورک مکمل کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدرمملکت آصف علی زرداری بھی اندرون سندھ اس بڑے منصوبے کا مل کر افتتاح کر چکے ہیں۔ اب سندھ حکومت پر بھی فرض اولین ہے کہ وہ کم از کم اندرون سندھ کوئلے اور گیس کے ذخائر زیادہ سے زیادہ دریافت کر کے بجلی کے منصوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے مطابق کامیابی سے مکمل کرے۔

صوبہ خیبر پی کے کی بات کریں تو عمران خان کے دعوے یاد آتے ہیں جو صوبہ خیبر پی کے کے پہاڑوں سے اور گلیشیئرز سے بہہ کر آنے والا پانی سمندر میں ضائع ہونے پر انتخابات کے دوران شہبازشریف کو ہدف تنقید بناتے تھے۔خیبر پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے، عمران خان انتخابات میں دھاندلی پر واویلہ تو ضرور کر ر ہے ہیں مگر صوبہ خیبر پی کے میں آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے ان کی حکومت کا ایک پلان بھی سامنے نہیں آ سکا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پوری تحریک انصاف کا کام صرف اور صرف سوشل میڈیا کے ذریعے چلایا جا رہا ہے؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صوبہ خیبر پی کے میں اگر آبی ذخائر زیادہ بڑے نہ سہی چھوٹے موٹے بھی تعمیر کئے جائیں تو پہاڑوں سے بہنے والے گلیشیئرز کا اتنا پانی ہے کہ اس سے صوبہ خیبر پی کے میں بجلی کے بحران کو ختم کر کے صوبہ خیبر پی کے کی حکومت اضافی بجلی پیدا کر سکتی ہے۔
کیا آج بھی صوبہ خیبر پی کے کے پہاڑوں سے گلیشیئرز اور قدرتی چشموں کا بہنے والاپانی ماضی کی طرح سمندر میں ضائع ہوتا رہے گا۔ اس بارے میں صوبہ خیبر پی کے کی حکومت یا پھر جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر سراج الحق بجٹ میں چھوٹے بڑے آبی ذخائر کیلئے رقوم کیوں مختص نہیں کرتے۔ عمران خان اور نوازشریف سیاست کے لئے ایک دوسرے کو مل سکتے ہیں تو ملک کے مفاد کے لئے کیوں نہیں ملاقات ہو سکتی۔
اس وقت ملک کے عوام لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں سخت بیزار ہیں۔ جبکہ حکمران خود اپنی سہولت کیلئے لاکھوں روپے کا ایندھن جلا کر جنریٹروں کے ذریعے بجلی حاصل کر لیتے ہیں۔ آخر یہ حکمران کب اپنا قبلہ درست کریں گے؟ عوام انہیں سربازار اور اپنے گھروں، دفاتر اور ہر مقام زندگی پر لعن طعن کر رہے ہیں، ان پر کسی چیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بھارت سے تجارت کا راگ الاپنے سے بہتر ہو گا کہ ملک اور قوم کے باسیوں کو کم از کم لوڈشیڈنگ کے بحران پر نجات دلائی جائے۔
اب اس ڈرامے کوبھی بند کر دیا جائے کہ وزیرپانی و بجلی ہر روز بجلی چوروں کی نشاندہی کریں اور بجلی کے کنکشن کاٹ کر سیاسی نمبر سکورنگ کی جائے مگر عوام پہلے کی طرح ہی سخت گرمی میں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرتے رہے۔ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا توصنعتیں بند ہوتی رہیں گی مزدور بیروزگار ہوتے رہیں گے، تجارت تباہ ہوتی رہے گی اور شعبہ زراعت بھی رو بہ زوال رہے گا۔عوام کو بجلی چاہیے اگر بجلی چوروں کا قلع قمع کرنا ہے تو پھر حکومت انہیں اب تک کیوں عبرت کا نشان نہیں بنا سکی۔ کیا حکومتی صفوں میں بھی چوروں کے ساتھی موجود ہیں ؟
تاریخ اشاعت: 2014-05-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان