بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لیاری کا میدانِ جنگ
یہاں حکومت کا وجود ہی نہیں ہے لیاری کے دو طاقتور ترین گروپوں یعنی عزیر جان بلوچ اور بابا لاڈلہ گینگ نے ایاز لطیف پلیجو کی مصالحتی کوششوں کے بعد 15مارچ کو حیدر آباد میں سیز فائر کا اعلان کیا تھا
ایان خان:
ویسے تو پور اشہر قائد ہی اس وقت مجرمانہ سرگرمیوں اور لاقانونیت کا مرکز بنا ہوا ہے مگر کراچی کا علاقہ لیاری خصوصاََ گینگ وار اور جرائم پیشہ گروپوں کے چنگ میں ہے۔ کافی عرصہ سے یہاں رہنے والے ان گروپس کے درمیان جاری خونی جنگ کا شکار رہے ہیں اور بیشمار معصوم اور بے گناہ افراد بھی اس طاقت اور قبضہ کی لڑائی کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔
کئی مہینوں تک مسلسل قتل و غارت گری کے بعد پچھلے ڈیڑھ مہینے سے متحارب گروپوں کے درمیان سیز فائر ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود لیاری میں اب بھی خوف کی فضا قائم ہے۔ جرائم پیشہ گروپوں کے زیر زمین چلے جانے اور جنگ بندی کے اعلان کے باوجود گھر چھوڑ کر چلے جانے والے لوگ اِکّا دُکّا واپس آرہے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ اپنے عزیز رشتہ داروں کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔
ہاتھو ں میں شناختی کارڈ پکڑے گھروں کی ٹوٹی کھڑکیوں اور لوٹ مار کے بعد بچی کھچی اشیاء کو دُکھ بھری نظروں سے دیکھتے یہ لوگ اب بھی دہشت اور خوف کا شکار ہیں۔
لیاری کے دو طاقتور ترین گروپوں یعنی عزیر جان بلوچ اور بابا لاڈلہ گینگ نے ایاز لطیف پلیجو کی مصالحتی کوششوں کے بعد 15مارچ کو حیدر آباد میں سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد مقامی انتظامیہ کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اب لیاری میں مکمل امن قائم ہوجائے گا۔
مگر ڈیڑھ ماہ قبل لیاری میں ہونے والے قتل و غارت میں مارے جانے والے شعیب بلوچ کے ایک کزن کا کہنا ہے کہ میرے کزن کو نام نہاد پیپلز امن کمیٹی کے لوگوں نے قتل کیا۔ اس صورتحال میں لیاری کے لوگ کس کے بھروسے پر گھروں کو واپس جائیں اور کیسے امن کی امید کریں۔ اس کا کہنا ہے: ”ہمارے بھائیوں کو ہماری نظروں کے سامنے مار دیا گیا، قاتلوں کو پکڑنے یا سزا دینے والا بھی کوئی نہیں ، مرد ہونے کے ناطے میں تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح بھاگ دوڑ کرسکتا ہوں مگر ہماری عورتوں کا کیا بنے گا؟“
ایسی ہی باتیں ایک مقامی دکاندار نے بھی کیں، جس کا کہنا ہے کہ ” میں کبھی بھی لیاری واپس نہیں جاؤں گا، خواہ میرے کاروبار کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے۔
مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے، وہ پچھلے تین مہینے سے سکول نہیں جا سکے۔“
لیاری کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ”گینگ وار“ نے مقامی شہریوں کی زندگیوں کو دردناک بنا دیا ہے۔ وسرے گروپ سے ہمدردی رکھنے یا اس تک معلومات پہنچانے کے شبہ میں لووں کو ان کے گھروں یا کام کی جگہوں سے اٹھالیا جاتا اور اس سے طرح طرح کے سوالات پوچھے جاتے اور تشدد کیا جاتا۔
زیادہ شبہ ہونے پر بے دریغ گولی مار دی جاتی ۔ بیشمار غم زدہ خاندان ایسے ہیں جن کے کسی فرد کو ایسے ہی شبہ میں زندگی سے محروم کردیا گیا۔ ایسے شبہ میں قتل کیے جانے والے شخص کی میت کو دفن کرنے کیلئے بھی اہلخانہ کسی دوسرے علاقے میں لے جاتے تھے کیونکہ ایسے افراد کی تدفین کے موقع پر جرائم پیشہ عناصر نے فائرنگ کر کے متعدد بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
الغرض لیاری کراچی بلکہ پاکستان کا ایک ایسا میدانِ جنگ ہے جہاں بے گناہ انسانوں کے خونکی ہولی کھیلنا معمول ہے۔ جہاں قانون یا انصاف کاکوئی نظام نہیں اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں بلکہ الٹا ان کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔
فقیر کالونی کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ یہاں سرگرم گینگ کم عمر لڑکوں کو 500روپے یومیہ پر بھرتی کرتے ہیں اور انہیں تین کام سونپے جاتے ہیں۔
دشمن گینگ کیسرگرمیوں پر نظر رکھنا، آس پاس ہونے والیی سرگرمیوں بشمول پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور منشیات فروخت کرنا۔
منشیات فروشی لیاری کے گینگز کیلئے کمائی اور فنڈز اکٹھے کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔حشیش اور دیگر منشیات افغانستان سے چمن اور کوئٹہ کے راستے یہاں پہنچائی جاتی ہے۔ منشیات کے ڈیلر کو مطلوبہ مقدار میں فراہمی پر تقریباََ 60ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں جبکہ مقامی پولیس انچارج کو بھی منہ بند رکھنے کیلئے کچھ حصہ دے دیا جاتا ہے۔
فقیر کالونی کے رہائشیوں کو ایک نام تو اتر سے سننے کو ملتا ہے اور وہ ہے لالہ اورنگی جس کا تعلق لاڈلہ گینگ سے ہے۔ اس کے حقیقی نام سے کوئی واقف نہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لالہ اورنگی اپنے کچھ رشتہ داروں کے مارے جانے کے بعد خود گینگ وار کا حصہ بن گیا او اب اس کا نام خوف اور دہشت کا نشان بن چکا ہے۔
مقامی پولیس افسران کا کہنا ہے کہ متحارب گروپوں کے درمیان سیز فاء کے بعد قتل و غارت کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے، مگر سیاسی جماعتیں پولیس اور رینجرز کی علاقے میں موجودگی سے ناخوش ہیں اور نہیں چاہتیں کہ ان کے لوگوں کو روکا جائے۔
ان کے مطابق حالیہ آپریشن سے بھی حالات بہتر ہوئے ہیں مگر اصل بات تو یہ ہے کہ لیاری میں خوف ، دہشت اور بربریت کی جو فضا پھیل چکی ہے، مقامی لوگوں کیلئے اس سے نکلنا مشکل ہے، خصوصاََ ان حالات میں متحارب گروپ کسی بھی وقت سیز فائر ختم کر کے سرگرمیاں دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنوں کو کھونے کا غم سینے میں چھپائے، ڈرے سہمے شہریوں کو امن کے قیام کا یقین کون دلائے گا، ان کے خوف سے انہیں نجات کون دے گا؟
تاریخ اشاعت: 2014-04-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان