بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لیسکو، 30 کروڑ کا نیا فراڈ
لیسکوسے عوام کو براہ راست جتنی شکایات ہیں شاید ہی کسی اور ادارے سے ہوں۔ ایک طرف تو تمام تر واجبات ادا کر دینے کے باوجود لیسکو حکام دو دو برس تک میٹر لگانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں
لیسکوسے عوام کو براہ راست جتنی شکایات ہیں شاید ہی کسی اور ادارے سے ہوں۔ ایک طرف تو تمام تر واجبات ادا کر دینے کے باوجود لیسکو حکام دو دو برس تک میٹر لگانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔اوورمیٹر ریڈنگ ان کی پرانی عادت بن چکی ہے۔ زائد بل بھیجنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور شکایت پر بل درست کرنے کی بجائے اس رقم کو اگلے بلوں میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔
لیسکوکی ان عادات کی وجہ سے متعدد افراد پریشانی کی وجہ سے دل کے دورے کا شکار ہو چکے ہیں۔ہر دوسرے دن زائد بل آجانے کی وجہ سے پریشان حال شہریوں کی خودکشی کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ یقینا ان کے قائل وہ اہلکار اور افسران ہی ہیں جن کی لاپروائی اور غلطی کی وجہ سے یہ افران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ان کے قتل کا مقدمہ لیسکو افسران پر نہیں بنتا۔
اب تو مزید ایسے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ جنہوں نے لیسکو کی ہی نہیں حکومت کی بھی رہی سہی عزت خاک میں ملا دی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے افسران اور نجی بنک کی مبینہ ملی بھگت سے لیسکو کو کروڑوں روپے کانقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس فراڈ میں لیسکو کے شعبہ بلنگ ، کو لیکشن ، بینکنگ ، فنانس اور آئی ٹی سنٹر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں ۔
ابتدائی طور پر فراڈ کی رقم 30 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 2009 میں بجلی لیسکو کی اقبال ٹاوٴن ڈویژن میں 72 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا تھا لیکن افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے مجرموں تک نہیں پہنچا جا سکا۔ اس بار فراڈ کرنے والوں میں پھولنگر ،داتا دربار، ڈیفنس، کوٹ لکھپت، اور گلبرگ ڈویژن کو ہدف بنایا۔ یہ کروڑوں روپے کا فراڈ پتو کی میں واقع ایک نجی بنک کے ذریعے کیا گیا۔
اس فراڈ کے ذریعے نہ تو بلوں کی رقم لیسکو اکاونٹ میں آرہی تھی اور نہ ہی اگلے بل میں صارفین کے بقایاجات لگاے جار ہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت لیسکو عملہ کر کرپشن کی سزا صارفین کو دینا چاہتی ہے ؟ لیسکو حکام عمومی طور پر عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بلوں میں میٹر ریڈنگ میں غفلت کی شکایات تو اس قدر ہیں کہ ایسا لگنے لگا ہے جیسے باقاعدہ احکامات جاری ہوتے ہیں جو غلطی اور کرپشن نہیں کرے گا اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ترقی اور روشنی کی بات کرتے ہیں لیکن لیسکو کے افسران ان کی ناک کے نیچے کرپشن کا جو کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں وہ شاید ان کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان