بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا پیمرا کا کوئی وجود ہے؟
یہ صرف لائسنس بانٹنے تک محدود ہوگیا ہے۔۔۔یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کے متعدد ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈرامے اور پروگرام نشر کیےجاتےہیں۔ان میں بھگوان مندر اور ہندوانہ رسومات بھی گلیمرکیساتھ دکھائی جاتی ہیں
اسعد نقوی:
پاکستان میں میڈیا سے متعلق قوانین کی تاریخ نئی نہیں ہے بلکہ برطانوی نو آبادیاتی دور سے چلے آرہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد 1954ء میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ 1860ء میں جاری ہونے والے 12پریس قوانین کا کچھ کیا جائے۔ اس سلسلے میں اس وقت کی حکومت نے پریس کمیشن تشکیل دیا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ جائزہ لے کہ ان قوانین میں مزید ترمیم یا انہیں مربوط و یکجا کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اس کمیشن کی سفارشات بے ضرر سی تھیں۔ 1960ء میں جنرل ایوب خان نے پی پی او (پریس این پبلی کیشنزآرڈیننس) متعارف کرایا۔ اس کے ذریعے برطانوی دور کے بہت سے منسوخ شدہ قوانین کو اپ گریڈ کردیا گیا۔ 1962ء میں ماشل لاء ختم ہونے کے بعد اس آرڈیننس کو 1963ء میں ایک نئے ریگولیشن کے ساتھ بدلا گیا۔ اس سے میڈیا پر حکومتی کنٹرول کو مزید تقویت دی گئی یا انہیں مزید سخت کیا گیا۔
مثال کے طور پر ایک بڑی ترمیم کے ذریعے ایساکمیشن تشکیل دینے کی سفارش کی گئی جو کسی بھی پرنٹنگ پریس یا اخبار کے معاملات کی چھان بین کرسکے۔ پی پی او کے اجرا سے قبل بھی پاکستان پینل کوڈ (ضابطہ فوجداری) میں ایسے قوانین موجود تھے اور اب بھی ہیں جن کے ذریعے ایسی تمام ابلاغیاتی سرگرمیوں کیلئے سزا واضح ہیے جو ملک کے استحکام کیلئے نقصان دہ ہوں۔

1988ء میں 1963ء کے اس پی پی او کو حتمی طور پر منسوخ کر کے اس کی جگہ نیا قانون لایا گیا جو میڈیا کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتا تھا۔
2002ء میں جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر کے انتخابات کی آمد کے موقع پر سلسلہ وار کئی قوانین سامنے لا کر میڈیا کیلئے موافق قوانین کا خاتمہ کر دیا۔ ان قوانین میں ایسا آرڈیننس بھی تھا جسے 2002ء میں کابینہ نے باقاعدہ طور پر منظور کیا۔
اس کا مقصد آزاد الیکٹرونک میڈیا کیلئے خود مختار ریگولیٹری اتھارٹی تشکیل دینا تھا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کو ابتدائی طور پر وقارت اطلاعات و براڈ کاسٹنگ کے براہ راست کنٹرول میں رکھا گیا لیکن بعد میں میڈیا کے نمائندگان کے شدید تحفظات اور خدشات کی وجہ سے ان کی قانونی و آئینی ہیت تبدیل کردی گئی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آئینی حیثیت بھی پیمرا کو آزاد اور خود مختار نہ بناسکی اور وہ محض ”لائسنس جاری کرنے والا“ دفتر بن کر رہ گیا ہے۔

2005ء میں مشرف حکومت نے ہی پیمرا آرڈیننس میں پہلی ترمیم متعارف کرائی۔ 2007ء میں حالات کو دیکھتے ہوئے پیمرا میں دوسری ترمیم ہوئی جس کے تحت ایسے تمام موادکو پرنٹ یا براڈ کاسٹ کرنے پر پابندی لگا دی گئی جو براہ راست سربارہ مملکت، مسلح افواج کو ممبرز، انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ یا دوسرے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز ہو۔ اس کے علاوہ اس ترمیم میں مزید کئی نئے جرام بھی شامل کیے گئے اور پیمرا کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ ایک نئے مگر سخت ”رضاکارانہ ضابطہ اخلاق“ کا ڈرافٹ تیار کرے۔
پیمرا کی تشکیل کا ایک مقصد یہ بھی سمجھا جات اہے کہ یہ نجی ٹی وی چینلز کے آپریشنز کی سہولت کاری کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز کی وجہ سے میڈیا پر ریاستی اجارہ داری ختم ہوگئی جسے اس وقت تو پسند کای گیا لیکن بعد میں صورتحال زیادہ خراب ہونے لگی۔ 2002ء تک ریاستی سرپرستی میں چلنے والے تین ٹی وی چینلز تھے جبکہ 2008ء مین نجی ٹی وی چینلز کی تعداد 50سے زائد ہوچکی تھی اور اب ا میں بھی کہیں اضافہ ہوچکا ہے۔

جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کے بے پنا لائسنس تو جاری کردئیے لیکن انکی مکمل مانیٹرنگ کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے اس کا بنیادی مقصد فوت ہوگیا ہے۔ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی چینل کی جانب سے مسلسل آئی ایس آئی چیف پر الزامات نشر ہوتے رہے اور انکی تصویر دکھائی جاتی رہی۔ یہ میڈیا گروپ چونکہ بااثر سمجھا جاتا تھا اس لیے پیمرا کی جانب سے بروقت کوئی قدرم نہ اٹھایا گیا۔
اس کے برعکس کچھ ہی عرصہ قبل ایک نئے ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں ایک جملہ بولنے پر اسی وقت فوری ایکشن لیتے ہوئے اس کی نشریات بند کردی گئی تھیں۔ یہ پیمرا کا دوہرا معیار ہے۔ یہاں طاقتور میڈیا گروپس کی حرکتوں پر آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں جبکہ قدرے غیر اہم اور کم طاقتور گروپوں کو مختلف قانین کی آڑ میں خوفزدہ کیا جاتا ہے۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کے متعدد ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈرامے اور پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔
ان میں بھگوان مندر اور ہندوانہ رسومات بھی گلیمر کے ساتھ دکھائی جاتی ہیں۔ ایسے پروگرامز کی وجہ سے ہی پاکستان کے متعدد بچوں کو بھجن یاد ہوچکے ہیں جبکہ دیوتا اور دیوتاؤں کی ”کرامات“ بھی ان کے ذہنوں میں بیٹھ چکی ہیں۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ پاکستان میں بھارتی اشتہارات تک دکھائے جاتے ہیں اور پاکستانی اشتہارات میں بھارتی جھلک اور ان کے اداکاراؤں کو بھی دکھایا جارہا ہے۔
اس کے برعکس بھارت میں صورتحال یہ ہے کہ وہاں سے پاکستان آنے والے ایک صحافی کے بقول بھارت میں پاکستانی چینلز پر پابندی عائد ہے۔
دوسری جانب اکثر چینل پر صبح دکھائے جانے والے مارننگ شوز بھی فکاشی اور بے راہ روی کو فروغ دینے کے سوا قوم کو کچھ نہیں دے رہے۔ آزادی اظہار رائے اور آزادی نسواں اپنی جگہ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی آڑ میں اسلامی تعلیمات کی بے حرمتی کی جائے۔

پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ وہ ٹی وی چینلز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب تک متعدد اشتہارات اور پروگرامز کی وجہ سے بعض ٹی وی چینلز پرجرمانے بھی عائد کرچکے ہیں۔ یاد رہے پیمرا نے جتنے کا جرمانہ کی ا ہے اس سے زیادہ ٹی وی چینلز ایک اشتہار کی مد میں کمالیتے ہیں۔ انہیں شاید اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اس جرمناے سے کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔ اگر پیمرا صرف جرمانے کی حد تک محدود ہے تو پھر یقیناََ کوئی بھی دشمن کسی بھی چینل کو بھاری رقم دے کر اپنی مرضی کے پروگرام چلا سکتا ہے۔
چینل کو معلوم ہوگا کہ جرمانے کے باوجود اسے خطیر منافع مل جائے گا۔
ایک سینئر صحافی پر کراچی میں حملے کے بعد اس کے ادارے نے جس طرح پاک فوج کے ادارے پر کیچڑ اچھالا اور آئی ایس آئی کے چیف کو بدنام کیا وہی کم نہ تھا لیکن اس کے بعد جب پیمرا میں درخواست گئی تو اس میڈیا گروپ نے اپنے اخبار میں پیمرا کے خلاف بھی اشتہارات شائع کیے کہ انہیں پیمرا پر اعتماد نہیں ہے۔
یہ پیمرا کو منتازعہ کونے کی کوشش تھی لیکن اس پر افسوس تو تبھی کریں جب پیمرا خود بھی متحرکک ہو اور اپنے فرائض انجام دے رہا ہو۔ میڈی اگروپ کے خلاف کارروائی کے دوران پیمرا کا چیئر مین ہی نہیں تھا۔ اس عہدے پر پوسٹنگ ہونا باقی تھی جس کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پیمرا کے پاس چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے اصولی طورپر کارروائی کرنا جائز ہوگا یا نہیں۔

آزادی صحافت سے انکار نہیں لیکن میڈیاکو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ ہمارے ہاں ابتدا سے ہی میڈیا قوانین موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عمل جانے کب ہوگا۔ میدیا کیلئے ضروری ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کا خیال رکھے۔ یہاں بریکنگ نیوز کے چکر میں جس طرح سنسنی پھیلائی جاتی ہے اور مزاحیہ پروگرام کے نام پر جس طرح دوسوں کی پگڑی اچھالی جاتی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پیمرا کو مکمل طور پر فعال کیا جائے اور میڈیا ہاؤسز کو بھی اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیں اور قوانین کی خلافت ورزی کو آزادی صحافت کا نام ہر گز نہ دیں۔ صحافت ایک محترم پیشہ ہے لیکن اس کا منفی رخ اس کی بدنامی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ فی الحال پیمرا ناکام نظر آتا ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ آزاد حکومتی اودارہ ہے یا پھر چند میڈیا گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان