بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا مورچے ،خاردار تاریں ،بلند دیواریں کافی ہیں؟
تعلیمی اداروں کے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات۔۔۔۔ سکولز ، کالجز کی تعمیر سے قبل سیکورٹی اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟
عنبرین فاطمہ :
پوری دنیا میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کئے جاتے ہیں ہم بھی ایسے حالات سے نبردآزما ہیں کہ ہمیں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی اشد ضرورت ہے خاص طور پر جب دشمن انتہائی سفاکانہ کاروائیوں پر اتر آیا ہو تو پھر سیکورٹی لپیس کسی صورت برداشت نہیں کئے جاسکتے۔ گزشتہ برس دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کی بربریت کے بعد حکومت وقت کیلئے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کی ہدایات جاری کیں کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے پہلے وہ اپنے اپنے سکولوں کی سیکیورٹی کے پیش نظر مناسب اقدامات کریں۔ شہری سطح پر تو بہت سارے سکولوں میں حکومت کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق حفاظتی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں دیہی علاقوں میں ابھی تک اس طرح سے اقدامات نہیں کئے جا سکے۔ شہری سطح پر بہت سارے سرکاری سکولوں کی باونڈری والزاونچی کرد ی گئیں ہیں واک تھروگیٹس لگائے گئے ہیں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں لیکن جو پرائیوٹ سکول گھروں میں چلائے جا رہے ہیں ان کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ وہ سیکیورٹی کے مناسب اقدامات کرسکیں گیٹ کے باہر ریت کے تھیلے رکھ دئیے گئے جو کہ نامناسب انتظام ہے۔
ایسی تمام تر صورتحال توجہ طلب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے ہر طرح سے مناسب اقدامات کئے جانے ہیں وہ اس بات کی اہمیت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ اگر تعلیمی معیار بہتر ہوگا تو ملک ترقی کی دوڑ میںآ گے نکلے گا۔ جن ممالک نے تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھا وہ آج بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیمی اداروں سیکیورٹی کے نکتہ نظر سے صورتحال اس قسم کی ہے کہ اگر کبھی دہشت گردوں کی جانب سے کوئی دھمکی مل جائے تو ہمیں جانی نقصان سے بچنے طرح طرح کے اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔
اس بات کی اہمیت اپنی جگہ کہ اس وقت پاکستان کو غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کرنا درکار ہیں۔ پشاور آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد حکومت وقت نے ملک بھرکے سکولوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ سکولوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ حفاظتی اقدامات اٹھائیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ سکولوں کی عمارت تعمیر ہونے سے قبل ممکنہ دہشت گردی جیسے معاملات کو زیادہ دھیان میں نہیں رکھا جاتا؟ دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنا اس وقت ایک بڑا چیلنج ہے ۔
اوپر سے ہمارے ہاں پالیسیاں اس قسم کی ہیں کہ کوئی اگر کام کرنا بھی چاہے تو لمبے پر اسس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے پشاور سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کے معاملے میں نہایت ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ان اقدامات ک بعد حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی نظام کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے چیک اینڈبیلنس رکھے اور دیکھے کہ گڑبڑ کہاں ہے اور اسے کیسے دور کرنا ہے ۔
باہر کے ملکوں میں تعلیمی اداروں کی انسپکشن کا ایک خاص انداز ہوتا ہے۔ برطانیہ کی ہی مثال لے لیں وہاں ایک سال میں کم از کم دو مرتبہ تعلیمی اداروں میں انسپکشن ٹیمز جاتی ہیں جو ایک تعلیمی ادارے میں کم ازکم ایک ہفتہ گزراتے ہیں وہاں اساتذہ کے ساتھ طالب علموں اور ان کے والدین سے ملتے ہیں اور ادارے کی اصل صورتحال جاننے کی کوشش کرتے ہیں سیکیورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ پر پہلو پر غور کرتے ہیں ا س کے بعد کہیں جا کر رپوٹس بناتے ہیں۔
ہمارے ہاں اول تو سکولوں کی انسپیکشن ا نداز سے نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو اس کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کلرکوں کی رپورٹس پر ہی کاررائیاں کرتے ہیں۔ہونا یوں چاہیے کہ محکمہ تعلیم کے اعلی افسران جب کوئی سکول زیر تعمیر ہوتا ہے اس کا جاکر وزٹ کیں دیکھیں کہ کس قسم کا میٹریل استعمال ہو رہا ہے۔
اور بلڈنگ سیکیورٹی کے نکتہ نظر سے کتنی اہمیت کی حامل ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے ٹھیکیدار ممکنہ وقت میں اپنا کام کرن کے چلا جاتا ہے اور سال دو سال بعد پتہ چلتا ہے کہ کلاس رومز کے فرش ٹوٹ رہے ہیں دیواریں خراب ہو رہی ہیں۔ پشاور حملے کے بعد حکومت ن سکولوں کی سیکیورٹی کے لئے جو احکامات جاری کئے وہ قابل تحسین ہیں ساتھ ہی ساتھ صوبائی وزیر رانا مشہود بھی کافی متحرک نظر آرہے ہیں وہ جس انداز سے سکولوں کا وزٹ کر کے سیکیورٹی کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے اس ک علاوہ والدین بھی خوش ہیں کہ ان کے بچوں کے لئے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو مدنظر رکھاجارہا ہے۔
اگر ان چیزوں کو ماضی میں حکومتیں نظرانداز نہ کرتیں تو آج والدین اپنے بچوں کوسکولوں میں بھیجنے سے خوفزدہ نظر نہ آتے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-15

(0) ووٹ وصول ہوئے