بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خطے کی ’اینڈ گیم“ کے بطن سے نئی گیم کا جنم
پاک فوج اور آئی ایس آئی نشانہ کیوں؟ ئن الیون کے ڈرامے کے بعد جنرل مشرف سے وہ اقدامات کرائے گئے جنہوں نے قوم اور فوج کے درمیان بظاہر خلیج پیدا کردی تھی اس سلسلے میں لال مسجد آپریشن نے کلیدی کردار ادا کیا

محمد انیس الرحمن:
نائن الیون کے ڈرامے کے بعد خطے میں شرو ع ہونے والی ”گیم“ اس وقت ”اینڈ گیم“ کے مرحلے میں ہے اور دوسری نئی ”گیم“ پہلے والی گیم کے بطن سے جنم لے چکی ہے۔ پہلے شروع ہونے والی ”گیم“ کا فرنٹ فیز افغانستان تھا لیکن اصل مقصد پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر ہاتھ صاف کرنا، بھارت کو خطے کا بلا شرکت غیرے چوہدری بنوانا اور چین کو گوادر کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا اور پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ہاتھ پیر توڑنا مقصود تھا۔
لیکن اس ”پہلی گیم“ کے 14برس گرزجانے کے بعد جو تنائج سامنے آئے ہیں ان میں الحمد اللہ پاک فوج اور آئی ایس آء کے ہاتھ پیر تو بڑی حد تک سلامت ہیں لیکن امریکہ اور بھارت افغانستان میں بری طرح اپنے ٹخنے تڑواچکے ۔ غالباََ شکست کی اسی چبھن نے ”اینڈ گیم“ کے بطن سے ”نئی گیم“ کو جنم دینا شروع کیا۔ اس کھیل کے دو بڑے حصے ہیں جن میں ایک طرف پاکستان کی آئی ایس آئی پر الزامات کی بارش کر کے اسے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے تو دوسری طرف بھارت میں ایک انتہا پسند ہندو حکومت کا قیام ہے۔
آنے والے مئی کے مہینے میں پاکستان کے مشرق اور مغرب یعنی کابل اور نئی دہلی میں دو نئی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اس لحاظ سے ان واقعات کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہوچکی ہے۔
خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ہم پہلے بھی مختلف زاویوں سے اظہار رائے کرتے رہے ہیں۔ کہ عالمی صہیونیت مشرق وسطی میں بڑی تبدیلیوں کیلئے ڈول ڈال چکی ہے یہ ساری تبدیلیاں اسرائیل کے گرد واقع ممالک میں لائی جارہی ہیں جن میں ایک طرف مصر اور سوڈان ہیں تو دوسری جانب شامل اور یمن کے علاوہ باقی تمام جزیرہ العرب ہے اس تبدیلی کا بنیادی مقصد خطے میں اعلانیہ اسرئیل کی بالادستی قائم کرنا اور خطے کے وسائل پر اسرئیل کو بلا شرکت غیرے تصرف کا حق دینا ہے۔
تاکہ وہ خطے میں مسلمانوں کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر یروشلم سے اپنی عالمی سیاست کا اعلان کرسکے۔ یہ بات کسی کو سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اس عالمی صہیونیت کے خطے میں غلبے کے راستے میں سب ے بڑی رکاوٹ ہیں اس کے تدارک کیلئے بھارت کی برہمن سامراجی اسٹیبلشمنٹ منصوبہ بندی کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی میں سے ایک ایسے شخص نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر لارہی ہے جو مسلم دشمنی میں تمام دنیا میں ایک مثال ہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی منصوبہ بندی سے بھارت کے طول و عرض میں ہندو فرقہ پرستوں کو منظم کر کے مودی کے حق میں انتخابی مہم شروع کروائی گئی تھی اور جس کے نتائج اب تمام دنیا کے سامنے آتے جارہے ہیں۔
مشق وسطی میں اسرائیل کا راستہ صاف رکھنے کیلئے خطے میں بھارتی انتہا پسند ہندو حکومت کے ذریعے پاکستان کو کاؤنٹر کرنے کا کام لیا جائے گا۔ اس سارے عمل میں سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ خود وطن عزیز میں دشمن نے سرنگیں لگا رکھی ہیں۔ پاکستان کے ایک میڈیا گروپ کے صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے افسوسناک قاتلانہ حملے کے بعد ان کے میڈیا گروپ نے جس انداز میں صحافی کے شک کے اظہار کر فرد جرم بنا کر اپنے چینل پر آئی ایس آئی کے سربراہ کی کردار کشی کی کوشش کی وہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات تھی ۔
حامد میر ہمارے دوست ہیں اور ان کی صحت و تندرستی کیلئے ہم دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں اس کی رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے میڈیا گروپ نے جس انداز میں ان کا کاندھا استعمال کر کے توپوں کا رخ آئی ایس آئی کی جانب پھیرا اس نے پوری قوم اور صحافی برادری کے بڑے حصے کو بری طرح مایوس کیا ہے۔بعض ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے ادارے کراچی میں ہونے والے حملے میں شامل ہاتھوں کو اپنے طور پر تلاش کررہے ہیں اور جس وقت ان کی رپورٹ منظر عام پر آئے گی تو بڑے بڑے ”بزرجمہروں“ کے طو طے اڑجائیں گے۔

اس کے علاوہ حکومتی سطح پر جس قسم کی صورتحال نظر آرہی ہے اس نے بھی معاملات کو بڑی حد تک مخدوش کیا ہوا ہے۔ حکومت نے آئی ایس آئی کے خلاف اس دشمنانہ مہم میں پہلے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن عوام کا رد عمل دیکھتے ہوئے جیسے وہ گہری نیند سے جاگی، حالانکہ آئی ایس آئی کا ادارہ براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہے اس لئے بھی وزیر اعظم نواز شریف کا فرض تھاکہ وہ بھارت نواز میڈیا گروپ کی اپنے ماتحت ادارے آئی ایس آئی کے خلاف مہم جوئی کا فوری نوٹس لیتے اور ادروں کو آپس میں الجھانے کی اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے لیکن اس سے زیادہ کیا غیر ذمہ داری ہوگئی کہ اس سلسلے میں بھی ہوا کا رخ دیکھا گیا۔

بہر حال جو کچھ ہوا یہ اس ”بڑے کھیل“ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو خطے میں پاکستان اور اسلام مخالف قوتوں کو مستحکم کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ نائن الیون کے ڈرامے کے بعد جنرل مشرف سے وہ اقدامات کرائے گئے جنہوں نے قوم اور فوج کے درمیان بظاہر خلیج پیدا کردی تھی اس سلسلے میں لال مسجد آپریشن نے کلیدی کردار ادا کیا لیکن آج تک کبھی پاکستان کے مخصوص میڈیا گروپ کی اس وقت کی رپورٹنگ کی تحقیق نہیں کی گئی جو خود بھی مشرف انتظامیہ کو اس آپریشن پر اکساتے رہے۔
ایک ایسا شورو غل مچایا گیا جیسے اسلام آباد پر کسی خلائی مخلوق نے قبضہ جمالیا ہوا۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی، کبھی کہا گیا حکومت کے اندر حکومت قائم کر کے پاکستان کا بین الاقوامی امیج بگاڑ دیا گیا ہے اور کبھی دور کی کوڑی لاتے ہوئے کہا گیا کہ لال مسجد کے اندر غیر ملکی دہشت گرد پناہ گزین ہیں۔۔۔ اور جب آپریشن ہوگیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان کس کو پہنچا۔
یقینی بات ہے کہ مملکت کے دفاعی اداروں کو اور یہی ہمارا دشمن چاہتا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جہاں پہلے ہی عالمی صہیونی قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے اندر دھماکے اور خود کش حملے کر کے ایک کانہ جنگی کی صورت پیدا کردی تھی اب اس آگ پر لال مسجد آپریشن کے رد عمل کا تیل گردیا گیا اس کے بعد جو کچھ ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے۔
افغانستان کی جنگ کی آڑ میں پاکستان میں ایک نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کروایا گیا تاکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو مغربی سرحدوں پر بری طرح الجھا دیا جائے۔ زرداری معرکہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں یہی سب کچھ ہوتا رہا۔ سوات میں آپریشن کروا کر وہاں وقتی طور پر امن کروایا گیا اور قوم کے سامنے یہ مثال پیش کی گئی کہ فوجی آپریشن ہی تمام معاملے کا حل ہے لیکن آج بھی اگر سوات سے فوج واپس بلا لی جائے تو کیا وہاں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے؟ اس میں شک نہیں کہ نون لیگ کی حکومت نے قومی امنگوں کے مطابق تحریک طالبان سے مذاکرات کی حامی بھری اور پھر ان مذاکرات کا ایک سلسلہ ہوا جو تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا ہے لیکن بھارت اور امریکہ نواز عناصر کی یہ دلی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان مذاکرات کو ختم کرا کر شمالی وزیستان میں فوج سے آپریشن کروایا جائے۔
امریکہ کے نزدیک حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان جنگ بندی کی صورت میں پاکستانی طالبان کا زیادہ وزن افغانستان پر پڑے گا اور جاتی ہوئی امریکی اور نیٹو فوج کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ دوسرے ان جنگ بندی کی صورت میں پاک فوج کا بڑا حصہ دوبارہ مشرقی سرحدوں پر منتقل ہوجائے گا جو بھارت کو منظور نہیں ۔ تیسرے اس جنگ بندی کے بعد پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے یکسوئی سے بلوچستان اور کراچی میں دشمن ایجنسیوں کے کھیل کا مقابلہ کرسکیں گے۔
چوتھے بلوچستان میں حالات ٹھیک ہوتے ہی چین کو کاشغر سے گوادر تک راستہ ساف مل جائے گا اور وہ آئندہ کیلئے اس معاشی جھٹکے کی تلافی کرسکے گا جو اسے جنوبی سوڈان، لیبیا اور پھر شام کی صورتحال کی شکل میں لگا ہے۔ ہم پہلے بھی اس جانب وضاحت کرچکے ہیں کہ ڈالر ”انتہائی نگہداشت کے وارڈ“ میں آخری سانسیں لے رہا ہے لیکن اب تک اسے آکسیجن چین کی وجہ سے مل رہی ہے اس بات کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ چینی زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر چار ہزار بلین دالر ہیں جن میں سے نصف ذخائر امریکی بانڈز کی شکل میں ہیں۔
امریکیوں نے انتہائی چالاکی سے اپنی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے چین کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر امریکی بانڈز کی شکل میں بھی رکھے ایسا صرف اسی وقت ممکن ہوسکتاتھا جب چین کی اقتصادی رسائی کو دیگر منڈیوں تک ناممکن بنا دیا جائے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے سیاسی اور عسکری اداروں پر حکومت کرنے والے صہیونی بینکروں نے اپنے سیاسی کٹھ پتلیوں سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں ایسے اقدامات کروائے کہ روس اور چین ان خطوں سے راہ فرار اختیار کرلین لیکن روس نے یوکرائن میں مداخلت کر کے امریکہ اور یورپ کے اس کھیل کے رنگ میں بھگ ڈال دی ہے جو لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے جواب میں روسی صدر پوٹن گھٹنے ٹیک دے گا تو وہ بے وقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
کیا پوٹن اور روسی پالیسی ساز اداروں نے یوکرائن میں مداخلت سے پہلے اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا ہوگا کہ امریکہ کے جوابی اقدامات کے سلسلے میں کیا جوابی حکمت عملی بنائی جائے گی۔۔ان اقتصادی پابندیوں کی صورت میں اگر امریکی اور یورپی بینک روسی گیس کی قیمت روکتے ہیں تو روس اپنی طرف سے گیس منقطع کر کے یورپ کو سردی میں مار دے گا اور اس کی صنعتی بھٹیاں اور بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ ٹھنڈے پڑ جائیں گے ۔
دوسری جانب کاشغر سے گوادر تک معاشی راہ داری نہ صرف چین کیلئے ایک بہت بڑی اقتصادی کھڑکی ہوگی بلکہ پاکستان کی معاشی صورتحال بھی اس سے کہیں زیادہ سنبھالا لے سکے گی اگر چین اور پاکستان کے درمیان یہ معاملات اپنی جگہ بنا گئے تو اسرائیل کیلئے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں اس کی صہیونی سیاست کے خلاف پاکستان کو بڑی مداخلت سے روک سکے کیونکہ امریکہ کے بعد بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا سٹریٹیجک پارٹنر ہے اور پاکستان کو خطے تک محدود رکھنے کیلئے وہ بھارت ک ہی استعمال کرے گا لیکن اس صورت میں چین کو پاکستانی راہ داری کی صورت میں اپنی معاشی شہہ رگ بچانے کیلئے پاکستان کی پشت پر کھڑا ہونا پڑے گا۔
یہی وہ ”خدشات“ ہیں جن کی بنیاد پر فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا اور انہی پاکستان دشمن مقاصد کی بار آوری کیلئے پاک فوج اور آئی ایس آئی پر پاکستان کے اندر سے حملے کروائے جارہے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کے صہیونی سرمایہ دارون نے چین کی معاشیات کو ہاتھ میں رکھنے کیلئے بہت پہلے سے وہاں دولت کے ارتکاز کو چند ہاتھوں میں سمٹ جانے کے مواقع فراہم کئے تھے تاکہ ایک وقت ایسا آئے جب ایک مرتبہ پھر چین ایک اور عام انقلاب کی دہلیز پر پہنچ جائے لیکن اس وقت سے پہلے خود مغرب کے حالات تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوگئے اس لئے ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا کہ امریکہ اپنے ڈالر بانڈز بے وقعت کر کے چین کی معاشیات کا دھڑن تختہ کرسکتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس بات سے اگاہ ہیں کہ عالمی معاشی بساط پر اگر امریکہ نے چین کے معاشی ”وزیر“ کو اس طرح پیٹنے کی چال چلی تو اگلی چال میں امریکی ڈالر کے ” بادشاہ“ کو چین کی جانب سے شہہ مات ہے۔

یہ ان معاملات کا ہکا سا اشارہ ہے جو اس وقت وطن عزیز میں برپا ہیں۔ بدقسمتی سے بین الاقوامی سطح پر حالات تیزی کے ساتھ تبدیلی کے دہانے پر ہیں اور ان ہی صفحات میں پہلے بھی کہا گیا ہے کہ جو حالات آگے آنے والے ہیں ان میں پاکستان کی جانب سے کلیدی کردار پاک فوج اور آئی ایس آئی کا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل بعض سفارتی ذرائع سے اس قسم کی خبریں بھی آئی تھی جن کے مطابق نئی دہلی میں پانچ ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اکٹھ ہوا تھا جس میں پاکستان کے خلاف مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی تھی۔
اس حوالے سے جب پاکستان کے خلاف لائحہ عمل کی بات کی جاتی ہے تو یہ اشارہ اس کے دشمنوں کی جاب سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی جانب ہوتا ہے۔ اس لئے وطن عزیز کو ان ان اداروں کے خلاف کیا کررہا ہے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ کس کے اشاے پر ہورہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-03

(13) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان