بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خدشات کے غبار میں مذاکرات کی حوصلہ افزا اڑان۔۔۔۔۔
قیدیوں کی رہائی کے بغیر ایک دوسرے پر اعتماد بھی بحال نہیں ہوسکتا۔۔۔ حکومتی ٹیم کے رکن رستم شاہ مہمند نے ایک غیر ملکی ایجنسی کو بتایا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کوئی بڑا ایشو نہیں ہے
محمد رضوان خان:
تمام تر خدشات اور غیر یقینی صور تحال کے با وجود وہ انہونی ہو گئی جس کے بارے میں ایک وقت یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ حکومت اور طالبان کی بیٹھک نا ممکن ہو گی ۔ اس ابتدائی نشست کا ابھی تک کوئی ٹھوس نتیجہ تو سامنے نہیں آیا اور تادم تحریر مذاکرات میں تعطل کی بات کی جا رہی ہے۔ مذاکرات کے بارے میں بھانت بھانت کی بو لیاں بولی جا رہی ہیں ، ہر کوئی قیاس اور تخیلات کے گھوڑے سر پٹ دوڑانے کو بے تاب ہے۔
مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خواہشات کو مختلف شکلوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عملی صورت یہ ہے کہ جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں اس وقت تک مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہے اور اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ یہ سلسلہ آگے بڑھ سکتاہے۔ گو کہ اس عمل میں ابھی ایک بڑی رکاوٹ جنگ بندی میں تو سیع قراردی جارہی ہے، لیکن حکومتی ٹیم کے رکن رستم شاہ مہمند نے ایک غیر ملکی ایجنسی کو بتایا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔
رستم شاہ مہمند کے برعکس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکرات کو آگے چلانے میں جنگ بندی میں توسیع ایک اہم موڑہے جس کیلئے طالبان نے ٹھوس ضمانت طلب کر رکھی ہے ۔ اس ضمانت کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ طالبان نے لکھی ہوئی ضمانت طلب کی ہے جس کے بارے میں بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ بات کچھ زیادہ درست نہیں بلکہ اصل مطالبہ یہ ہے کے حکومت اور طالبان کے درمیان اب بھی بد اعتمادی کی خلیج اس قدر وسیع ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے اصل میں ٹھوس ضمانت مانگ رہے ہیں ۔
ان حلقوں کا استدلال ہے کہ طالبان کسی ایسی تحریر کے حق میں نہیں ہیں کہ جس کی پاسداری نہ کی جائے اسی لئے وہ ٹھوس ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔ یہ ضمانت کس شکل میں ہو گی اس بارے میں صرف اس قدر ہی معلوم ہو سکا ہے کہ ضمانت کے طور پر ایسے لوگوں کی شخصی ضمانت درکار ہو گی جن کی بات حکومت بھی نہ گرا سکے اور طالبان بھی ایسے شخص یا گروپ کی بات کو مانتے ہوں۔
یہ ضامن کون ہو گا اس بارے میں طالبان حمایتی حلقے کسی کا نام لینے کو تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ضمانتیوں کا نام بھی صیغہ رازمیں رکھا جا تا ہے، تاہم اگر حکومت کو ضما نتی قابل قبول نہ ہوئے یا حسب منشاء نہ مل سکے تو پھر ایسی صورت حال میں اعتماد سازی اسی صورت آگے بڑھے گی کہ طالبان کے مطلوب افراد میں سے اہم لوگوں میں سے چند کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ نے اس بارے میں بھی کہا ہے کہ طالبان نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا البتہ یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے۔ اس ممکنہ صورت میں رہائیاں دونوں جانب سے عمل میں لائے جانے کا مکان موجود ہے ۔ ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر ابھی جو مسئلہ ہے وہ فریقین میں اعتماد کا فقدان ہے، اس بارے میں طالبان نے مبینہ طور پر حکومتی کمیٹی کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اب تک اگر طالبان پیس زون کا تقاضا کر رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بعض طالبان کی اب بھی یہ سوچ ہے کہ مذاکرات کیلئے طالبان کو باہر نکلوا کر انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
طالبان نے اس مقصد کیلئے جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی کو پیس زون منانے کا مطالبہ کیا ہے جو جغرافیائی طور پر انہیں قریب پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف حکومت تادم تحریر ایف آر بنوں کے علاقے بکاخیل کو طالبان کیلئے سیف زون بنانے کا سوچ رہی ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت اس بات پر تیار نظر آنی ہے کہ سیف زون یا پیس زون ہو کیو نکہ اس کے قیام سے نہ صف طالبان کی تسلی ہو گی بلکہ خود حکومتی ممبران بھی خود کو زیادہ محفوظ تصور کریں گے کیو نکہ ایسی صورت میں اگر بکا خیل پر اتفاق ہوتا ہے تو یہ طالبان اور حکومتی کمیٹی دونوں کیلئے موزوں ہے۔

سیف زون کس جگہ بنایا جائے گا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا تاہم وہ حلقے جو ان مذکرات کے مخالف ہیں یا جو نہیں چاہتے کہ یہ بیل منڈھے چڑھے اط کی تو یہ کوشش ہے کہ معاملہ یہاں سے آگے ہی نہ بڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے ڈیڈلاک کو ہوادی جارہی ہے تاہم یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر ان مذاکرات میں ڈیڈلاک ہی پیدا ہونا ہے تو کیا یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر پیداہو جائے گا؟ یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا ابھی سے ڈیڈلاک کی بات کرنا قبل ازوقت نہیں ؟ ان سوالات کا جواب جاننے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمے کیلئے حکومت اور طالبان کی شوریٰ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پوری طرح جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آنی ہے کہ مذکرات کے پہلے دور میں گو کہ ملی جلی کیفیت رہی لیکن بعض سخت گیر مو قف کے باوفود ایسی کوئی سنگین بات نہیں ہوئی کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے ایک مخصوص حکمت عملی مذکراتی میز پر ضرور اپنا ئی گئی جس کے دوران وہ حلقے جو طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی نمائندگی کر رہے تھے کا انداز زیادہ جار حانہ تھا، انکی زبان پر گلے شکوے بھی مبینہ طور پر زیادہ آئے ۔ ان کے خیال میں نرم پڑنے سے بار نہیں بنے گی اور شریعت کے نفاذ کیلئے زیادہ شدومد سے جدوجہد کرنا ہو گی تاہم اس کے مقابلے میں خان سید عرف سجنا اور ان کے ہم خیال ساتھیوں کا رویہ خاصا لچک دار دکھائی دیا۔
ان کی طرف سے مبینہ طور پر جتنی بات بھی کے گئی اس میں معقولیت کا عنصر پوری طرح موجود تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خان سید کے سا تھیوں کی کوشش تھی کہ بات کو صرف قبائلی علاقہ جات کی شورش تک محدود رکھا جائے تو زیادہ بر محل ہو گا کے طالبان میں مذکرات کی میز پر مختلف موضوعات پر موقف میں ہم آہنگی بھی نہیں ہے۔بعض حلقوں کے مطابق رائے کا یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ شاید طالبان میں ہم آ ہنگی کا فقدان تھا یا پھر ان کے بعض مطالبات اس قدر حقیقت سے دور تھے کہ اس پر سب کا متفق ہونا ضروری بھی نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق بعض امور پر یہ تضاد اس وجہ سے بھی دیکھا گیا ہو گا کہ بقول طالبان کمیٹی کے اراکین کے وہ دوروزہ مسافت کے بعد بات چیت کے مقام تک پہنچنے ہیں جس کی وجہ سے شاید وہ زیادہ بہتر انداز سے مذاکرات میں اپنا مدعا بیان نہ کر سے ہوں ۔ اس لحاظ سے مذاکرات کی میز پر ان کے موقف میں اختلاف تو موجود تھا لیکن طالبان نے پہلے مزاکراتی راؤنڈ میں ہی حکومت کو اپنے امیر ساتھیوں کی دوستی فہرست تھا دی ۔
یہ فہرست سات سو اسیروں پر مشتمل تھی جبکہ اس سے قبل تقریباََ ڈھائی سواسیر جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں کی فہرست حکومت کو بھجوادی گئی تھی۔ان میں پہلی لسٹ کے بارے میں حکومت نے خواتین اور بچوں کی سزا ئے قید سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے اور وزیر اعظم نے یہاں تک کہہ دیاہے کہ اگر ایسا کوئی قیدی ہو تا تو اسے بغیر کسی حیل و حجت کے رہاکردیاجاتا اور ایسی خواتین یا بوڑھوں کی رہائی کو مذاکرات کی پیچیدگی کا حصہ بھی نہ بنایا جاتا۔

حکومت اور طالبان کے در،میان پہلی براہ راست ملاقات کے بعد اب سائیڈ لائن پر کافی”چہل پہل“ دیکھنے کو ملے گی۔ اس سلسلے میں سب سے اہم متوقع پیش رفت یہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں بات آگے بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے مگر اس عمل کو دونوں جانب سے خفیہ رکھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت تو اس ضمن میں مسلسل کنی کترا رہی ہے اور اب تو یہاں تک حکومتی موقف سامنے آگیا ہے کہ طالبان نے قیدیوں کی رہائی کا باقاعدہ مطالبہ ہی نہیں کیا۔
حکومت کا یہ موٴقف کچھ حالات سے جچ نہیں رہا لیکن اگر وسیع تر مفاد کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو یہ رازداری ہر لحاظ سے سود مند ہے جبکہ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس وقت قیدیوں کی رہائی کے بغیر ایک دوسرے پر اعتماد بھی بحال نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب سے مطالبات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔جس میں حکومت اپنی تئیں دیکھ رہی ہے کہ وہ کن کن اسیروں کو رہا کرسکتی ہے جبکہ دسری طرف طالبان بھی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ساڑھے تین برس سے اسیر وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی رہائی کے بارے میں لچک دکھا چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس لچک کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر اجمل خان تو طالبان کے پاس ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے برخوردار ان طالبان کے پاس نہیں ہیں۔ قبائلی حلقوں کا اصرار ہے کہ یہ دونوں ازبکوں کے پاس ہیں تاہم اگر یہ بات درست ہے تو ایسی صورت میں مذاکرات کا سب سے اہم پہلو ہوتا جارہاہے۔ اگر حکومت اور طالبان کے درمیان پیش رفت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ان دیگر گروپس کا کیا ہوگا جو خود کو طالبان کی چھتری تلے لاکر غلط فہمیاں پید کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر فریقین میں بات آگے بڑھتی ہے تو پھر طالبان کو اس قسم کے گروپس پر بھی اپنی دھاک بٹھانا ہوگی۔ ان حالت میں غالب امکان ہے کہ برف اگر پگھلے گی تو اس کا نقطہ آغاز ”اعتمادسازی“ سے ہوگا۔حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد سازی کے آئندہ کافی مراحل ابھی آنے ہیں اور اس میں نہ صرف حکومت بلکہ طالبان پر بھی دباؤ ہو گا کہ وہ ان مذکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔
اس سلسلے میں اب تک اگر دیکھا جائے تو بقول مولانا سمیع الحق ” دو فریق پہلی بار مل چکے ہیں اور آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات بھی ہو چکی ہے جس نے دونوں کا اعتماد بڑھایا ہے “ ۔
مولانا سمیع الحق جو پیرانہ سالی کی وجہ سے اب تک براہِ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بن رہے تھے ‘ نے بھی اس پہلی ملاقات میں خود شرکت کی اور وہ پر امید ہیں کہ ” طالبان نے مثبت اشارے دیئے ہیں نہ وہ کسی بھی طور پر مایوس لوٹے ہیں کیونکہ ملاقات سے اعتمادی کی فضا بحال ہوئی ہے“ ۔
سات گھنٹوں کی اس طویل نشست کے بعد تو قع یہی کی جارہی ہے کہ اب اعمادی سازی کے مزید مراحل بھی طے ہوں گے جس کے تحت ذرائع اس بات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ جلد یا بدیر دونوں جانب سے اسیروں کاتبادلہ ہو گا اور ابتدائی مرحلے میں یہ تبادلہ غیر عسکری اسیروں تک محدود رہے گا ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کہ کون عسکری قیدی ہے اور کون غیر عسکری دونوں کمیٹیاں مل کر کریں گی۔
حکومت البتہ اس بارے میں یہ کہہ رہی ہے کہ قانون کے بر خلاف کائی کام نہیں کیا جائے گا جس کی وجہ سے مستقبل قریب کی بعض غیر مرئی مشکلات کا ادراک ضرور ہوتا ہے۔ تاہم یہ اصل میں دونوں کمیٹیوں کا امتحان ہو گا کہ وہ کس طرح یہ مرحلہ سر کرنے ہیں اور خاص کر حکومتی کمیٹی اور خود حکومت کی بالا دستی کا بھی اسی وقت پتہ چلے گا کہ وہ پھر ریاستی اداروں سے کس طرح اپنی بات منواتی ہے۔
اس بارے میں معاملات جب زیادہ گھمبیر تا کی طرف جائیں گے تو خدشات موجود ہیں کہ بات ڈی ٹریک نہ ہو جائے۔ حکومت ان خدشات سے کس طرح عہدہ براہوگی ‘ اصل میں مذکرات کی کامیابی اور ناکامی کا تعین بھی اسی وقت ہو گا۔ حکومت کو اگر یہ مذاکرات کامیاب بنانے ہیں تو اس کیلئے بتدریج بڑھتی سیاسی مخالفت بھی لمحہ فکریہ ہے جس پر نظر رکھنی ہو گی۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم جس ادارے کے بل پر مذکرات کی حمایت سے بیک آؤٹ کر گئی ہے وہ تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن حکومت کو ان قوتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس وقت اپنی تاریخ کی بد ترین منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
یہ وہ نام نہاد مذہبی‘ سیاسی حلقے ہیں جو مذاکرات کی باجوہ مخالفت بھی کر رہے ہیں اور عملی صورت اس کے بر عکس ہے۔ ان قوتوں کو بے نقاب کرنے کا تنہا حکومت کا ہی کام نہیں بلکہ اس کام میں مولانا سمیع الحق کو بھی زیادہ چوکس کردار اپنانا ہو گا تاہم عین ممکن ہے کہ وہ کسی مصلحت کے تحت چپ ہو ں لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ انہیں مذکرات دشمن قوتوں کو بے نقاب کر نو ہو گا جو اس وقت بغل میں چھری اور منہ پر رام رام والا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح حکومت کو بھی دوسرے مذکراتی دور سے قبل بہت سا کام تیزی سے کرنا ہو گا تاکہ ان مذکرات کو امریکی گماشتوں سے بچایا جا سکے ۔ حکومت اس سلسلے میں اگر منظم اداروں پر قابو نہیں پا سکتی تو کم از کم اسلامی نظرایاتی کونسل کو تو لگام دے سکتی ہے جس نے ایک ایسے وقت میں شادیوں سے متعلق برسوں پرانی سفارشات کا قصہ ایک ایسے وقت میں چھیڑ دیا کہ جب ملک میں طالبان سے مذکرات کی ابتدا ء ہو رہی تھی اور دوسری طرف وزیر اعظم ہیگ میں جو ہری امور سے متعلق کانفرنس میں شریک تھے ۔
اس سارے معاملے کی تہہ تک حکومت کو پہنچنا ہو گا کیونکہ یہ وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں گورڈن براؤن نے اپنے دور ہ پاکستان کے دور ان لب کشائی بھی کی۔ یہ سب پاکستان کے مفاد میں کسی طور نہ تھا تو پھر اس کی باز پرس بھی نا گزیر ہے تاکہ مذکرات کے حوالے سے سائیڈلائن ایشوز کی روک تھام ہو سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان