بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا!
اس خاکسار کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک میں پرائیویٹ میڈیا کی لائف چار مراحل پر مشتمل ہوتی ہے،یہ بڑے مان سے چاو ٴسے نت نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ منظر عام پر آتا ہے
مصنف : اجمل جامی
تصور کیجئے کہ موجودہ پاکستانی میڈیا اگر سن اکہتر میں بھی یوں ہی سب سے پہلے سب سے تیز ہرخبر پر نظر رکھے ہوئے لمحہ بہ لمحہ ارض و سما اور دنیا بھر کی خبروں کے سہارے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ،تو مشرقی پاکستان ٹوٹنے کی خبر کیسے نشر کرتا؟ نجانے کیمروں اور او بی وینز(Outdoor Broadcast Van) کا صحافتی بریگیڈ ڈھاکہ کے پلاٹون گراونڈ میں ہتھیار ڈالتی سپاہ کو کس آنکھ سے دکھاتا؟ کیمروں سے لیس نامہ نگاران سقوط ڈھاکہ کی کوریج میں ایک دوسرے سے کس کس بازی لے جانے کی کوشش میں ہوتے؟ کیا تب بھی یہ دعوی کیا جاتا کہ " مشرقی پاکستان ٹوٹنے کی خبر سب سے پہلے پاٹے خان ٹی وی نے نشر کی؟" کیا کوئی ٹی وی ایسا بھی پرومو(Promo) پیش کرتا کہ " مشرقی پاکستان ٹوٹنے کی خبر چھیدا ٹی وی نے پانچ روز پہلے ہی نشر کر دی تھی" یقیناً کوئی نہ کوئی ایسا ٹی وی چینل بھی ضرور ہوتا جو کچھ مناظر یوں پیش کرتا "ہتھیار ڈالتی سپاہ کے مناظر صرف اور صرف ٹوپی ڈرامہ چینل پر ملاحظہ کیجیے۔
" اینکرز یہ جملہ ضرور دہراتے "ناظرین! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ہماری بہادر سپاہ ہتھیار ڈال رہی ہے" اور وہاں موجود کوئی نہ کوئی پورٹر Exclusive کے چکر میں کسی نہ کسی حوالدار، نائیک ، لانس نائیک یا کم از کم کسی سپاہی سے یہ ضرور پوچھتا "ہتھیار ڈالتے ہوئے آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟"شاید اس وقت بھٹو صاحب اور شیخ مجیب کو لائن پر لے کر ان سے باقاعدہ تفتیش کی جاتی۔

دورانِ جنگ یقیناً مستعد اور کما حقہ مہارت کا حامل یہی میڈیا پاک فوج کی پوزیشنز کے حوالے سے بھی رپورٹس نشر کرتا جس کی صورت کچھ یوں ہو سکتی تھی "ابھی آپ سلہٹ کے مضافات کے مناظر دیکھ رہے ہیں، جہاں سلہٹ بازار میں اس وقت پاک فوج کے جوان پوزیشن سنبھالے بیٹھے ہیں جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں، انہیں اس وقت بیس بکتر بند گاڑیوں اور بارہ ٹینکوں کی مدد بھی حاصل ہے، یہاں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔
" شام ڈھلتے ہی فوجی سکون کرتے اور جنگ کا سلسلہ ٹاک شوز اپنے ذمے لے لیتے، جہاں رنگ برنگے اینکرز (جن میں سے اکثریت غیر صحافی خواتین و حضرات کی ہوتی) اپنی اپنی دکان سجا کر بیٹھ جاتے۔ خواتین اینکرز ایک کلو میک اپ اور پندرہ صفحات پر مبنی سکرپٹ پڑھنے کی سعی میں گھنٹوں مصروف رہتیں، جب کہ مرد اینکرز گھر سے نکلتے اپنے پروڈیوسر سے فون پر پوچھتے کہ ہاں بھئی آج کون کون مہما ن ہے؟ یار وہ چوہدری اللہ رکھا اور چھیدا جی کہ بلا لو، ان سے ریٹنگ اچھی آتی ہے۔
سن پینسٹھ، سن اکہتر یا کارگل کی جنگ میں اگر گرما گرم اور چٹ پٹ جھٹ پٹ خبر ٹی وی سکرین پر لمحہ بہ لمحہ نشر ہوتی تو کیا کچھ ممکنات میں تھا یہ سوچنا چنداں دشوار نہیں ۔کیا کوئی صورت تھی جو حریصانِ خبر و نشر کی جھولی میں سنسنی، خونریزی اور اشتعال انگیزی کے ساتھ چند سکے ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے بھی ڈال دیتا۔
کیا سٹوڈیوز میں تب بھی نیوز منیجرز اینکرز کو یہی ہدایات جاری کرتے کہ پاکستان ٹوٹنے کی خبر زور لگا کر، انرجی کے ساتھ، لاوڈ ہو کر پڑھو؟؟ کیا تب بھی نان سٹاپ لائیو کوریج جاری رہتی؟ کیا تب بھی جنرل اروڑا اور نیازی صاحب کے دستخط کرنے فوٹیج بار بار دکھائی جاتی ؟کاش کہ یہ کہا جائے کہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لو بھائی۔
سچ اور حقیقت نیوز روم سے پرے، کیمروں سے دور ، مائیک کے اس پار ہے جہاں تک نہ کوئی جانا چاہتا ہے اور نہ کسی کی رسائی۔ذمہ دار صحافت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے متعلق سوال بہت ہیں لیکن ہیچ آرزو مندی کہ جواب نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اس خاکسار کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک میں پرائیویٹ میڈیا کی لائف چار مراحل پر مشتمل ہوتی ہے،یہ بڑے مان سے چاو ٴسے نت نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ منظر عام پر آتا ہے، ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے رنگ برنگی آئیٹمز پیش کی جاتی ہیں جیسے بازی گر اپنی کھیل اور تماشے سجاتے، لوگوں کو لبھاتے اور مجمع لگاتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں یہی میڈیا بگڑتا ہے بپھرتا ہے، اور سانڈھ کی مانند دندناتا پھرتا ہے، ، اپنی دھاک بٹھانے کی خاطر یہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ہمارا میڈیا آج کل اسی مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ اس سٹیج کی آخری کڑی سیچوریشن(saturation) کہلاتی ہے جب جرنلزم کی بجائے چھاپے مار پروگرامز کیے جاتے ہیں، ، پریس ریلیز اور لائیو کٹ کے ساتھ ساتھ بریکنگ کے پھٹے نجات دہندہ کے طور پر کام آتے ہیں، اور یہی سب سے کٹھن سٹیج کہلاتی ہے۔
بلوغت کا یہ مرحلہ مناسب رہنمائی نہ ملنے پر بازاری حکیموں کی دکانوں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان دنوں ہمارا میڈیا بھی چند حکیموں کے ٹوٹکوں کے سہارے جی رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہی چینل کامیاب رہتے ہیں جو معیار کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، اس بیچ کئی چینلز ماضی کا حصہ بنتے ہیں اور چند ایک نکھر کردوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں۔
ہمارے میڈیا کا اگلا پڑوا یہی پختگی اور سنجیدگی ہے لیکن اس سٹیج تک پہنچتے پہنچتے ابھی وقت لگے گا، مزید بے ہنگم نشریات دیکھنا ابھی باقی ہیں۔
جرنلزم کے طالب علم کی حیثیت سے کچھ بنیادی باریکیوں کا علم ضرور ہے، ایک اصطلاح ہوتی ہے، گیٹ کیپر کی ، نیوز روم میں گیٹ کیپر کا وہی کردار ہوتا ہے جو کسی گھر کی رکھوالی پر معمور ایک سکیورٹی گارڈ یا چوکیدار کا ہوتا ہے، کہ کوئی بھی غیر ضروری شے گھر داخل نہ ہو سکے، اور جو اندر داخل ہو اس کی مکمل جانچ پڑتا ل کو یقینی بنایا جائے، مبادا کوئی چور بدمعاش اندر داخل نہ ہو جائے۔
مگرکیا ہمارے ہاں نیوز روم کے گیٹ کیپرز ایسا کردار ادا کر پار ہے ہیں؟ یہ ایک بہت طویل بحث ہے کہ بہت سے جنیوین صحافی بھی کنٹرولر نیوز یا ڈائریکٹر نیوز کے عہدوں پر فائز ہو کر بھی ایسا کیوں نہیں کر پاتے۔ اس مدعے کے کُھرے مالکین سے جا ملتے ہیں اور یہ موضوع انتہائی بے باکی کا طالب ہے جسے فی الحال خلاصہ سمجھ کر ڈنگ ٹپائیں۔
چار پانچ سال پہلے معلوم ہوا کہ تقریباً سبھی ٹی وی چینلز کے نیوزڈائریکٹرز کا اکٹھ ہوا ہے اور انہوں نے اپنے تئیں ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دیا ہے جس کے تحت سنسنی ، خون ریزی، دہشت گردی کی کاروائیوں اور دیگر حساس مواد کی بے دریغ نشریات کی حوصلہ شکنی مقصود تھی،نا چیز ان دنوں ایکسپریس نیوز کے ساتھ وابستہ تھا اور چند ہفتوں کے لیے اس ضابطہ اخلاق پر تمام چینلز کو عمل پیرا ہوتے بھی دیکھا۔
لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ چور چوری سے جائے سینہ زوری سے نہ جائے، ایک بڑے ادارے نے Exclusive کے چکر میں اس ضابطے کی دھجیاں بکھیر دیں اور پھر ہمسائیوں نے بھی ساتھ والی کا منہ لال دیکھ کر اپنا منہ تھپڑوں سے لال کر ڈالا۔
ناچیز ذاتی طور پر بحیثیت صحافی اس بات کا قائل ہے کہ میڈیا کو سرکار کے ضابطے سے نہیں بلکہ خود ساختہ ضابطہ اخلاق سے ہی ریگولیٹ (regulate)کیا جاسکتا ہے۔
قد آور اور جید صحافی بابوں کی ہمارے ہاں ہر گز کمی نہیں، یہ بابے جو یقیناً ہمارے لیے نہایت قابل قدر ہیں اور ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اگر چند دنوں کے لیے سوشل میڈیا پر لعن طعن بند کر کے سر جوڑ کر سبھی کو ایک میز پر لانا چاہیں تو یہ ان کے لیے کسی طور بھی مشکل نہیں ہوگا۔
رہی بات ٹی وی پر نمودار ہونے والے چہروں کی، تو خدا را کبھی سی این این، بی بی سی ورلڈ یا کوئی بھی یورپی یا امریکی ٹی وی دیکھ لیا کریں، وہاں ہر عمر، قبیل اور نسل کے مردوزن خبریں پڑھتے اور پروگرام کرتے دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
ان اداروں کی سکرین پر (ابھی حال ہی میں آف ائر ہونے والے)نک گوئنگ جیسے بزرگ اینکرز بھی سکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں، ان کے ہاں رچرڈ کوئسٹ جیسے اینکرز بھی پائے جاتے ہیں جو بزنس نیوز جیسے خشک موضوع کو بھی بے حد غیر رسمی اور دلچسپ انداز میں ناظرین تک پہنچاتے ہیں اور ان ہی کے ہم پلہ چینل میں سٹیفن سکر جیسے ماہر انٹرویو کار بھی پائے جاتے ہیں جو بال کی کھال اتارنے کی بجائے دلیل اور منطق سے بات کرتے ہیں۔
یہ وہ ادارے ہیں جہاں ٹی وی سکرین پر سج دھج کر بیٹھنے سے پہلے کئی برس کشٹ کاٹنا پڑتا ہے، یہاں اینڈرسن کوپر کو فیکس مشین آپریڑ بھی بننا پڑتا ہے، نیوز روم میں کاپی ڈیسک پر کام کرنا پڑتا ہے، سالوں تک جنگی محاذوں اور قدرتی آفات کی رپورٹنگ بھی کرنا پڑتی ہے اور پھر جا کہ کہیں آپ جناب اے سی تھری سکسٹی جیسے پروگرام کے میزبان بنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال بالکل برعکس ہے؛ کم عمر ، ناپختہ کار اورادارت کی سوجھ بوجھ سے محروم بچے اور بچیاں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی نشریات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایسے نامور اینکرز بھی پائے جاتے ہیں جو یہ سوال کرتے پائے جاتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کیا فرق ہوتا ہے۔
میڈیا کی آزادی پر قدغن کسی طور پر قابل قبول حل نہیں ، خبر کی بے شمار تعریفیں ہیں لیکن جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے والے ٹوٹکے نہ صحافت کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی عوام کی۔ پیسہ کمانے اور ریٹنگ بڑھانے کی دوڑ میں سچ، حقیقت اور خبریت کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر شاید ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، ایک کالم کا پیٹ ایسے ضخیم موضوع سے بھرنا کسی قدر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ کوشش رہے گی کہ اس اہم مدعے پر مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے اظہار رائے جاری رکھا جائے ۔(جاری ہے)
نوٹ: ناچیز کی رائے سے اختلاف کرنا آپ کا بنیادی حق ہیں، اسی ضمن میں آپ مجھے پرکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ شکریہ
تاریخ اشاعت: 2014-06-12

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان