بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی پولیس کا افسانوی کردار
چودھری محمد اسلم کی شہادت نے حکومت‘ پولیس اور عوام کو دھلا دیا تحریک طالبان پاکستان نے اعتراف کیا کہ چودھری اسلم نے تحریک کو بہت نقصان پہنچایا۔ انہوں نے سپارکو کی بسوں میں دھماکے کرنے والے ملک دشمنوں کو بھی پکڑا تھا

شہزاد چغتائی:
کراچی پولیس کے بہادر افسر ایس ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد اسلم دہشت گردی‘ انتہا پسندی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی ایک ایسی دیوار تھے جس کو دہشت گردوں نے کئی بار گرانے کی کوشش کی اور آخرکار 9 جنوری کو کراچی پولیس کا افسانوی کردار ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا۔ کراچی میں سرگرم دہشت گرد گروپوں‘ انتہا پسندوں‘ مافیا‘ گینگ وار گروپوں اور جرائم پیشہ افراد کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی جن سے چودھری کئی سال سے نبرد آزما تھے۔

کراچی میں دہشت گردوں‘ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف وہ تنہا جنگ لڑ رہے تھے جن کے خلاف چودھری محمد اسلم نے اس قدر کامیابیاں حاصل کی تھیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ ہر بم دھماکے کے بعد سب سے پہلے پہنچتے تھے اور شیر کی طرح دہشت گردوں پر جھپٹتے تھے۔ چودھری اسلم پر ایک سے زائد بار خودکش حملے کئے گئے‘ ان کے گھر کو بموں سے اڑا دیا گیا لیکن وہ پھر بھی سینہ سپر رہے۔
ان کی شہادت کے بعد یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا اب کراچی کو انتہا پسند یرغمال بنا لیں گے اور نیز یہ کہ اب کالعدم تنظیموں کو کون کنٹرول کرے گا؟ وہ پاکستان بالخصوص کراچی میں دہشت گردی کے واحد ایکسپرٹ تھے اور کئی سال سے دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں سے نبرد آزما تھے۔ کراچی میں ہونے والے ہر آپریشن میں ان کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد حکومت سندھ نے چودھری اسلم کیلئے 2 کروڑ اور دیگر جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کیلئے 20-20 لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا۔

چودھری محمد اسلم کی ہلاکت کی خبر کراچی پولیس پر بجلی بن کر گری۔ مقتول کے حامی اور مخالفین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کا خلاء پورا نہیں ہو سکتا‘ کراچی پولیس کا یہ اتنا بڑا نقصان ہوا ہے کہ فوری طور پر پولیس کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔چودھری اسلم کی ہلاکت معمہ بن گئی۔ واردات کے بعد یہ بات موضوع بحث بنی رہی کہ دھماکہ کیسے ہوا۔ ایس پی راجہ عمر خطاب نے کہاکہ دھماکہ خودکش تھا۔
لیکن ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔ خیال ہے کہ دھماکہ خیز مواد ان کی گاڑی میں رکھ دیا گیا تھا جس کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ اڑایا۔ اس لحاظ سے ان کی موت بھی پْراسرار بن گئی۔ آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے اعتراف کیا کہ چودھری اسلم کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ آئی جی سندھ کہتے ہیں کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ کیا گیا۔
دھماکہ میں 25 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ یہ افواہ بھی اڑتی رہی کہ صبح چودھری اسلم نے تین دہشت گردوں کو منگھوپیر میں پولیس مقابلے میں ہلاک کر کے جو 100 کلو گرام مواد برآمد کیا تھا وہ گاڑی میں رکھا ہوا تھا جو کہ پھٹ گیا۔ کراچی میں اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ کراچی کی سیکورٹی پر مامور ہائی پروفائل افسر کیلئے حکومت کے اقدامات کیا تھے؟ اس واردات میں ان کی گاڑی کے پرخچے اڑ گئے حالانکہ ان کی گاڑی بلٹ پروف تھی۔
جہاں سانحہ ہوا وہاں ایک ٹیکسی کھڑی تھی جس میں کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ عیسیٰ نگری میں ان پر ہونے والا یہ حملہ دوسرا تھا پہلا حملہ عید سے قبل ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے اور دہشت گردوں نے چودھری اسلم کے دھوکے میں میونسپل کمشنر متانت علی خان کے قافلے کو اڑا دیا تھا چودھری محمد اسلم راستہ بدل کر سفر کرتے تھے۔ سر شاہ سلیمان روڈ کا روٹ شاید ان کا پسندیدہ راستہ تھا۔

چودھری محمد اسلم کی شہادت کے بعد حکومت اور پولیس ہل کر رہ گئی اور دہشت گردوں‘ مافیا‘ جرائم پیشہ افراد‘ انڈر ورلڈ اور گینگ وار گروپوں سے نمٹنے کیلئے اس کے عزم کو دھچکا لگا۔ اس کے ساتھ کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن سوالیہ نشان بن گیا اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی ازسرنو مرتب کرنا ناگزیر ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ بم چودھری اسلم کی گاڑی کے اندر موجود تھا اور پولیس کی کوئی کالی بھیڑ سازش میں شریک تھی جس نے معلومات فراہم کیں۔
اس طرح گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگ گئی۔
تحریک طالبان نے اعتراف کیا کہ چودھری اسلم نے تحریک کو بہت نقصان پہنچایا۔ انہوں نے سپارکو کی بسوں میں دھماکے کرنے والے ملک دشمنوں کو بھی پکڑا تھا۔ گزشتہ دنوں ان کے ساتھ پولیس مقابلے میں کالعدم تنظیم کے لیڈر گل حسن 6 ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ پولیس مقابلہ جنجال گوٹھ میں ہوا تھا۔
چودھری محمد اسلم کے قتل کی ذمہ دای حسب معمول طالبان نے قبول کر لی اور انہوں نے چودھری اسلم کی ہلاکت کو اپنے شہداء سے منسوب کر دیا۔ لیکن باخبر حلقے یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ان کا استدلال ہے کہ چودھری محمد اسلم کو شہید کرنے کیلئے جو جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی وہ طالبان کے پاس نہیں ہے۔ یہ سانحہ اس قدر مہارت سے کیا گیا کہ اب تک کراچی پولیس یہ تعین نہیں کر سکی کہ دھماکہ کیسے کیا گیا کیونکہ سڑک پر کھڑی ہوئی کسی گاڑی میں دھماکہ ہوتا تھا سڑک پر گڑھا پڑتا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ چودھری اسلم کی گاڑی بلٹ پروف تھی۔ ایس ایس پی چودھری محمد اسلم کی شہادت پر اقتدار کے ایوانوں سے لے کر سیاسی حلقے سوگ میں ڈوب گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو نے مرحوم کو ”میرا ایس ایس پی“ قرار دیا۔ وزیراعظم نوازشریف‘ آصف زرداری‘ الطاف حسین‘ عمران خان‘ شہباز شریف‘ گورنر سندھ عشرت العباد‘ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور وزیر بلدیات شرجیل میمن نے ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ وہ ایک بہادر افسر تھے۔

کراچی میں اب تک ہونے والے تمام آپریشنز میں چودھری اسلم کاکردار کلیدی تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاری آپریشن کی ذمہ داری بھی چودھری اسلم کو سونپی تھی جس کے بعد لیاری میں پیپلز پارٹی کے رہنماء ان کے خلاف ہو گئے تھے اور جمعرات کو ان کی شہادت کے بعد لیاری میں جشن منایا گیا۔ پولیس کے جوان چودھری اسلم کو سپر ہیرو قرار دیتے تھے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-13

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان