بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی کا بدلتا منظر
ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے دو چار۔۔۔۔۔ مقدمہ چاہے منی لانڈرنگ کا ہو یا عمران فاروق کے قتل کا برطانوی قانون میں دونوں ہی سنگین جرائم میں شمار ہوتے ہیں
سلیم بخاری:
منیر نیازی مرحوم اعلیٰ پائے کے شاعر تو تھے ہی مگر انہوں نے اپنے ارد گرد کے مسائل کو آب بیتی کے طور پر اپنے شعروں میں سمانے کا ملکہ بھی حاصل کیا۔ ذرا دیکھئے ان کا یہ شعر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو درپیش حالات کی کس قدر مناسب نمائندگی کرتا ہے۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
ابھی تو الطاف بھائی لندن میں جاری دو مقدمات جو نوعیت کے اعتبار سے خوفناک ہیں، سے ہی نہیں نپٹ پائے تھے کہ ان کے پایہ تخت کراچی کا منظر نامہ اس تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آ پا رہی کہ ڈوریاں کہاں سے کون ہلا رہا ہے۔
مقدمہ چاہے منی لانڈرنگ کا ہو یا عمران فاروق کے قتل کا برطانوی قانون میں دونوں ہی سنگین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان کی طیر تمام شواہد مہیا کرنے اور گرفتار ملزموں تک سکاٹ لینڈ یارڈ اور میٹروپولیٹن پولیس کو رسائی دینے سے صورت حال کو اور بھی گھمبیر کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کے اندر کی توڑ پھوڑ، کارکنوں کی گرفتاریاں اور رینجرز سے تعلقات میں کشیدگی نے الطاف بھائی کے لیے نت نئے مسائل کھڑے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔
وہ کراچی جہاں بھائی بھائی کے لیے نت نئے مسائل کھڑے کرنے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ وہ کراچی جہاں بھائی کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا وہاں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو نہ صرف ان کی مرضی کے خلاف ہے بلکہ ان کے لیے قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے حالات سے مجبور ہو کر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر ایسی تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے خلاف تشدد اور ٹارچر کا نوٹس لیں مگر اس سے پہلے تو انہوں نے اقوام متحدہ، نیٹو، اور امریکہ سے اپنی فوجیں کراچی بھجوانے کا مطالبہ کرکے اپنے مخالفین کو ایک سنہری موقع فراہم کر دیا کہ وہ انہیں وطن دشمنی کے نام پر کڑی تنقید کا نشانہ بنائیں جب ان اقدامات سے بات نہ بنی تو انہوں نے اپنی پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی و سینٹ کو استعفے دینے کے احکامات جاری کر دیئے جن پر مکمل عملدرآمد ہوا اور وہ جو یہ توقع لگا کر بیٹھے تھے کہ استعفوں کے معاملے پر ایم کیو ایم میں بغاوت ہو جائے گی ان کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔
دوسرا جھٹکا ایم کیو ایم کو یہ لگا کہ لندن اور کراچی کی رابطہ کمیٹیوں نے جمعہ کے روز ہڑتال کی جو کال دی اور جس پر رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا کہ کوئی ہڑتال، نہیں ہو گی اور جو بھی زبردستی دوکانیں بند کرائے گا اس کے خلاف ایکشن ہو گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ تیس برسوں میں یہ پہلی بار ہوا کہ ایم کیو ایم کو ناکامی سے بچنے کے لیے ہڑتال کی کال واپس لینی پڑی اور ایم کیو ایم کی کراچی شہر پر گرفت کا بھانڈہ بھی بیچ چوراہے پھوٹا ۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی پارٹی نے الطاف بھائی کو بہت پریشان کر رکھا ہے اب ذرا استعفوں کے بعد کی صورت حال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ الطاف بھائی نے یہ فیصلہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد انہیں واپس لینے کی تحریک کا ڈرامہ شروع ہو جائے گا اور نہ ہی ارکان نے یہ استعفے اس خیال کے پیش نظر دیئے تھے کہ منظور تو ہونے نہیں۔
میری رائے میں استعفے دینے کا انداز بتا رہا تھا کہ اس میں کسی قسم کی منافقت کا کوئی دخل نہیں کیونکہ آئینی طور پر جو طریقہ ہوتا ہے اسے پورا کیا گیا یعنی ہر رکن نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ خود سپیکر کو پیش کیا اور کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ جس سے یہ شک بھی ہو کہ ایسا کسی دباووٴ کے تحت کیا جا رہا ہے پھر سپیکر صاحب لیت و لعل سے کام کیوں لے رہے ہیں اس کا جواب تو ایاز صادق صاحب خود ہی دے سکتے ہیں مگر بظاہر یوں لگتا ہے کہ ان کی منظوری میں تاخیر کی ہدایت وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بیلا رس کے سرکاری دورے کے دوران دی تھی۔
غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسمبلیوں میں کوئی توڑ پھوڑ ہوئی تو پورے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دی جائے گی شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے استعفے بھی انہوں نے سپیکر کو منظور کرنے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کو کن شرائط پر منایا ہو گا یہ تو اللہ جانتا ہے تاہم ان دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی قراردادیں واپس لے کر وہ ماحول بنایا کہ پی ٹی آئی عزت مندانہ طریقے سے اسمبلیوں میں واپس آ سکے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکافات عمل ہے دو دہائیاں قبل کراچی سے جماعت اسلامی کی رٹ کو بھی خود، ایم کیو ایم نے یونہی رخصت کیا تھا مگر اس جواز میں کچھ زیادہ جان نہیں کیونکہ وہ حالات بہت ہی مختلف تھے۔ آج ایم کیو ایم جہاں کھڑی ہے اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں پہلی یہ الطاف نے فوج اور رینجرز کے خلاف یہ سوچے بغیر کہ موجودہ آرمی چیف کو دھمکیوں سے ڈرانا ممکن نہیں ایسے بیانات جاری کیے جنہیں در گزر نہیں کیا جا سکتا وہ جنہیں خود فوج کا اپنا مہرہ تصور کیا جاتا تھا وہ اگر اپنے خالقوں کو ہی دشنام طرازی کا نشانہ بنائیں اور یہ بھی بھول جائیں کہ حالات وہ نہیں رہے جہاں ایک آرمی چیف کو بلیک میل کیا جا سکتا ہو تو نتائج کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔
دوسری بڑی وجہ پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی اپنی قیادت سے بے وفائی ہے جس کا ذکر خود الطاف حسین کرتے رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بے شمار مرتبہ رابطہ کمیٹی کو توڑا اور وسیع پیمانے پر برطرفیاں کیں۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ لوگ مال بنا کر پارٹی کے ڈسپلن سے منحرف ہو گئے ہیں۔ مصطفےٰ کمال، فیصل سبزواری، بابر غوری اور رضا ہارون جیسے پارٹی رہنما اب کہاں روپوش ہیں الطاف کو ایک طویل عرصے تک لاعلم رکھا گیا اور جب بھائی کو صورت حال کا علم ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔
استعفوں کے حوالے سے اب صورتحال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے تاریخ میں پہلی بار 90 جاکر ایم کیو ایم کو اسلام آباد آ کر مذاکرات کرنے پر آمادہ کر لیا ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شاید بات بن جائے گی اور استعفے واپس لے لیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ تو شاید کراچی ہی میں ہو جاتا مگر رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے نے اس میں تاخیر کر دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم استعفے کن شرائط پر واپس لیتی ہے اگر اس کی خواہش یہ ہے کہ کراچی آپریشن ترک کر دیا جائے تو یہ ہوتا تو دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایسا کرنا شاید اب صرف نواز شریف کے بس میں نہیں۔
پیر کو وزیر اعظم کی ملاقات جنرل راحیل اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ہوئی جس میں یقینا یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا ہو گا۔ فوج دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر کوئی سمجھوتہ کرتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ایک بڑی تعداد میں افسروں اور جوانوں نے جانوں کے نذرانے دے کر ایسی صورت حال پیدا کی ہے جہاں دہشت گرد بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا کسی معمولی جواز کو بنیاد بنا کر کئے کرائے پر پانی تو پھیرا نہیں جا سکتا۔

ادھر الطاف حسین نے 90پر اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر قیادت سے الگ ہونے کا عندیہ دیا ہے مگر وہ ایسا بیسیوں مرتبہ کر چکے ہیں اور پھر وہ 90پر موجود اپنے ورکروں کی آہ و بقا کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں یقینا اس دفعہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کو بار بار تبدیل کرنے سے توازن برقرار رکھنا شاید ایم کیو ایم کی قیادت کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے نے صورتحال کواور بھی پیچیدہ کر دیا ہے۔ چند ہفتے قبل گوڈیل بھائی کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے ہٹا دیا گیا تھااور جب کل انتہائی اہم نوعیت کے مذاکرات کے لئے مولانا فضل الرحمن 90پر آئے تو رشید گوڈیل کو کن وجوہات کی بنا پر ایم کیو ایم کے وفد میں شامل نہیں کیا گیا یہ سوال اٹھ رہے ہیں۔یہ ہیں وہ حقائق جن کا الطاف بھائی کو سامنا ہے اور جس کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ کراچی کا منظر بدل رہا ہے اور الطاف بھائی پر کڑا وقت ہے۔ مگر وہ بحرانوں سے نپٹنے کے ماہر ہیں کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان