بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی سنٹرل جیل توڑنے کی ناکام کوشش
منجری نہ ہوتی تو دہشتگردوں کا منصوبہ کامیاب ہوچکا ہوتا۔۔۔۔ کراچی جیل سے ملحقہ علاقہ میں مکانات کی خریداری، گھر کرائے پر دینے کے معاملات سے لے کر غیر متعلقہ افراد کی آمد تک پر نگاہ رکھی جاتی ہے
الطاف مجاہد:
کراچی سینٹرل جیل سے سرنگ کے ذریعے دہشتگردوں کے فرار کا منصوبہ قومی سلامتی کے ادارے اور رینجرز نے ناکام بنا دیا۔ کافی عرصے سے خبریں مل رہی تھیں کہ کراچی جیل کو توڑنے اور یہاں مقید خطرناک ملزمان کو فرار کرانے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ ایسی ہی اطلاعات کے بعد کراچی سے خطرناک قیدیوں کو خیر پور، حیدر آباد، سکھر اور دیگر جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
اسکے باوجود کراچی جیل میں 100 کے لگ بھگ ایسے خطرناک قیدی موجود تھے، جنہیں دہشتگرد فرار کرانا چاہتے تھے۔
دس اورگیارہ اکتوبر کی شب دیر گئے رینجرز نے قومی سلامتی ادارے کے ہمراہ کراچی سینٹرل جیل سے ملحقہ غوثیہ کالونی کے مکان نمبر JA-301 پر چھاپہ مارا تو 5 دہشتگرد گرفتار ہوئے۔ اس گھر میں پانی کے زیر زمین ٹینک سے کراچی جیل کی سمت ایک سرنگ کھودی جا رہی تھی۔
جس کا 45 میٹر کام مکمل تھا اور بمشکل 10 میٹر کی کھدائی باقی تھی جس کے بعد دہشت گرد بیرک نمبر 24 اور 25 تک پہنچ جاتے۔ تین فٹ چوڑی اور پانچ فٹ اونچی سرنگ سے مٹی ٹرالی کے ذریعے کھینچی جاتی تھی۔ زیر ز مین ٹینک پرنصب لفٹ مشین بھی نکالی گئی۔ مٹی بوریوں میں بھر کر سوزوکی کی ذریعے باہر لیجائی جاتی تھی۔ اس دوران اہل علاقہ کو مشکوک سرگرمیوں کے باعث تشویش ہوئی تو بات آگے پہنچائی گئی اورملزمان دھر لئے گئے۔

کراچی جیل سے ملحقہ علاقہ میں مکانات کی خریداری، گھر کرائے پر دینے کے معاملات سے لے کر غیر متعلقہ افراد کی آمد تک پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔ 80 کی دہائی میں سکھر جیل توڑ کر سزائے موت کے قیدیوں کو آزاد کرایا گیا تھا۔ حال ہی میں بنوں جیل بھی نشانہ بنی تھی۔ بلاشبہ جیل کے اطراف میں اور اندر انتظامات انتہائی سخت ہیں لیکن اس کے باوجود وکچھ ہوتا رہا جو ہالی وڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا اور جاسوسی ناولوں میں پیش کیاجاتاہے۔
مجرم اپنے کام میں مہارت کے حامل معلوم ہوتے ہیں کہ اس سرنگ کے اطراف اور فرش پر وہ لکٹر کے تختے نصب کر رہے تھے تاکہ زیر زمین موجود پانی اُن کیلئے مشکلات پیدا نہ کرے۔ ساتھ ہی کھدائی کے دوران نکلنے والی مٹی سے لدی ٹرالی بآسانی باہر نکل سکے۔
غوثیہ کالونی کایہ مکان جس شخص نے فروخت کیا وہ کراچی پولیس میں ملازم بتایا جاتا ہے اوریہ مکان مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدا گیا تھا ۔
جیل توڑنے کیلئے دہشت گردوں نے اچھی خاصی اسٹڈی کی تھی۔ پروگرام کے مطابق یہ گھر محض اسلئے پسندیدہ قرارپایا تھا کہ یہ جیل کی دیوار کے عین سامنے واقع تھا پھر یہ کہ کھدائی اس طرح شروع کی گئی کہ جس قدر جلد ہو سکے ہدف تک پہنچا جا سکے تاکہ کراچی جیل میں مقید اپنے ساتھیوں کو سرنگ کے راستے غوثیہ کالونی والے مکان پر لاکر باہر فرار کی اسکیم پر عمل درآمد ہوسکے۔
منصوبہ ہر اعتبار سے مکمل تھا۔ بظاہر کوئی سقم بھی نظر نہیں آرہا تھا لیکن زیرک اور چالاک مجرم بھی کہیں نہ کہیں غلطی کر بیٹھتا ہے۔ ایسا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہوا۔ ملزمان سرنگ کی کھدائی سے نکلنے والی مٹی روزانہ بوریوں میں بھرتے اور علاقے سے باہر لے جاتے تھے۔ یہ سرنگ غوثیہ کالونی والی گھر کے زیر زمین ٹینک سے اسلم شہید روڈ اور جیل کی باوٴنڈری وال سے ہوتی ہوئی کراچی جیل کی حدود میں پہنچ چکی تھی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کراچی جیل کے متردکہ سیوریج سسٹم سے متعلق بھی نقشے اور معلومات دہشت گردوں کو میسر تھی۔ اگریہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو جیل سے وہ قیدی بآسانی فرار ہو جاتے جسن کی سکیورٹی پر لاتعداد اہلکار تعینات ہیں اور کروڑوں روپے سکیورٹی کی مد میں خرچ کئے جاتے ہیں۔ پولیس نے ٹیلی فون سسٹم جام کرنے، یونیورسٹی روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر نے کوہی سب کچھ تصورکر لیا تھا۔
حالانکہ سب کچھ اس کی ناک کے تلے ہو رہا تھا بالخصوص ان حالات میں جیل کی بیرونی سکیورٹی پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اندورنی معاملات محکمہ جیل خانہ جات کے سپردہیں۔
منصوبہ کی کڑیاں کچھ اس طرح جوڑی گئی تھیں کہ ایام عاشور میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی جاتی اور جب پوری انتظامیہ کو وہاں مصروف کر دیا جاتا تو کراچی جیل میں مجرموں کے فرار کے منصوبے پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ بظاہر نہ آتی۔

کراچی سینٹرل جیل سے مجروموں کے فرار کا منصوبہ ہالی وڈ اسٹائل بیان کیاجا رہا ہے۔ جیل توڑنے کی کوشش کرنے والوں نے غالباََ 80 دہائی میں بننے والی ”فتح کی جانب فرار“ نامی فلم سے آئیدیا لیا تھا جس میں فٹ بال میچ کے دوران ہنگامے کے ساتھ ہی قیدی ہجوم میں شامل ہوکر فرار ہو جاتے ہیں یا پھر ایک اور فلم میں ایک جزیرے سے قیدی فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر بیوی کے قتل کیس میں مقید شخص بھی فرار کیلئے سرنگ کھودنا شروع کرتا ہے۔

غوثیہ کالونی کے مکان سے تو مجرموں کو محض 55میٹر سرنگ کودنی تھی جسے آگے جا کر ایک غیر استعمال کنویں سے ملانا تھا 45 میٹر سرنگ کودی جا چکی تھی اور صرف 10 میٹر کی کھدائی باقی تھی۔ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان کہتے ہیں جس مکان میں کھدائی ہو رہی تھی ، اس کی چھت پر بھی نصف درجن پولیس اہکار ڈیوٹی دیتے تھے جبکہ اب تمام جیلوں کی فول پروف سکیورٹی کا حکم دیا گیا ہے اورکراچی جیل کی بیرون شہر منتقلی پربھی غور کیاجا رہاہے۔
ماضی میں بھی اس تاریخی قید خانہ کو کراچی ٹھٹھہ شاہراہ اور کراچی حیدر آباد سپرہائی وے پر منتقلی کی تجویز پر غور ہوا تھا۔ اس جیل میں مولانامحمد علی جوہر ، مولانا انثار احمد کانپوری ، پیر غلام مجدد سرہندی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، الطاف حسین سمیت درجنوں اہم شخصیات قید رہ چکی ہیں۔
ایک تجویز پر ہای وے سبزی منڈی کے اطراف میں جیل کی تعمیر کی بھی گئی ہے۔
اب جبکہ سندھ اسمبلی کی تاریخی عمارت کے عقب میں نئی اسمبلی تعمیر ہو چکی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس بلڈنگ کو بیرون شہر منتقل کر کے کھربوں روپے کی یہ جگہ ارکان اسمبلی محکمہ پولیس اور دیگر اداروں کی ہاوسنگ سوسائٹی بن جائے کیونکہ یہ ہماری قومی سیاسی تاریخ کا اثاثہ ہے جہاں ہمارے اہم رہنما قیدی رہے اور اس جیل میں بہت تاریخی مقدمات چلے۔
پیر علی محمد راشدی نے اپنی تصنیف ”انے ڈینھن اھے شیخن“ وہ دن وہ شیر لوگ میں لکھا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل شہر کے باہر تھی اور میں نے اس کے اطراف میں تیتر کا شکار کھیلا تھا جو یہاں وافر موجود تھے۔
لیکن اب کراچی جیل سے کافی دور سوکک سینٹر کو کراچی کا قلب کہا جاتاہے۔
رینجرز کے جنرل اسٹاف کرنل طاہر محمود نے صحافیوں کی بتایا کہ پکڑے گئے ملزمان سے تو اسلحہ نہیں نکلا لیکن اُن کی نشاندہی پر گرفتار ملزمان سے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ البتہ کراچی جیل سے ملحقہ مکان سے ایسے حساس آلات ضرور ملے تھے جن سے ملزمان کو سرنگ کی کھدائی کے دوران ہدف تک پہنچنے میں مدد ملتی تھی۔
اُنہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مجرموں کے خلاف معلومات ہوں تو ہیلپ لائن نمبر 1101 پر دیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پکڑے گئے، ملزمان القاعدہ اور طالبان سے تعلیق رکھتے ہیں اور اُنہیں جیل کے اندر موجود نیٹ ورک کی معاونت میسر تھی۔
کراچی ائیرپورٹ اور ڈاکیا رڈ حملے کے بعد اب کراچی جیل توڑنے کی کوشش نے قومی سلامتی کے اداروں کو چونکا دیا ہے۔
وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں جو آپریشن ضرب عضب اور کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی ناکامی کیلئے مصروف عمل ہے ۔ ایساہی منصوبہ ایام عاشور میں کراچی جیل کے مین گیٹ پربارود سے لدی گاڑی ٹکرانے کا تھا تاکہ انتطامیہ وہاں مصروف ہو اور غوثیہ کالونی کے مکان نمبر JA301 سرنگ سے جیل میں داخل ہونے والے دہشتگردبیرک 24 اور 25 کی کوٹھریوں کے تالے توڑ کر اپنے قیدیوں کورہا کرانے کے بعد سوکھے کنویں میں سیڑھی لگا کر اترتے اور بذریعہ سرنگ فرار ہو جاتے لیکن یہ سب کچھ ناکام ہو گیا۔
حالانکہ دہشتگرد تکینکی طور پر کراچی جیل کی حدود میں داخل ہوچکے تھے اور اس منصوبے پر ان کے ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ روپے کے لگ بھگ خرچ بھی ہو چکے تھے ۔ اب حکومت سندھ کراچی جیل کی شہر سے باہر منتقلی کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی دیگر جیلوں میں منتقلی کے آپشن پر بھی غور کرہی ہے۔ نیز کراچی سمیت تمام جیلوں میں تعینات عملے پر بھی نظر ثانی کی جار ہی ہے تاکہ کالعدم تنظیموں سے مراسم رکھنے والے اسٹاف کو ہٹایا جاسکے۔

بلاشبہ تمام اقدامات اور انتظامات ضروری ہیں کہ آئندہ کیلئے بھی روک تھام کی جا سکے لیکن اس بار اتنا کچھ کیسے ہو گیا؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ مجرم اپنی کسی غلطی سے پکڑے گئے یا حساس اداروں کی حکمت عملی سے؟ ہر دو صورتوں میں مجرموں کی ناکامی ہوئی اور وہ لب بام پہنچ کر بھی کمند ٹوٹنے سے ناکام ٹھہرے
تاریخ اشاعت: 2014-10-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان