بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی ایئرپورٹ حملہ کے معیشت پر اثرات
جس روز کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوا اس سے اگلے دن سٹاک ایکسچینج کا انڈکس بدترین طور پر گرا۔ اس سے پہلے جس روز لندن میں منی لانڈرنگ کیس پر الطاف حسین کو حراست میں لے گیا اس روز بھی سٹاک ایکسچینج میں شدید مندا رہا
احمد جمال نظامی:
کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد غیرملکی سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر تذبذب اور خوف کا شکار ہونے لگے ہیں، حکومت کی طرف سے گذشتہ ایک سال کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے جس قسم کے اقدامات اٹھائے گئے تھے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو جس بھرپور انداز میں پاکستان لایا جا رہا تھا کراچی ایئرپورٹ حملے، اس کے بعد دہشت گردی کے پے در پے واقعات اور امریکہ کی طرف سے گذشتہ روز 2014ء میں پہلی مرتبہ ڈرون حملہ کرنے کے بعد غیرملکی سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے یا نہیں؟۔
موجودہ حکومت کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں، ڈرون حملوں کو بند کروانے میں کامیابی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں لا کر توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کروانے اور مختلف صنعتی منصوبہ جات کے لئے یادداشتیں دستخط کرنے کے بعد پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کا رخ پاکستان کی طرف ہونے جا رہا تھا، بالخصوص چین کی طرف سے پاکستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور پاکستان کو یورپین یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پوری دنیا کے سرمایہ کار پاکستان میں سپننگ کی انڈسٹری میں بطور خاص سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہے تھے۔
براہ راست سرمایہ کاری کے علاوہ بالواسطہ طور پر بھی سرمایہ کاری کا سلسلہ اس انداز میں شروع ہونے کو تھا کہ غیرملکی خریدار پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کے خام مال کے طور پر استعمال ہونے والی کاٹن اور دھاگے کو حاصل کرنے کے لئے اپنے بھرپور ذرائع استعمال کر رہے تھے۔
کراچی ایئرپورٹ حملے کے بعد جہاں ہمارے ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے آگے بہت سارے سوالیہ نشانات آ کھڑے ہوئے وہاں غیرملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں معاشی و اقتصادی معاملات کو بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا کیونکہ جس روز کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوا اس سے اگلے دن سٹاک ایکسچینج کا انڈکس بدترین طور پر گرا۔
اس سے پہلے جس روز لندن میں منی لانڈرنگ کیس پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو حراست میں لے گیا اس روز بھی سٹاک ایکسچینج میں شدید مندا رہا اور نوبت یہاں تک آ گئی کہ برطانیہ کے سفارت خانے نے کراچی کے حالات و واقعات کے پیش نظر برطانوی شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ کراچی میں آمدورفت کرنے میں احتیاط کریں اور ہو سکے تو کراچی کا سفر ہی نہ کریں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، اپٹما، ملک بھر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تمام تجارتی اور صنعتی تنظیمیں معاشی و اقتصادی بحران کا ایک مرتبہ پھر رونا رونے لگی ہیں یہ بات سب پر عیاں ہے کہ چند ماہ قبل روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمتیں بڑھنے سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر چلے گئے تھے جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر کو معمول پر لانے اور بڑھانے کے لئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے یورو بانڈز کا اجراء کیا گیا اور ان بانڈز کی فروخت سے بڑی حد تک حکومت نے فارن ریمٹنس کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرتے ہوئے ان میں اضافہ کیا۔
ایک موقع پر ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں کم ہونے سے بھی ہمارے ملک کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا تھا۔ جس پر مختلف حلقوں کا احتجاج شروع ہوا تھا اور پھر انہیں کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرنا پڑا کہ خدارا روپے کے مقابلے میں برآمدی حلقوں کے برآمدی تقاضوں کے پیش نظر ڈالر کی قیمت میں مستحکم اور مسلسل استحکام برقرار رکھا جائے۔
اس کے بعد حکومت کی طرف سے گذشتہ چند ماہ میں ڈالر کی قیمت کو ایک سطح پر مستحکم رکھنے کے اقدامات اٹھائے گئے جس کی بدولت ہماری برآمدات میں کچھ بہتری آنے لگی تھی۔ برآمدات میں بہتری کی وجہ گذشتہ ماہ وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر لوڈشیڈنگ کے بحران پر کسی حد تک قابو پانا بھی تھا لیکن ان دنوں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے بجلی کا بحران ایک مرتبہ پھر خطرناک صورت حال اختیار کر چکا ہے جس سے ہماری برآمدات کسی حد تک متاثر ہوئی تھیں اور ہو رہی تھیں بلکہ ذرائع کے مطابق ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات 15 سے 18فیصد تک متاثر ہو رہی تھیں اور کراچی ایئرپورٹ حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
کراچی کے باخبر حلقے برملا اعتراف کر چکے ہیں کہ کراچی ایئرپورٹ پرحملہ اس وقت ہوا جب غیرملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کر رہے تھے۔ گوادر بندرگاہ سے بن قاسم پورٹ تک موٹروے کی تعمیر اور اس موٹروے کو چین کے صوبے کاشغر تک ملانے کے منصوبے کی بدولت غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور دلچسپی بن قاسم پورٹ پر خصوصی طور پر مبذول ہو رہی تھی اور وہ اس میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو نہ صرف تلاش کر رہے تھے بلکہ ان کو اختیار کرنے کی پالیسیاں بھی مرتب ہو چکی تھیں۔
ایک بات طے ہے کہ وطن عزیز کے تمام تر بحران اور معاشی و اقتصادی بحران کی بھی بات کر لی جائے تو ان کے حل کے لئے سب سے اولین شرط امن عامہ کی صورت حال کو یقینی بنانا ہے۔ اگر طالبان کے خلاف آپریشن بھی شروع کر لیا جاتا ہے تو بھی غیرملکی سرمایہ کاروں کو ایسا تاثر اور پیغام جائے گا کہ پاکستان میں غیراعلانیہ جنگ جاری ہے اور پاکستان حالت جنگ میں ہے۔
ایسے حالات میں کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے زیادہ سازگار حالات نہیں ہوتے۔ حکومت پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بناتے ہوئے دہشت گردی کے مسئلے پر فوری طور پر قابو پا لے۔ دہشت گردی کے واقعات پر قابو پا کر ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔ آپریشن کی صورت میں غیرملکی سرمایہ کار پاکستان کو جب حالت جنگ میں تصور کریں گے تو ایسے حالات میں کس طرح اور کیسے غیرملکی سرمایہ کاری کو یقینی بنا کر حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور ہماری پالیسیوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ ٹیکس کولیکشن اور روزگار کے مواقع کو یقینی بنا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں مربوط اور جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس کو داخلی و خارجی پالیسیوں کے ساتھ براہ راست نتھی کیا جائے۔ اسی طرح توانائی کے بحران کے حل کے لئے حکومت کی طرف سے مختلف منصوبوں کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کر دیا ہے کہ بہاولپور میں قائداعظم سولر منصوبہ اس سال کے اختتام پر مکمل کر دیا جائے۔
نندی پور پاور پراجیکٹ سے ایک ٹربائن نے کام شروع کر دیاہے اور آئندہ اس سال کے اختتام تک بقیہ تین ٹربائن پر بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر اور اسے ہر حال میں مکمل کرنے کا اعلان بھی حکومت کی طرف سے سامنے آ چکا ہے۔ داسوڈیم کی تعمیر سے4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی ، حکومت نے اس کی تعمیر کے کام کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے مثبت اقدامات کر رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سب کچھ نظر بھی آئے اور کراچی ایئرپورٹ حملے کے بعد معاشی واقتصادی شعبے میں جو تذبذب کی کیفیت پیدا ہوئی ہے حکومت اس کے تدارک کے لئے بندوبست کرے اور آئندہ کی پالیسیاں مرتب کرتے وقت ایسے تمام حالات و واقعات کو ذہن نشین رکھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان