بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی ائیرپورٹ حملہ
کیا سکیورٹی فورسز تحفظ فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں؟۔۔۔۔کراچی ائیرپورٹ پرہونیوالا یہ حملہ مکمل ریکی اور جامعہ منصوبہ بندی کے بعد کیاگیاتھا۔اس حملے کےماسٹر مائنڈ نے چھوٹے چھوٹے پوائنٹس کو بھی ذہن میں رکھاہواتھا
مصنف : سید بدر سعید
گزشتہ دنوں کراچی ائیرپورٹ پر ہونے والے حملے نے نہ صرف ہماری سکیورٹی کی صورت حال کا پول کھول دیا بلکہ عوام میں مزید عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کردیا۔ 8اور 9جون کی درمیانی رات 11بج کر 15منٹ پر کراچی ائیرپورٹ فائنرگ اور دھماکوں سے لرز اٹھا۔ لگ بھگ 10حملہ آوروں نے ائیرپورٹ پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں میں سے بعض نے اے ایس ایف کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور جعلی کارڈ بھی بناوارکھے تھے جبکہ باقی جینز پہنے ہوئے تھے۔
انہوں نے شاہین ائیر لائن کی وردیاں بھی استعمال کیں۔ دہشت گرد اولڈ ٹرمینل کے عقبی راستے سے ہائی روف میں آئے اور آتے ہی دستی بموں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ جس سے ائیرپورٹ کی بیرونی دیوار منہدم ہوگئی۔ دہشت گرد اولڈ ٹرمینل میں فوکر اور کسٹم کلئیرنگ گیٹ سے داخل ہوئے۔ اس حملے میں 7اہلکاروں سمیت 12افراد شہید ہوئے۔ دوسری جانب فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں حملہ آور مارے گئے۔

کراچی ائیرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ مکمل ریکی اور جامعہ منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا تھا۔ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ نے چھوٹے چھوٹے پوائنٹس کو بھی ذہن میں رکھا ہوا تھا۔ دہشت گدرد مکمل تربیت یافتہ تھے۔ انہوں نے تین اطراف سے حملہ کر کے کھلبلی مچانے کی کوشش کی۔ اس حملے کیلئے وقت کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ یہ اے ایس ایف اہلکاروں کی شفٹ کی تبدیلی کا وقت تھا جس کی وجہ سے اہلکار ذہنی طور پر چھٹی کے انتظار میں تھے۔
شفٹ کی تبدیلی کے وقت ملازمین کا باہر سے آنا کھٹکتا نہیں ہے لہٰذا حملہ آوروں کو بیرونی راستوں پر رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ اپنے ساتھ ڈرئی فروٹس اور خشک میوہ جات بھی لائے تھے۔ تمام حملہ آوروں نے پشت پر بیگ پہن رکھے تھے جن میں اسلحہ تھا دہشت گردوں کے پاس دو ٹارگٹ تھے۔ پہلا تو ائیر پورٹ پر قبضہ اور طیارہ اغوا کرنا تا۔ دوسرے مرحلہ پر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہتے تو طیاروں کو تباہ کرنا تھا اور خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ نقصان کرنا تھا تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مزید بدنام ہو۔
اس مقصدکیلئے ائیرپورٹ پر موجود دو طیاروں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ مزید طیاروں پر بھی فائرنگ کی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق کسی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔ دہشت گردوں نے طے شدہ ترتیب کے ساتھ اپنے آپریشن پلان کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پہلے انٹرنیشنل کلئیرنگ والے راستے کو چنا اور دوسرے حملے میں اصفہانی ہینگرز والے راستے کا انتخاب کیا وہ ائیرپورٹ میں گھستے ہی مختلف ٹولیوں کی شکل میں بکھر گئے اور مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لئے۔

ائیرپورٹ پر حملے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور فوج کے دستے دہشت گردوں کے مقابلے پر اترے ۔ پاک فوج کے دستوں نے چند گھٹوں میں ائیرپورٹ کلئیر کرالیا۔ پاک فوج کے ترتیب یافتہ کمانڈوز کا بروقت صورتحال سنبھالنا اور کامیاب آپریشن کرنا قابل تعریف ہے لیکن سکیورٹی میں کوتاہی اور مجموعی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
کراچی ائیورپورٹ پر حملہ اپنے پیچھے بعض ایسے سوالات چھوڑگیا ہے جو قابل غور ہیں۔
دہشت گرد طویل عرصہ سے ائیرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں تھے۔ اس سے قبل ایک رپورٹ کے مطابق بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بھی بعض مسلح افراد آئے تھے لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی حاضر دماغی کی وجہ سے کارروائی کے بغیر فرار ہوگئے۔ حال ہی میں ائیرپورٹس پر ممکنہ حملے کے حوالے سے خفیہ ادارے رپورٹ دے چکے تھے لیکن کراچی ائیرپورٹ کی سکیورٹی معمول کے مطابق تھی۔
ائیرپورٹ پر حملے کے خدشہ کے باوجود سکیورٹی میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ ائیرپورٹ پر حملے سے چند ہفتے قبل یہیں سے ایک امریکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے پاس نہ صرف اسلحہ تھا بلکہ جاسوسی کے آلات بھی برآمد ہوئے تھے۔ بدقسمتی سے اسے رہا کر دیاگیا ۔ اس حوالے سے ابتدائی خبروں اور بعد میں وضاحتی بیانات میں بھی واضح فرق نظر آتا ہے ۔ ابتدا میں اس کے پاس اسلحہ اور جاسوسی کے آلات بتائے گئے جبکہ بعد میں کہا گیا کہ محض گولی برآمد ہوئی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کہیں وہ غیر ملکی جاسوس اس حملے کی ہی ریکی تو نہیں کررہا تھا؟
حملہ آوروں سے بھارتی ساختہ اسلحہ ملا جبکہ حملہ آوروں کے سامان میں فیکٹر8نامی انجیکشن بھی موجود تھے جو عموماََ بازار میں دستیاب نہیں ہوتا البتہ بھارتی فوجی خون روکنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے پاس یہ بھارتی اسلحہ اور ادویات کہاں سے آئیں؟ کیا وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ تھے اور انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی؟
اس سارے پس منظر میں دلچسپ بات یہ ہے کہ جس رات کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہوا اسی دن حملے سے قبل بھارتی سکھ ٹرین کے ذریعے پاکستان آرہے تھے۔
بھارتی انتظامیہ نے انہیں یہ کہتے ہوئے ٹرین سے اتاردیا کہ پاکستان میں دہشت گردی ہوسکتی ہے اور ٹرین پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اسلئے وہ واہگہ بارڈر کے ذریعے جائیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی حکومت کو ائیرپورٹ پر حملے سے قبل ہی اس کا علم تھا؟ اس سے قبل انہوں نے اس طرح زائرین کو ٹرین سے کیوں نہیں اتارا؟ دوسری بات یہ کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر بھی حملہ بھارت میں ہوا تھا جب ٹرین کی بوگیاں جلا دی گئی تھیں۔
پاکستان پر کبھی سمجھوتہ ایکسپریس یا دوستی بس پر حملہ نہیں کیا گیا۔ کراچی ائیرپورٹ پر حملے سے قبل بھارت کا اچانک سکھوں کو دہشت گردی کا کہہ کر ٹرین سے اتار دینا اور دہشت گردوں کے پاس سے بھارت ساختہ اسلحہ کا برآمد ہونا بہت سی امن کی آشاؤں کو بے نقاب کرتا نظر آرہا ہے۔ 12فروری کو چئیرمین سینٹ قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ سینٹر طلحہ محمود یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ملک میں ”را“ اور ”موساد“ کے اہلکار موجود ہیں۔
یہ اہلکار کیا کرتے ہیں اس کا اندازہ ہر باشعور شہری کو کراچی ائیرپورٹ حملے سے ہوچکا ہے۔
پاکستان میں خفیہ ادارے مسلسل دہشت گروں کے حملے کے حوالے سے الرٹ کرتے رہتے ہیں ہر بڑے حملے سے قبل بھی انکی جانب سے اطلاعات بھیج دی جاتی ہیں کہ حملے کا خدشہ ہے اس کے باوجود انتظانی نااہلی ختم نہیں ہوتی۔ اس سے قبل دہشت گرد دو بڑ جیلوں پر حملے کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کراچکے ہیں۔

طالبان باقاعدہ طور پر حملوں کا اعلان کرچکے ہیں شہروں کے داخلی راستو ں پرسخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بڑے شہروں میں جگہ جگہ ناکے لگائے جارہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف دہشت گرد اہم تنصیبات پر بآسانی حملے کررہے ہیں۔ وہ شہر میں دندناتے پھرتے ہیں ، صرف کراچی میں ہی دس لاکھ غیر ملکی غیر قانونی طورپر موجود ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
بظاہر ہم داخلی سکیورٹی کے معاملات میں ناکام نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری پولیس جو شہری علاقوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، اپنے اصل فرض سے غافل نظر آرہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سکیورٹی ادارے اپنے درمیان رابطوں کے فقدان کو ختم کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ مہران ائیر بیس اور کراچی ائیرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں اتنی مماثلت کیوں ہے اور یہ کون سی طاقتیں ہیں جن کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ایسے واقعات ہوں رہے ہیں۔
اب ہمیں ہر صورت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہماری داخیلی سکیورٹی کی خامیاں دور ہوں گی تب ہی ہم بیرونی سازشوں کا بھی مقابلہ کر پائیں گے۔ بھارت اور امریکہ مسلسل پاکستان کو دہشت گرد ملک ڈکلئیر کروانے کی تگ و دو میں ہیں جبکہ طالبان کے نام پر غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بننے والے عسکریت پسند بھی بے نقاب ہوچکے ہیں۔ اب قوم اور سکیورٹی اداروں کو اپنے فرائض سرانجام دینے ہیں۔ ہمیں ذاتی اختلافات ختم کر کے قائد اعظم کے فرمان کے مطابق آگے کا سفرکرنا ہے ورنہ مہران ائیر بیس اور کراچی ائیرپورٹ جیسے حملوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوپائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان