بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کالا باغ ڈیم
تھر جیسی صورتحال سے بچنے کا واحد راستہ۔۔۔۔۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ملکی نوعیت کے اہم معاملات سیاسی مفادات کی خاطر کچھ اس طرح الجھادئیے جاتے ہیں کہ سالوں ان پر کوئی کام نہیں ہوپاتا
اسعد نقوی:
کالا باغ ڈیم پاکستان کے کئی معاشی اور اقتصادی مسائل کے خاتمے کی علامت ہے۔ خشک سالی کے خاتمے سے لے کر صنعت اور زراعت میں بہتری تک اور توانائی کے بحران سے نجات سے لے کر مہنگائی کے خاتمے تک متعدد مسائل کے حل کی خاطر ملک میں کالا باغ ڈیم سمیت دیگر منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانا بہت ضروری ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ قومی اہمیت کے معاملات کو علاقائی سیاست کی نزر کردیا جاتا ہے۔

تھرپارکر کا سانحہ ہماری آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ پاکستان کی حکومت ایک طرف ترقی اور کامیابی کے نعرے لگاتی ہے تو دوسری طرف ایسے سانحات رونما ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ملکی نوعیت کے اہم معاملات سیاسی مفادات کی خاطر کچھ اس طرح الجھادئیے جاتے ہیں کہ سالوں ان پر کوئی کام نہیں ہوپاتا۔ اسی طرح علاقائی سیاست میں ہیرو بننے کے شوقین سیاسی لیڈر بھی ملکی سطح پر ووٹ بنک اور عوامی رویہ دیکھ کر غلط فیصلے کرنے لگتے ہیں۔
ایسے ہی الجھاؤ اور رکاوٹیں پاکستان میں ڈیم بنانے کے سلسلے میں بھی درپیش ہیں۔ پانی کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کیلئے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر شائد ہم سب کے سر شرم سے جھک جائیں ۔ اس وقت قومی نوعیت کے مسائل پر تمام سیاسی قیادت کو مل بیٹھنا چائے اور مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے۔
بھارت مسلسل ڈیم بناتے ہوئے پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کرتا چلا جارہا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی، کم علمی اور لاپرواہی کی وجہ سے پاکستان عالمی عدالت میں پانی کے مقدمات ہارتا چلا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذمہ داران کو اس وقت ہوش آتا ہے جب بھارت ان منصوبوں پر پچاس تا ستر فیصد کام مکمل کر لے۔ اس کے بعد عالمی قوانین کے مطابق اسے روکنا ممکن نہیں رہتا۔

کالا باغ ڈیم پاکستان کو پانی اور توانائی کے مسائل سے نکالنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ ہے ، جسے سیاسی مفادات ، کمیشن اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے متنازعہ بنادیا گیا۔ المیہ ہے کہ کہ کالا باغ ڈیم کے نام پرسبز باغ تو آج تک دکھائے جارہے ہیں اور انتخابات میں کالا باغ ڈیم پر بھی سیاست کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر کئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے لیکن اس تناسب سے پانی محفوظ رکھنے کے انتظامات نہیں کئے گئے۔
برسوں سے وطن عزیز میں کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنا۔ ملک میں موجود پانی کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ برف پوش چوٹیاں اپنی سفید شال اتار کرندی نالوں کی نزر کررہی ہیں اور ہم بے قدری سے انہیں سمندر برد ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ قدرتی میٹھا پانی محفوظ رکھنے کا اعلیٰ انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے تھر سمیت کئی علاقے قحط سالی کا شکار ہو رہے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں پانی کی کمی کی وجہ سے زرعی پیداوار کافی متاثر ہورہی ہے۔ ہم اربوں ڈالر پانی کی صورت سمندر میں پہنچا دیتے ہیں لیکن اسی پانی سے پاکستان کی زراعت اور توانائی کے مسائل حل نہیں کرتے۔ جائزہ لین تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اپنی سیاست کی بنیاد قومی مسائل پر رکھتے ہیں لیکن پاکستان کی صورتحال مختلف ہے۔
یہاں قومی امور کی بجائے علاقائی امور کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے۔ یہی المیہ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کے ساتھ ہوا۔ ڈیم صرف پانی محفوظ رکھنے یا بجلی پیدا کرنے کے کام نہیں آتے بلکہ ان کی مدد سے ممالک اپنی زرعی پیداوار میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں پاکستان میں پانی کے مسائل پیدا ہورہے ہیں توں توں نہ صرف یہ کہ انڈسٹری تباہ ہورہی ہے بلکہ زرعی زمین بھی بنجر ہو کر ملک کو قحط سالی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
اس وقت نہ ہمیں بجلی دستیاب ہے اور نہ ہی زمیوں کے لئے ضرورت کے مطابق پانی موجود ہے۔ یہ سب ماضی میں قومی عہدوں پر بیٹھے پالیسی سازوں کی جانب سے علاقائی رویے اپنانے کی وجہ سے ہوا ہے۔
کالا باغ ڈیم توانائی سے لے کر زراعت تک کے متعدد مسائل حل کرسکتاہے ۔ اسی طرح قومی خذانے میں کئی گنا اضافے کا بھی باعث بن سکتا ہے جس سے مہنگائی کی شدت میں کمی آسکتی ہے ۔
اس کی مدد سے نہ صرف یہ کہ پاکستان مہنگی بجلی اور فرنس آئل کی خریداری سے بچ سکتا ہے بلکہ زیادہ زرعی اجناس اگنے کی صورت میں مہنگائی میں بھی کمی آسکتی ہے۔ یہ ایک عالمگیر اصول ہے کہ ضرورت کی جو چیز جتنی کم تعداد میں ہو اس کی قیمت اور مانگ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور جو چیز وافر مقدار میں ہو، اس کی قیمت میں کمی آنے لگتی ہے۔ ڈیمز کی کمی اور پانی کی قلت کی بنا پر پاکستان میں زرعی اجناس کم ہو رہے ہیں اور دیگر ملکوں سے درآمد کرنے کی صورت میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
اسی طرح کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں کاروبار کی شرح میں بھی اجافہ ہوگا۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور سستی بجلی اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنائے جائیں۔
اسی طرح ملک اس وقت بدترین سیلابی ریلوں کا شکار ہے۔ ہر سال سیلابی ریلے کئی کئی دیہاتوں کو ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ منہ زور پانی کی سرکش موجیں درجنوں جانیں لے لیتی ہیں۔
یہ پانی قدرت کی نعمت ہے لیکن ہم نے غیر ذمہ داری اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اسے زحمت بنا رکھا ہے۔ پانی کا یہ ریلا ملک کی زرعی ضروریات کیلئے کافی ہوتاہے لیکن ہم اسے نہ صرف ضائع کردیتے ہیں بلکہ کئی مسائل کی وجہ بھی بنالیتے ہیں۔ اس کے بعد ملک کو قحط سالی اور پانی کی کمیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تھر جیسے مسائل کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے ٹھوس منصوبے تیار کرے اور انہیں عملی شکل دی جائے۔
اسی طرح سیاسی قیادت کو چاہئے کہ ملکی مسائل کو نام نہاد انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ ہرگزرتا دن اور ڈوبتا سورج یہی نوید سنارہا ہے کہ دنیا بھر کو جن ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، آپ کیلئے بروقت انتظامات بہت ضروری ہیں۔ انہی میں نئے ڈیموں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بھارت نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے اور اب مسلسل نئے ڈیم تعمیر کرتا چلا جارہا ہے اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کا دارومدار بھارت کی مرضی پر ہوگا اور بھارت کیا چاہتا ہے یہ ہر پاکستانی بخوبی جانتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان