بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جشن آزادی اور ملی نغمے
یہ امر حیران کن ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ملی نغمے پاکستان میں بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہر شعبے کے لوگ ان خوشیوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہمارے شاعر اپنی شاعری کے ذریعے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں
چوہدری عبدالخالق:
اگست کا مہینہ ہر پاکستان کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چودہ اگست 1947ء کو ہمارا پیارا ملک پاکستان بنا اور آزادی کا یہ دن پورے جوش و جذبہ سے منایا جاتا ہے۔ اپنے بزرگوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بھائیوں اور ان بچوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانیں فدا کر دیں۔ عزت و آبرو ، مال و دولت، زمینیں جائیدادیں سب کچھ قربان کر کے غلامی کی زنجیریں کاٹ کر پھینک دیں اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم ریاست ابھر کر سامنے آئی جس کا نام ہے۔
۔۔پاکستان۔۔۔قائداعظم کی مخلص قیادت میں اپنی منزل کی طرف چلنے والا قافلہ صدق دل سے آگے بڑھتا رہا اور بالآخر اپنی منزل پر پہنچ کر سرخرو ہوا۔ خداکا شکر ہے کہ آج ہم انہیں لوگوں کی طفیل اپنے اس ملک میں آزاد زندگی بسر کررہے ہیں۔ آزادی کی نعمت کیا ہے اسکی قدر وہی جانتے ہیں جو اس وقت غلامانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کے لوگ ایک عرصہ سے جدو جہد آزادی میں مصروف ہیں ہر طرح کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
ظلم اور مصیبتیں برداشت کررہے ہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ان لوگوں کا اپنی مرضی سے جینا مرنا بھی ان کے بس میں نہیں۔ ہمیں آزادی حاصل کئے سرسٹھ برس ہوچکے ہیں مگر ابھی تک وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ پاکستان نے تو ہم کو سب کچھ دیا۔ وقار، عزت، دولت، بڑے بڑے عہدے، وزارتیں، صدارتیں مگر وسوچنے اور سمجھنے کی با ت یہ ہے کہ سب کچھ پانے کے باوجود ہم نے پاکستان کو کیا دیا اس کی تعمیر اور ترقی کیلئے کیا کچھ کیا۔
ہم نے تو جو کچھ بھی کیا صرف اپنے لئے کیا۔ اپنے بنک بیلنس بڑھائے، جائیدادیں بنائیں۔ایک دوسرے کی گردنوں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھتے رہے جو کچھ کیا صرف اور صرف اپنے لئے۔۔۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حضرت قائداعظم کے بعد ہمیں ان جیسا کوئی بھی راہنما نہ مل سکا جو بھی ملا حرص وہوس کا دلدادہ ملا اپنی جیبیں بھریں اور نکل گیا۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ملک ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے کہیں کے کہیں پہنچ گئے اور ہم اسی جگہ کھڑے انتظار کررہے ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ آئے اور ہماری راہنمائی کرتے ہوئے ہمیں بھی ترقی کی راہوں پر لے جائے۔
یقین کیجئے ہماری قوم دنیا کی سب قوموں سے بہترین اور عظیم قوم ہے اپنے ملک کیلئے دلوں میں محبت اور کچھ کر گذرنے کا جذبہ رکھتی ہے مگر اسے کوئی منزل کی راہ تو دیکھائے۔ اپنے طور پر ہم وطن سے محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں آزادی کے اس دن کی خوشیاں بھرپور انداز میں مناتے ہیں شکرانے کے نفل ادا کرتے ہیں۔ا پنے گھر، گلیاں بازار جھنڈیوں اور پھول کلیوں سے سجاتے ہیں۔
مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ چراغاں کیا جاتاہے۔ گھر گھر سبز ہلالی پرچم لہرایا جاتا ہے۔
ہر شعبے کے لوگ ان خوشیوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہمارے شاعر اپنی شاعری کے ذریعے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں بہت سے نغمے پرنٹ میڈیا میں اخبارات وغیرہ کی زینت بنتے ہیں اور کچھ نغموں کی ہمارے موسیقار بڑی محنت اور محبت سے دھنیں بناتے ہیں اور گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا کر ان ملی نغموں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں اتنے زیادہ ملی نغمے نہیں بنتے جتنے ہمارے ملک پاکستان میں بنتے ہیں۔ ایسی ایس کمال کی صدابہار دھنیں جو پیدائش پاکستان سے لے کر آج تک کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔
چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے
پینسٹھ سال پرانا یہ ملی نغمہ آج بھی پہلے دن کی طرح مقبول ہے۔
جھنڈے کے ہی موضوع پر ایک اور ملی نغمہ یاد آیاہے۔ اس نغمے کو ناہید اختر نے گایا تھا۔ یہ ملی نغمہ سرکاری سطح پر ہونے والے مقابلے میں پہلی پوزیشن پر آیا تھا
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
ناہید اختر ہی کا ایک اور سدا بہار نغمہ جس کی دھن خلیل احمد نے ترتیب دی تھی
جگ جگ جیوے میرا پیارا وطن
لب پی دوا ہے دل میں لگن
میرے وطن تو سب کیلئے
جان سے بڑھ کر پیارا ہے
استاد امانت علی خان کے گائے ہوئے یہ دونوں نغمے کمال کی شاعری اور مسحور کن دھنوں وار میٹھی آواز کا حسین امتزاج ہیں۔

چاند میری زمین پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعل یمن
اختر حسین اکھیان کی کمپوزیشن میں بنا ہوا یہ دوسرا نغمہ ۔
اے وطن پیارے وطن
پاک وطن پاک وطن
اے میرے پیارے وطن
تجھ سے میری تمناؤں کی دنیا پرنور
نیرہ نورا پنی دل موہ لینے والی آواز میں کہتی ہیں۔
وطن کی مٹی گواہ رہنا گواہ رہنا
وطن کی مٹی عظیم ہے تو
عظیم تر ہم بنا رہے ہیں گواہ رہنا
تیرے مغنی کی ہر سدا میں
یوم آزادی کے موقع پر پیش کئے جانے والے ملی نغموں میں ایک منفرد نغمہ ہے جو نصرت فتح علی خاں نے گا کر اسے امر کردیا اس کے بول ہیں۔
۔۔
میرا پیغام پاکستان میرا انعام پاکستان
خدا کی خاص رحمت ہے بزرگوں کی بشارت ہے
کئی نسلوں کی قربانی کئی نسلوں کی محنت ہے
شہیدوں کی امانت ہے تعاون ہی تعاون ہے
جبھی تاریخ نے رکھا ہے اس کا نام پاکستان
حبیب ولی محدم نے دل کی گہرائیوں سے گایا ہے۔۔۔
اے نگار وطن تو سلامت رہے
مانگ تیری ستاروں سے بھردیں گے ہم
ملکہ ترنم نور جہاں کی وطن سے محبت ڈھکی چھپی نہیں وہ اپنے ملک سے بے انتہا پیار کرتی تھی اسی پیار میں ڈوب کر گایا ہوا ان کو یہ نغمہ دیکھئے۔
۔۔زبردست شاعری لاجواب دھن اور سونے پر سہاگہ نور جہاں کی جادوائی آواز۔۔۔
روشن میری آنکھوں میں وفا کے جو دیے ہیں
سب تیرے لئے ہیں سب تیرے لئے ہیں
وعدے تیری مٹی کی قسم جو بھی کئے ہیں
سب تیرے لئے ہیں سب تیرے لئے ہیں
شہنشاہ غزل ہمارے مایہ ناز گلوکار مہدی حسن نے اپنے وطن کو زبردست نزرانہ عقیدت یوں پیش کیاہے۔

یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خوان اس کے
اس زمین کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
عرض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میر کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
محمد علی شیکی کا کبھی بڑا نام ہوا کرتا تھا پاکستان میں اس کا طوطی بولتا تھا اس کا بھی ایک شہرت یافتہ نغمہ آج بھی بڑا مقبول ہے۔

میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
تو تو میری جان ہے تو تو میری آن ہے ۔ تو میرا ایمان ہے
کہتی ہے یہ راہ عمل آؤ ہم سب ساتھ چلیں
مشکل ہو یا آسانی ہاتھ میں ڈالے ہاتھ چلیں
دھڑکن ہے پنجاب اور دل اپنا مہران ہے
خوش گلو خوبصورت گلوکار جنید جمشید جس نے اپنے دین سے پوری طرح وابستہ ہوکر اپنا مستقبل بھی خوبصورت بنالیا، اپنے ہی جیسا خوبصورت اور نہ بھولنے والا ملی نغمہ دیا۔

ایسی زمین اور آسماں ان کے سوا جانا کہاں
بڑھتی رہے یہ روشنی چلتا رہے یہ کارواں
دل دل پاکستان جان جان پاکستان
تحسین جاوید اور امجد حسین نے بینجمین سسٹر کے ساتھ مل کر کمال کا ملی نغمہ گایا تھا۔
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان ہم سب کا پاکستان
ہر دل کے افق پر ہے چاند ایک ستارہ ایک
ہے کلمہ بھی واحد پرچم بھی ہمارا ایک
ہم یک دل ہم یک جان ہم سب کا پاکستان
مسرور انور کا لکھا ہوا سدا بہار ملی نغمہ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد۔
۔۔اسے شہناز بیگم نے گایا تھاجو آج بھی اسکولوں کالجوں میں ہونے والے فنکشنوں میں بچے بڑے بہت شوق سے گاتے ہیں۔ مسرور انور کا ہی لکھا ہوا ایک زبردست اور اچھوتے انداز کا ملی نغمہ جس کی موسیقی وزیر افضل نے دی اور گایا تھا عارف لوہار۔عارفہ صدیقی۔ رستم فتح علی اور سلطان فتح علی نے۔۔۔
میرے دیس میں ہر پل چاہوں
تیرا سوہنا روپ سجاؤں
کہ تو ہے پہچان میری تجھ سے ہے شان میری
تیری ہر اک رت متوالی تیری سجھ دھج دیکھنے والی
میرے دیس تو جم جم جیوے میں تیرے صدقے جاؤں
موسیقار سہیل رانا نے جن ملکی نغموں کی دھنیں بنائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔

یہ دیس ہمارار ہے اسے ہم نے سنوارا ہے
اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
مزدور بھی ہم اس کے دہقان بھی ہم اس کے
اللہ کی رضا سے ہیں نگہبان بھی ہم اس کے
رنگ اس کو دئے ہم نے اسے ہم نے نکھارا ہے
ہمارے تمام چھوٹے بڑے گلوکاروں نے اپنے وطن کے محبت میں ڈوبے ہوئے ملی نغمے گائے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک جو پاکستان سے ان کی محبت کا واضح ثبوت ہیں۔ اسی جذبے اور لگن کے ساتھ اگر دوسرے تمام شعبوں سے وابستہ لوگ میدان عمل میں نکلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اقوام عالم میں ایک باوقار ملک بن کر نہ ابھرے ضرورت صرف اور صرف سخت محنت کی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-12

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان