بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلام آباد رینجرز کے حوالے
یہ پولیس کی ناکامی کا اعتراف ہے جو کام رینجرز کراچی میں نہیں کرسکی وہی کام اسے دارالحکومت میں تفویض کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ جس شہر میں بھی رینجرز کو تعینات کیا جاتا ہے وہاں اسے پولیس کے اختیارات دئیےجاتےہیں
مرزا غازی:
رینجرز کا بنیادی کام تو سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن چونکہ یہ ایک پیرا ملٹری فورس ہے اور براہ راست وزارت امور داخلہ کے ماتحت آتی ہے اس لئے جہاں ضرورت محسوس کی جائے اس کی تعیناتی کے احکامات جاری کردئیے جاتے ہیں۔ رینجرز کی تعیناتی سے اگر کسی شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر اور جرائم کی شرح میں کمی واقی ہوتی ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا لیکن اگرااس کے باوجود صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوجاتی ہے تو پھر رینجرز کی تعیناتی نہ صرف بے سود رہتی ہے بلکہ یہ اس فورس کے مورال اور عوام کی توقعات کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے ۔
سب سے پہلے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب امن و امان کی غیر معمولی طور پر خراب صورتحال میں رینجرز کو ہی تعینات کرنا جاگزیر سمجھا جاتاہے تو پھر پولیس جیسے بھاری بھرکم محکمے کو برقرارر کھنے کی کیا ضرورت ہے؟
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جو کام رینجرز کراچی میں نہیں کرسکی وہی کام اسے دارالحکومت میں تفویض کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
جس شہر میں بھی رینجرز کو تعینات کیا جاتا ہے وہاں اسے پولیس کے اختیارات دئیے جاتے ہیں۔ اب اگر پولیس ان اختیارات کے ہوتے ہوئے بھی ناکام ہوگئی تھی تو پھر انہی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے رینجرز کیسے کامیاب ہوجائے گی؟ پولیس کا امن و امان کی بحالی می کرداد کسی طور بھی حوصلہ افزا یا قابل اطمینان نہیں ہے۔ پولیس کی کارگزرای عوام کا جینا دو بھر کرنے ، ہر کام کیلئے رشوت طلب کرنے او اپنے فارئض کی ادائیگی میں یکسر ناکام رہنے کے سوا رہ ہی کیا گیا ہے۔
چند ماہ قبل محض ایک شخص ، سکندر ، نے کئی گھنٹے تک اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا۔ ہر دوسری واردات میں کسی نہ کسی پولیس اہلکار کے ملوث ہونے کی خبریں تو آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں۔ پولیس کی مجموعی صورتحال کی بات کریں تو اہم ترین سول فورس کے پاس نہ تو پیشہ وارانہ تربیت ہے اور انہ ہی صلاحیت کہ وہ مجرموں کی سرکوبی اور جرائم کی بیخ کنی میں فعال کردار ادا کرسکے۔
اسلام آبا کچہری میں دہشت گرد کم و بیش ایک گھنٹے تک بے گناہوں کو ہانکا کر کے مارتے رہے اور پولیس کہیں دکھائی ہی نہیں دی۔ کچہری میں آنے جانے والوں کی تلاشی پولیس کا کام ہے وہاں آنے والے سائلین ، وکلا اور ججز کی حفاظت کی زمہ داری بھی پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ جس وقت دہشت گرد بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف تھے تو اسی وقت اندر موجود پولیس اہلکاروں سے کسی نے ان دہشت گردوں کا مقاملہ کرنے کیلئے کہا۔
جواب میں ”شیر جوانوں“ کا موقف تھا کہ اگر ہم ان پر گولی چلائیں گے تو ان کی وجہ ہماری طرف مبزول ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں الام آباد کچہری حملے کے حوالے سے ایک خوفناک انکشاف کیا جس سے ہماری پولیس کی صلاحیت اور اہلیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان کی شہادت دہشت گردوں کی گولی سے نہیں بلکہ وہاں موجود گارڈ کی فائرنگ سے ہوئی تھی۔
دہشت گردوں کا حملہ شروع ہوا تو عدالتی عملے اور سیکیورٹی گارد نے شہید جج کی عدالت میں پناہ لی اور کمرہ عدالت کے دروازے کو اندر سے بند کردیا گیا۔ گارڈ کے ہاتھ میں اس کی سروس پستول اور انگلی ٹریگر پر تھی ۔ جیسے ہی دہشتگردوں نے خود کو دھماکے سے ارایا تو کمرے کے اندر موجود گارڈ ہواس باختہ ہوگیا اور ٹریگر دب گیا جس کی وجہ سے یکے بعد دیگرے تین گولیاں جج صاحب کو لگیں اور وہ جاں بحق ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ڈیوٹی پر موجود گارڈ کسی بھی حوالے سے اس ذمہ داری کا اہل تھا؟ دھماکہ سنتے ہی وہ اس قدر حواس باختہ کیونکہ ہوگیا کہ جس کی حفاظت پر مامور تھا اس کی ہی جان لے لی؟ یہ اسکی پیشہ وارانہ نا اہلی ہے یا وہ خود کسی سازش کا حصہ تھا؟ اسی حوالے سے تو تحقیقات کے بعد ہی کچھ وثوق سے کہا جاسکتا ہے لیکن ہر دو صورتوں میں یہ پولیس سسٹم اور فورس کی ناکامی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔

رینجرز کو کسی بھی علاقے میں مستقلاََ تعینات نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ یہ کام محکمہ پولیس کا ہے لیکن ہماری پولیس اس قدر ”زنگ آلود“ ہو چکی ہے کہ اس کا کوئی گل پرزہ بھی ڈھنگ سے کام نہیں کرتاہے۔ جوفورس جس مقصد کیلئے قائم کی جاتی ہے اس سے وہی کام لیا جائے تو بہتر ہے لیکن ہماری حکومتوں نے امن و امان کے ہر مسئلے کا حل رینجرز کی تعیناتی کو ہی سمجھ لیا ہے حالانکہ کراچی میں رینجرزز کی تعیناتی کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ ہونا اس پالیسی کی نادرست ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بات درست ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ملک ے تمام سیکیورٹی اداروں کا اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سول اداروں کی بھی اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرسکیں۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات کا شور ایک عرصے سے سنتے آرہے ہیں اور اس کے باوجود آج تک ملک کے کسی کونے میں بھی پولیس کی اصلاح نہیں ہوسکی۔
ہماری پولیس کو اصلاح کی نہیں بلکہ تشکیل نو کی ضرورت ہے اگر رینجرز یا فوج نے ہی پولیس والا کام کرنا ہے تو بہتر ہے کہ ان اداروں میں اس حوالے سے ایک شعبہ قائم کردیا جائے۔ بصورت دیگر پولسی فورس کو انہی خطوط پر استوار کیا جائے جن پر فوج یا رینجرز کو تیار کیا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ پولیس فورس تو خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتی عوام کی حفاظت کیا کرے گی؟
کسی جگہ پر حفاظت کی غرض سے تعینات پولیس اہلکار کو دیکھیں تو وہ اس قدر بیزاری اور غیر پیشہ وارانہ انداز میں کھڑا ہوتا ہے کہ دیکھے والے کو یقین ہی نہیں ہوتا کہ اس کا تعلق واقعی کسی منظم فورس سے ہے۔
حفاظتی ڈیوٹی پر مامو پولیس اہلکار سب کے سامنے بیٹھے یا کھڑے ہوتے ہیں ایسے میں اگر خدانخواستہ جرائم پیشہ افراد یا دہشت گرد کسی واردات کیلئے وہاں پہنچ جاتے ہیں تو وہ سب سے پہلے اسی اہلکار کو نشانہ بناتے ہیں اور یوں پولیس کے شہداء کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے کیلئے ایک دہشت گرد حملے کا انتظار کیوں کیا گیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے ذہنوں میں اٹھ رہا ہے۔
کچھ عرصہ قبل خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں اسلام آباد کو ایک خطرناک اور غیر محفوظ شہر قرار دیا گیا لیکن وزیر داخلہ نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک طویل پریس کانفرنس میں اسلام آبا دکو ہر حوالے سے ایک محفوظ شہر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی پریس کانفرنس کی بازگشت ابھی سماعتوں سے محو نہیں ہوئی تھی کہ اسلام آباد کچہری کو دہشت گردوں نے بے گناہوں کے خون سے سرخ کردیا۔
پولیس حملے کے وقت تو یہاں کیا دکھائی دیتی شہر کی پولیس کے سربراہ بھی گھنٹے بھر کی تاخیر کے بعد وہاں پہننے میں کامیاب ہوئے۔ وقوعہ سے اعلیٰ پولیس افسروں کی غیر حاضری کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ محرم الحرام کے موقع پر جو کچھ راولپنڈی میں ہوا اس میں بھی پولیس افسران نے حالات کو کنٹرول کرنے کی بجائے چھپنے کو ترجیح دی تھی۔
اسلام آباد پر حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد وزیر داخلہ تو کیا مستعفی ہوئے کسی پولیس افسر تک سے باز پرس نہیں کی گئی اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کی حفاظت پر دعاؤں کے سوا کچھ بھی مامور نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-17

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان