بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلام آباد ،ضلع کچہری میں دہشت گردی کی ہولناک واردات
تحریک طالبان پاکستان اور وفاقی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے شروع کی گئی جنگ بندی کے اگلے ہی روز دہشتگردی کے حملے میں وفاقی دارالحکومت کو سوگوار بنا دیا
عزیز علوی:
تحریک طالبان پاکستان اور وفاقی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے شروع کی گئی جنگ بندی کے اگلے ہی روز اسلام آباد کے ضلع کچہری میں دہشت گردی کے حملے میں وفاقی دارالحکومت کو سوگوار بنا دیا۔ دہشت گردی کے اس حملے میں ضلع کچہری خون میں نہلا دی گئی جہاں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان اعوان کو حملہ آوروں نے ان کے چیمبر میں فائرنگ کر کے شہید کر ڈالا جبکہ ان کی عدالت سے ملحق ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان کی عدالت کے سامنے بھی خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
۔عدالتی عملے سمیت وکلاء اور عام شہری خون میں لت پت گر پڑے ہر طرف فائرنگ دستی بم حملوں کا شور جاری تھا کہ ہائی کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید کے چیمبر کے قریب بھی ہولناک خودکش حملہ ہو گیا جس سے ہر طرف انسانی اعضاء اور خون کے لوتھڑے بکھر گئے۔ اسلام آباد کے وسط میں واقع ضلع کچہری میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی نعشیں اور زخمیوں کو پمز پہنچانے کے لئے فوری طور پر امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر میاں محمد اسلم سینئر ایڈووکیٹ راوٴ رشید‘ خاتون وکیل فضہ طارق اور اکمل بھی شامل ہیں۔ ایک پولیس اہلکار ریاض بھی فائرنگ کی زد میں آنے سے جاں بحق ہو گیا۔اس واقعہ میں گیارہ افراد جاں بحق جبکہ25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ آئی جی اسلام آباد سکندر حیات ایس ایس پی آپریشن ڈاکٹر محمد رضوان بھی ضلع کچہری پہنچے جہاں ایس پی صدر جمیل احمد ہاشمی نے اپنے سینئر افسران کو اس واقعہ کے حوالے سے ابتدائی صورتحال بتائی۔
آئی جی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کچہری سے ملحق تھانہ مارگلہ سے ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ہمراہ جب فائرنگ اور دھماکوں کی آواز پر پہنچے تو حملہ آوروں نے ان کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم اس دوران ایس پی جمیل ہاشمی نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور کو ہمارے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے اہلکار نے فائرنگ کانشانہ بنایا تو اس کی خود کش جیکٹ دھماکے سے اڑ گئی تھی۔
ضلع کچہری میں خون کی اس ہولی پر شدید خوف و ہراس پھیل گیا وکلاء سائلین اور عدالتی عملہ اپنی جانیں بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگا جس سے پورے علاقے میں ہو کا عالم طاری ہو گیا۔ ضلع کچہری میں موجود بڑی تعداد میں لوگوں نے مختلف پلازوں میں سیڑھیوں پر جا کر پناہ لے لی۔ دھماکوں اور فائرنگ کی وجہ سے اکثر لوگوں کی حالت غیر تھی۔ سترہ جولائی 2007ء کو بھی ضلع کچہری میں ایک خودکش دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب معزول چیف جسٹس کی حیثیت افتخار محمد چوہدری کے قافلے نے پہنچنا تھا اس دھماکے میں بھی پچیس سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
آج کی دہشت گردی نے بھی اسی دھماکے کی یاد بھی لوگوں کے ذہنوں میں دوڑا دی۔ اسلام آباد پولیس نے گزشتہ دو ماہ سے پورے شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر رکھی تھی۔ جبکہ وزارت داخلہ کے کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے اس جانب اشارہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا شدید خطرہ موجود ہے۔
جس کے بعد تھانہ کورال کے علاقے میں پولیس نے دو روز قبل ایک سرچ آپریشن میں مبینہ طور پر 7 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان سے بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مواد اور دستی بم برآمد کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ ان گرفتار شدگان سے پولیس سی آئی اے میں تفتیش بھی کر رہی ہے۔ ضلع کچہری میں 3 مارچ کو ہونے والی اس دہشت گردی کی کڑیاں تلاش کرنے کے لئے پولیس اور دیگر تفتیشی ادارے سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ حملہ آوروں اور ان کے ساتھیوں کا سراغ لگایا جاسکے۔
دہشت گردی کے اس واقعہ میں تین عدالتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ کئی وکلاء کے چیمبر بھی اڑ گئے۔ ضلع کچہری میں جابجا انسانی خون اور اعضاء بکھرے پڑے تھے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر دھماکہ خیز مواد کے نمونے بھی قبضے میں لئے جبکہ پولیس نے بوریوں میں گولیوں کے خول اور انسانی اعضاء اکٹھے کئے۔ جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیا گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد کا یہ موقف ہے کہ حملہ آوروں کا کوئی واضح ٹارگٹ اور مقصد تاحال معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ سارے کام تفتیش طلب ہیں جس کے لئے پولیس ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ضلع کچہری کا کنٹرول مکمل طور پر رینجرز کے حوالے کر دیا گیا رینجرز کے دستوں نے ضلع کچہری میں تمام راستے مکمل طور پر سیل کر دئیے ہیں اور جن گزرگاہوں سے لوگ آتے جاتے تھے انہیں قناطیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
ضلع کچہری کی عمارتوں کی چھتوں پر بھی پولیس کمانڈوز اور رینجرز کے دستے ڈیوٹی پر لگائے گئے ہیں۔ تمام جج صاحبان کی رہائش گاہوں پر بھی پولیس نے سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔ جبکہ ضلع کچہری میں لگے جن واک تھرو گیٹس کو پیر کی صبح کی دہشت گردی سے نقصان پہنچا ہے انہیں بھی تبدیل کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسلام آباد گزشتہ چار برس سے مکمل طور پر سیکیورٹی کے لحاظ سے ریڈ زون میں تبدیل کیا گیا ہے اور اسلام آباد میں اب تک دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں وہ زیادہ تر ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے بعد ہفتے کے پہلے روز ہی وقوع پذیر ہوئے۔
پولیس ان پہلووٴں کو بھی تفتیش میں دیکھ رہی ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل کی وجہ سے سیکیورٹی میں جو سقم ہے اسے دور کیا جاسکے۔ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق جیلانی نے ضلع کچہری اسلام آباد میں خودکش حملے اور ایک جج کی شہادت کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ جس کے لئے پولیس اور اسلام آباد کی انتظامیہ اپنا موقف اور جواب تیار کرنے کے لئے رات گئے تک دفاتر میں بیٹھے رہے۔
پولیس ضلع کچہری کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنا پلان بھی سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے پولیس نے ماضی میں جو اقدامات کئے ان کے تناظر میں بھی آج کے اس سانحہ کو دیکھا جا رہا ہے پولیس کی صفوں میں اس بات پر بڑی تشویش ہے کہ اسلام آباد میں جا بجا داخلی ناکہ بندیوں کے باوجود مسلح اور خودکش جیکٹوں میں ملبوس افراد کیسے ضلع کچہری تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
پولیس نے یہ بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ خودکش حملہ آور رات کے وقت سے ہی وکلاء کے کسی چیمبر یا قریبی عمارت میں چھپے ہوئے تھے جنہوں نے موقع ملتے ہی اپناایکشن کر دیا۔ اس خودکش حملے کے بارے میں جتنے منہ اتنی ہی باتیں کے مصداق مختلف آراء بھی دی گئیں کسی نے کہا حملہ آوروں کی تعداد 20 سے زیادہ تھی جنہوں نے چادریں اوڑھ رکھی تھیں کسی نے یہ رائے دی کہ حملہ آور سات سے آٹھ تھے۔ تاہم پولیس کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 2 سے 3 تھی۔ پولیس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ وقوعہ کے وقت ضلع کچہری میں استعمال ہونے والے موبائل فونوں کا ریکارڈ لے کر ان سے تفتیش میں مدد لے رہی ہے۔ تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ وقوعہ کے وقت موبائل فونوں سے کس کس قسم کے فون ریکارڈ پر آئے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان