بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایران سے بجلی کی پیشکش… کیا منصوبے پر عمل ہو سکے گا؟
ایران دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وطن عزیز کے خود مختاری اور وجود کی خوشدلی سے تسلیم کیا اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہر شعبہ میں تعلقات اور تعاون کو اولیت دی
شیر سلطان
ایران کی جانب سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی مہیا کرنے کی پیشکش بلا شبہ ملک میں جاری بجلی کی قلت کسی حد تک دور کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے،مگر اس حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ اس پیشکش سے بروقت فائدہ اٹھایا جا سکے گا یا نہیں ؟ایران دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وطن عزیز کے خود مختاری اور وجود کی خوشدلی سے تسلیم کیا اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہر شعبہ میں تعلقات اور تعاون کو اولیت دی۔
تب سے لیکر آج تک ایران نے ہر موقع پر سب سے پہلے پاکستان کی طرف دیکھا ہے۔ مصیبت کی گھڑی ہو یا خوشی کا موقع ۔ ایران کو کوئی بحران درپیش ہو یا پاکستان کو کسی مسئلہ کا سامنا ہو ایران اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
پاکستان کی طرح ایران کو بھی قدرت نے طرح طرح کے وسائل سے نوازا ہے۔ا گرچہ ہمارے ہاں ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ان قدرتی وسائل سے خاطر خواہ استفادہ نہ کیا جا سکا مگر ایران اپنے حکمرانوں، پالیسی سازوں اور ماہرین کی دن رات کی جدوجہد اور ایٹمی توانائی سے بجلی کی پیدا وار حاصل کرنے کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اس کی نہ صرف تمام ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ ایران اب دیگر ممالک کو بجلی ایکسپورٹ کرنے کا خواہشمند ہے۔ اسی سلسلہ میں ایران نے 2009ء میں کثیر سرمایہ خرچ کر کے پاکستان کو 73 میگا واٹ بجلی روزانہ فرہم کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جسکی وجہ سے گوادر کو آج بھی ایران سے بذریعہ ٹرانسمیشن لائن بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
یاد رہے کہ اس منصوبہ کے مکمل کرنے کے لئے ایران نے پاکستان کو مالی مدد، قرضہ اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی ہے مگر پاکستان کو درپیش توانائی کے شدید بحران اور سابقہ حکومتوں کے اس سلسلہ میں مناسب بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے بجلی کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے ۔ جسکا براہ راست اثر لوڈشیڈنگ کی صورت میں پورے ملک کی معیشت، صنعتوں اور عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
اس مسئلہ سے نمنٹے اور صورتحال میں میں بہتری لانے کے لئے توانائی کے قومی ادارے Nepra نیپرا نے چند روز قبل ایک ایسے منصوبے کی منظور دی ہے جسکے تحت ایران بذریعہ ٹرانسمیشن لائن کوئٹہ تک بجلی فراہم کی جائیگی اور پھر قومی گرڈ میں شامل کرکے اس بجلی کی ملک کے دیگر شہروں کو سپلائی ممکن بنائی جائیگی 8 سے 10 روپے فی یونٹ کے حساب یہ بجلی پاکستان میں بجلی بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
جو ہمارے ہاں روایتی طورپر پیدا کی جانیوالی بجلی سے کافی سستی ہوگی۔ ایران کے شہر زاہدان سے پاکستان کے شہر کوئٹہ تک 700 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کے ذریعہ بجلی کی فراہمی کے اس منصوبے پر عمل در آمد کے لئے ایرانی کمپنی زاہدان میں MW-1300 کا پاور پلانٹ لگائے گی۔ اپنے ملک میں ٹرانسمیشن لائن اور پاور پلانٹ کی تعمیر و قیام کا خرچ طوانیر نامی کمپنی خود برداشت کرنے پر رضا مند ہے۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا وفاقی حکومت اس اہم منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کروائے گی یا پچھلے 68 سال سے عوام کو خوشخبریوں اور طفل تسلیوں سے بیوقوف بنانے اور عملی طور پر بروقت اقدامات نہ اٹھانے کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر طاقتور ممالک بالخصوص امریکہ ایران اور پاکستان کے اس پراجیکٹ کو کس نظر سے دیکھیں گے، جبکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کی راہ میں امریکہ و دیگر ممالک نے پہلے ہی روڑے اٹکا رکھے ہیں۔
اس صورت حال میں پاکستانی حکمرانوں کو اپنی خارجہ پالیسی و سفارتکاری کے ذریعہ دنیا کے ان ممالک پر واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی مشکلات کم کرنے سے زیادہ مقدم ان کے لئے کوئی اور بات نہ ہے۔جب ایران سے بجلی امپورٹ کرنے کا منصوبہ ملک وقوم کے مفاد مین ہے تو دانشمندی یہی ہو گی کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کی طرف جلد سے جلد بڑھا جائے۔ جسکے ذریعہ پاکستان کے کئی حصوں و شہروں میں لوڈشیڈنگ کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ طویل مدتی منصوبوں کی بجائے کم مدت کے مفید منصوبوں پر بروقت عمل کر کے بہر صورت عوام کو ریلیف دینے سے بڑھ کر حکومت کی جانب سے گڈ گورننس کا مظاہر ہ کسی اور صورت میں نہیں ہوسکتا۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان