بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آئی ڈی پیز
یہ ابھی تک شدید مسائل کا شکار ہیں۔۔۔۔۔۔ بد قسمتی سے آئی ڈی پیز کو ویسی سہولیات نہیں دی گئیں جو ان کا حق تھا۔ بے گھر ہونیوالے ان افراد کو نہ صرف معاشی مسائل کا سامنا ہے
مصنف : سید بدر سعید
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے عام شہریوں کو اپنا گھربار چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں مہاجر بننا پڑا۔ بد قسمتی سے آئی ڈی پیز کو ویسی سہولیات نہیں دی گئیں جو ان کا حق تھا۔ بے گھر ہونیوالے ان افراد کو نہ صرف معاشی مسائل کا سامنا ہے بلکہ ان کے بچوں کا تعلیمی سال بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ اب حکومت ان کی واپسی کا عمل شروع کا عمل شروع کرنے جا رہی ہے تو ضرورت اس اَمر کی ہے کہ دوبارہ آباد کاری کیساتھ ساتھ ان کے روزگار اور تباہ شدد عمارتوں کی بحالی کی جانب بھی توجہ دی جائے تا کہ یہ محب وطن منفی سرگرمیوں کا شکار ہونے کی بجائے کارآمد پاکستانی بن سکیں۔

15 جون 2014 کو فاٹا میں آپریشن کا آغاز ہوا تو اس کے نتیجے میں سینکڑوں خاندانوں کو اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنا پڑی۔ فاٹا ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ان کے پاس 88 ہزار کے لگ بھگ خاندان رجسٹرڈ ہوئے تھے ۔ اس میں نقل مکانی کرنیوالے سبھی خاندان شامل نہیں کیونکہ نقل مکانی کرنیوالوں کی بڑی تعدادنے مہاجر کیمپوں کا رُخ ہی نہیں کیا۔ اکثریت یا تو پاک افغان سرحدی علاقوں میں اپنے عزیزوں کے ہاں چلی گئی اور کچھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے پاس پہنچ گئے۔
پاکستان میں ہی دربدر ہونے والے ان مہاجرین کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے کیلئے گھر بار چھوڑنے کی قربانی دی تھی۔ آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل اس لئے بھی کیا گیا تھا کہ انہیں خیمے اور ماہانہ راشن وغیرہ دئیے جا سکیں۔ دوسری جانب حکومت وفاقی اور صوبائی ذمہ داریوں کیلئے ہی اُلجھتی رہی۔
کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور آئی ڈی پیز کی بڑی تعداد اسی صوبہ میں رہائش پذیر ہوئی لیکن صوبائی حکومت اسے وفاق کی ذمہ داری قرار دیتی رہی ۔ اس دوران صوبائی وزرا اسلام آباد دھرنے اورکنٹینر پر نظر آتے رہے۔ مرکزی حکومت بھی زیادہ تر آئی ڈی پیز کے حوالے سے صوبائی حکومت پر الزام تراشی کرتی رہی۔ بد قسمتی سے آئی ڈی پیز جیسا حساس مسئلہ سیاسی تناوٴ کا شکار ہو کر دب گیا۔
مجموعی صورتحال یہ ہے کہ حکومت آئی ڈی پیز کو مطلوبہ خیمے مہیا کرنے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں 3،3 خادانوں کو ایک ایک خیمہ میں رہنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ قبائلی ثقافت سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ خیموں میں پردہ کے مکمل انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے تحفظات تھے۔ اسی طرح آئی ڈی پیز کو صحٹ اور تعلیم کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔موسم کی سختیوں کیساتھ ساتھ ان خاندان کے بچوں کے تعلیمی سال کا نقصان بھی ان کی پریشانیوں میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے ۔
شمالی وزیرستان میں جو بچے سکول جاتے تھے انکی اکثریت اب مہاجر کیمپوں میں ہے۔ دوسری جانب مقامی سرکاری سکولوں میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہ انہیں داخلہ دے سکیں۔پرائیوٹ سکولوں میں اتنی فیس طلب کی جاتی ہے کہ جو فی الوقت ادا کرنا ان کیلئے ممکن نہیں۔ ان بچوں کا ایک تعلیمی سال تو ضائع ہو چکا ہے لیکن حکومت اگلا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچا سکتی ہے۔

اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے والے یہ افراد پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ اب پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ انہیں عضو معطل بنانے کی بجائے کارآمد پاکستانی بنانے میں اپنا کردار اداد کرے۔ ان مہاجر کیمپوں میں ہنر مندی کے مختلف کورسز شروع کروائیے جا سکتے تھے تاکہ کیمپوں میں رہتے ہوئے ی افراد اپنی اپنی پسند کے ایسے ہُنر بھی سیکھ لیتے جو واپسی پر ان کیلئے روزگار کی نوید لے کر آتے لیکن اس جانب بھی توجہ نہیں دی گئی رونہ ہم ہزاروں افراد کو ہنر مند بنا کر کار آمد پاکستانی بنا سکتے تھے۔

اب آئی ڈی پیز کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے ۔ پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی کیلئے غیر مسلح ہونا بنیادی شرط ہوگی۔ دوسری جانب ان قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ہتھیار ان کے قبائلی کلچر کا حصہ ہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت مناسب لائحہ عمل طے کر رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن علاقوں میں فوجی آپریشن ہوا ہے وہاں عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
اب آئی ڈی پیزکی واپسی کیسات ساتھ ان علاقوں کی بحالی کا کام بھی شروع ہوگا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ان آئی ڈی پیز کے روزگار کی بحالی پر بھی کام کیا جائے۔ قبائلی علاقہ نہ صرف بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے بلکہ مناسب روزگار ملنے سے یہاں دوبارہ بسنے والوں میں منفی رُجحانات بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ اگر آئی ڈپیز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کئے گئے تو اندیشہ ہے کہ یہاں دوبارہ حکومت مخالفت نفرت جنم لے سکتی ہے۔ پرامن وزیرستان کی بحالی اور اسے بڑا سیاحتی مرکز بنانے کیلئے حکومت کو آئی ڈی پیز کے مسائل اور بحالی کی جانب بھر پور توجہ دینا ہوگئی اور ان کے مسائل سیاسی مفادات کے بالاتر ہو کر حل کرنے ہوں گئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-