بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہم میٹرو ٹرین میں‌ دفن ہونگے
قبرستانوں کے فنڈز میٹروٹرین منصوبہ کی نذر
ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے سرکار جب کسی ایک منصوبے کوپانی اناکا مسئلہ بنالے تو پھر تمام منصوبوں سے نظریں پھیر لیتی ہے۔ آج کل سرکار اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے پر مہربان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منصوبہ شہریوں کے لئے آسائش کاباعث بن سکتا ہے لیکن اس ایک امکان کی خاطر سرکار جواقدامات کرتی چلی جارہی ہے اس نے صورتحال کوانتہائی گھمبیر بنادیاہے۔
اب ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق پنجاب میں قبرستانوں کی بحالی فنڈز بھی اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی نذر کردیے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ محکمہ پی اینڈڈی نے مالی سال 2015-16کے بجٹ میں قبرستانوں کی بحالی اور تعمیر کے لئے مختص ایک ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کی سمری منظور نہیں کی۔ اسے کئی ماہ التوامیں ڈال کر محکمہ خزانہ نے اعتراض لگا کرواپس کردیاتھا۔
محکمہ پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ نے بھی ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود محکمہ بلدیات کی سمری پر فنڈر کااجرا نہیں کیااور تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اربوں روپے کے فنڈز کے متعدد منصوبے روک کراورنج ٹرین منصوبہ اور کسان پیکج کے لئے فنڈز کی منتقلی بتائی جارہی ہے صورت حال یہ ہے کہ دورسی سامہ ہی میں بھی فنڈز کااجرانہ ہونے کے باعث صوبہ کی 36ضلعی حکومتوں کی قبرستانوں کی بحالی، چاردیواری کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی سیکڑوں مجوزہ ترقیاتی سکیموں پرواں مالی سال کام شروع نہ ہونے کاخدشہ ہے۔
یادرہے کہ اس سے قبل 2014-15ء میں ایک ارب روپے کے فنڈز سے قبرستانوں کی بحالی وتعمیر کی 748سکیمیں مکمل کی گئیں جن میں لاہور ڈویژن کی 79، گوجرانولہ 141، سرگودھا 40، فیصل آباد 105، ڈی جی خان 79، روالپنڈی84، ساہیوال 22، ملتان 96 اور بہاولپور ڈویژن کی 80سکیمیں شامل تھیں۔ اس کے مقابلے میں اس سال صرف لاہور میں نئے قبرستان پر توجہ دی گئی جبکہ صوبے کے دیگر تمام علاقوں کے توجہ طلب قبرستانوں کو نظر انداز کیاجارہا ہے۔
یادرہے کہ 2013-14ء کے مالی سال میں بھی میٹروبس منصوبہ کی وجہ سے قبرستانوں کی بحالی کے منصوبوں کے لئے مختص ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز میں سے50کروڑ روپے کی کٹواتی کرلی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیامیٹروبس کی طرح اب اورنج میٹروٹرین منصوبہ بھی فوت شدگان کے لئے مختص رقم سے مکمل ہوگا؟ کیاسرکاریہ سمجھتی ہے کہ شہری اپنے مردے اورنج لائن میٹروٹرین میں دفن کرسکتے ہیں؟ شاید ہماری سرکار اب مردوں اور زندوں میں فرق رکھنا بھول گئی ہے۔
قوم کومبارک ہوکہ اب میٹروبس کی طرح میٹروٹرین پر سفر کرنے والے شہری بھی معتیوں اور قبرستانوں کے لئے مختص رقم پرڈاکامر کرتفریح کریں گے۔ شاید اگلے برسوں میں قبرستانوں کی حالت دیکھتے ہوئے لوگ اپنے مردے میٹروٹڑین میں دفن کرجائیں۔ یہ باشاید عجیب لگے لیکن سرکار کاررویہ یہی ظاہر کررہاہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے