بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن․․․․
قوم ابہام کا شکار کیوں؟ اچھے اور برے طالبان کا نظریہ ہی کیا کم تھا کہ پاک فوج پر بھی تنقید شروع کردی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک متحد ہوں گے اور پاکستان کے عوام کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف ایک نظریہ قائم کرسکیں گے
مصنف : سید بدر سعید
یہ سچ ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں ابھی تک یہی خبر نہیں کہ ہم کس کے خلاف لڑرہے ہیں۔ اس وقت مختلف نظریات کی وجہ سے قوم ابہام کا شکار ہے۔ اچھے اور برے طالبان کا نظریہ ہی کیا کم تھا کہ پاک فوج پر بھی تنقید شروع کردی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک متحد ہوں گے اور پاکستان کے عوام کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف ایک نظریہ قائم کرسکیں گے۔

پشاور سانحہ کے بعد پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن تیز کردیا ہے اور سزائے موت پر عملدرآمد کرتے ہوئے پھانسی کے فوراََ بعد چیف آف ٓرمی سٹاف کی سیاسی قیادت سے اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ اسی طرح آرمی چیف کا ہنگامی بنیادوں پر افغانستان کا دوسرہ بھی عالمی میڈیا پر نمایاں ہوا۔ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک ہم ابہام کا شکار ہیں۔
سانحہ پشاور کے بعد بھی متعدد سوال اٹھتے ہیں۔ حملہ آوروں کے بارے میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اب تک جتنے لوگوں کی شناخت ہوئی ، وہ سب پاکستانی تھے۔ اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ طالبان کے ترجمان نے یہ ذمہ اری غیر ملکی میڈیا پر قبول کی۔ دوسری جانب افغان طالبان سمیت کچھ پاکستانی طالبان گروپوں نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کردی۔
یہ صورتحال مزید ابہام پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی حملے پر ”طالبان“ کی جانب سے ذمہ داری قبول بھی کی جاتی ہے اور ”طالبان “ ہی کی جانب سے اس کی مذمت بھی کی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”طالبان“ کے نام سے مختلف گروہ متحرک ہیں۔ ان گروہوں کے مقاصد اور نظریات بھی الگ الگ ہیں لیکن اکثر پاکستانی اس بات سے لاعلم ہیں۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ شدت پسندوں نے سکول کو نشانہ کیوں بنایا اور اس قدر بے رحمی سے معصوم بچوں کو شہید کیوں کیا۔
حملہ آوروں کے ساتھیوں کے مطابق یہ آپریشن ضرب عضب کا رد عمل تھا۔ یہ بات بھی گردش کرتی رہی کہ براہ راست آرمی سے منسلک افراد کو نقصان پہنچانے کیلئے اس سکول پر حملہ کیا گیا تاکہ ان کے بچوں کو شہید کیا جاسکے۔ دوسری جانب اس حملے سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ حملہ آور عالمی میڈیا کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ بڑی تعداد میں بچوں کی شہادت کی خبر نے کسی بھی بم دھماکے سے زیادہ کورویج حاصل کی۔
کچھ عرصہ قبل لاہور واہگہ بارڈر پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ بارڈر بھارت کے ساتھ لگتا ہے، اسلئے اس سے بھی حملہ آوروں کو عالمی سطح پر کوریج ملی تھی۔ ان دونوں حملوں کو طالبان نے آپریشن ضرب عضب کا رد عمل قرار دیا۔ اگر ان دو بڑے حملوں کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہوتاہے کہ ایک تو پاکستان میں عسکریت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور ہوا ہے جس کی وجہ سے طالبان کا ایک گروہ ذمہ داری قبول کرتا ہے اور دوسرے گروہ لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ گروہ ان سویلین پر حملہ کررہا ہے جو آرمی کے قریب ہوں۔ دیگر الفاظ میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ آرمی کے زیر انتظام علاقوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ اسی تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ وہ نسبتاََ آسان ٹارگٹ منتخب کررہے ہیں اور براہ راست پاک فوج سے ٹکرانے کی صلاحیت کھورہے ہیں۔ لاہور واہگہ بارڈر پر حملے دوران بھی حملہ آور نے سیکیورٹی حصار سے باہر ہی خود کو اڑایا تھا اور پشاور سانحہ میں بھی سکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر تھی۔
البتہ یہ سوال ضرورت اٹھے گا کہ وہ اس آسان ہدف تک پہنچنے کے ”مشکل“ راستوں سے کیسے بآسانی گزر گئے۔ آپریشن ضرب عضب کے رد عمل میں ہونے ولے ان حملوں میں ایک بات مشترک ہے کہ حملہ آور عالمی میڈیا کی توجہ چاہتے تھے۔ پاک بھارت بارڈر پر تقریب کے بعد دھماکے سے بھی انہوں نے دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی اور پشاور میں بڑی تعداد میں بچوں کے قتل عام سے بھی عالمی میڈیا اس جانب متوجہ ہوا۔
دیگر الفاظ میں دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں طالبان یا عسکریت پسند کھلے عام کارروائیاں کررہے ہیں۔ یہ بات عالمی برادری کو کون بتانا چاہتا ہے اور اس سے کس کے مفادات کو تقویت ملتی ہے۔ یہ عام پاکستانی بھی جانتا ہے۔
طالبان کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کا رد عمل کافی دیر سے آیا ہے۔ اس رد عمل کے بارے میں تجزیہ نگاروں نے پہلے سے ہی خدشات کا اظہار کردیا تھا لیکن پاک فوج کی جانب سے شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کرنے کی وجہ سے اس قدر رد عمل سامنے نہیں آیا جس قدر خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔
دوسری جانب یہ بات بھی سچ ہے کہ طویل عرصہ سے دہشت گردی ک ی جنگ لڑنے کے باوجود بحیثیت قوم ہم ابہام کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں اچھے اور بُرے طالبان کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اس کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ جو گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں، انہیں ہم بُرے طالبان یا دشمن قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح جو گروہ دیگر ممالک خصوصاََ افغانستان میں لڑتے ہیں اور پاکستان میں کارروائیاں نہیں کرتے، ایسے گروہوں کو اچھے طالبان کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن عالمی دنیا انہیں نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں۔
اچھے اور بُرے طالبان کے نظریہ نے قوم کو بھی کنفیوژژ کردیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ سوش میڈیا پر گردش کرنے والی متضاد اور بے بنیاد خبریں صورتحال کو مزید الجھا دیتی ہیں۔
پاکستان جس نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ حکومت اور قوم اپنے دشمنوں کے حوالے سے کسی قسم کے ابہام کا شکار نہ ہوں۔ ہمیں اچھے اور بُرے کے نظریات سے باہر نکل کر پاکستان کے آئین اور عالمی قوانین کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
پاکستان کو عالمی سطح پر جس طرح گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سے بچنے کا یہی کلیہ ہے کہ ان گروہوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں علماء کرام کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عام شہری کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان