بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہتھیار پھینکنے والے گروپوں کو آگے لانے کا فیصلہ
طالبان کی تحویل میں 23 ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ سے حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں” ڈیڈ لاک“ پیدا ہو گیا ہے
نواز رضا:
طالبان کی تحویل میں 23ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ سے حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں” ڈیڈ لاک“ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت نے مذاکرات کو طالبان کی طرف سے ”یک طرفہ“ جنگ بندی کے اعلان اور اس پر عمل کی یقین دہانی سے مشروط کر دیا ہے حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان اس حد تک” فاصلے اور غلط فہمیاں“ پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے درمیان فی ا لحال ٹیلی فون پر رابطہ بھی معطل ہے۔
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ” بے اعتناعی “پر کہا ہے کہ” اگر وہ ملاقات نہیں کرنا چاہتی ہمیں بھی اس سے ملاقات کا کوئی شوق نہیں “ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی ، حکومتی کمیٹی کی وساطت سے وزیر اعظم کو طالبان کے مطالبات سے آگاہ کر چکی ہے۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے قوم کو”جنگ بندی “ کی خوشخبری سنانے کا اعلان کیا تھا لیکن دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے مذاکراتی عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
رہی سہی کسر ایف سی کے 23 جوانوں کی شہادت نے نکا ل دی ہے تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی تحویل میں طالبان کے ساتھیوں کی ہلاکت پر رد عمل میں کارروائی کی ہے لیکن عسکری حکام نے سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں قیدیوں کی ہلاکت کو محض پراپیگنڈہ قرار دیا ہے وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو طالبان سے ڈائیلاگ کرنے کے حق میں ہیں نے طالبان کے ہاتھوں ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ پر کہا ہے” مذاکراتی عمل کی آڑ میں سیکیورٹی فورسز کے قتل کی اجازت نہیں دی جا سکتی “ دہشت گردی کے حالیہ واقعا ت نے حکومت میں طالبان سے مذاکرات کے حامی عناصر کے موٴ قف کو دھچکا لگایا ہے اور طالبان کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کی حامی قوتیں ان پر حاوی ہو گئی ہیں۔
یہی وجہ ہے پیر کوحکومتی مذاکراتی کمیٹی نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے اکوڑہ خٹک میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی۔ پروفیسر محمد ابراہیم اور مولانا محمد یوسف شاہ نے حکومت کی جانب سے طے شدہ مذاکرات کو منسوخ کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ”حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ہمیں بھی طالبان سمجھ لیا ہے“یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ طالبان کی تحویل میں ایف سی کے 23 جوانوں کی شہادت کے واقعہ نے مذاکراتی کمیٹیوں کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔

عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ” موجودہ صورت حال میں معاملات درست سمت میں نہیں بڑھ رہے “ جمعیت علماء اسلام (س) کے ترجمان مولانا محمد یوسف شاہ نے کہا ہے کہ ” جب سے مولانا سمیع الحق نے ایف سی کے 23جوانوں کی ہلاکت کی خبر سنی ہے وہ سو نہیں سکے۔ طالبان کی جانب سے آئندہ چند روز میں جنگ بندی کے اعلان کا امکان تھا لیکن حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے بغیر مشاورت اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
درحقیقت دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ”بداعتمادی اور غلط فہمیاں “ پیدا کر دی ہیں‘ موجودہ صورت حال میں حکومت اور فوج طالبان سے مزید مذاکرات نہ کرنے پر متفق نظر آتی ہیں۔ اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ”بہت ہو چکا “ شمالی وزیر ستان میں طالبان کے خلاف کسی وقت بھی محدود پیمانے پر آپریشن شروع ہو سکتا ہے۔
ایف سی کے 23جوانوں کی طالبان کے ہاتھوں شہادت کے واقعہ کے بعد پیر کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے دو ارکان عرفان صدیقی او رمیجر ( ر ) محمد عامر نے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ہنگامی ملاقات کی اور ان سے اس واقعہ کے مذاکرات پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالہ سے بات چیت کی جس کے بعد ہی حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو ملاقات منسوخ کرنے کا پیغام بھجوایا۔
منگل کو حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک بار پھرطالبان کی طرف سے ہر قسم کی کاروائیاں کو بند کرنے سے مشروط کر دیا گیا اور کہا گیا کہ طالبان جنگ بندی کے اعلان پر عمل درآمد کوبھی یقینی بنائیں۔اسکے بغیر بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل جاری نہیں رکھا جاسکتا بعد ازاں حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات میں بھی یہی واضح کیا کہ طالبان کی طرف سے پر تشدد کی کاروائیوں کی موجودگی میں کمیٹی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ طالبان کمیٹی سے طے شدہ اجلاس میں شرکت بے معنی ہوگی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید بھی موجود تھے شنید ہے حکومت ”چوہدری نثار علی خان فارمولہ “ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جس پر مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام سے قبل کام ہو رہا تھا ”چوہدری نثار علی خان فارمولہ“ کے تحت طالبان کے ان گروپوں کو ”آن بورڈ“ کیا جا رہا ہے جوہتھیار پھینک کر قیام امن کے لئے تیار ہیں اور پاکستان سے جنگ کرنے والوں سے اس زبان میں گفتگو کی جائے گی طالبان مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کی جانب سے دوسری مرتبہ ملاقات سے انکار کو افسوس ناک قرار دیا ہے پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی کا ملاقات سے انکار ڈیڈلاک ہے،ڈیڈلاک کے” سینگ اور دم“ نہیں ہوتے،ہمیں متنازعہ نہ بنایا جائے، مولانا محمد یوسف شاہ نے کہا ہے کہ جب طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق گھنٹوں کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے تو اس روز بھی آخری لمحے عرفان صدیقی نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا پیغام دیا اور 17فروری کو دوسری بار ہمارے معلوم کرنے پر عرفان صدیقی نے ہمیں بتایا کہ ان کی کمیٹی اکوڑہ خٹک نہیں آرہی ہے اگر مشترکہ اجلاس منعقد ہوجاتا تو ہم باہم مل کر اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے لیکن افسوس ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ہمیں بھی طالبان قرار دے کر ملاقات ملتوی کر دی ہم جنگ بندی کے مرحلے میں نہایت قریب پہنچ گئے تھے‘ ہماری کمیٹی کی کوشش ہے کہ مقتدر حلقوں سے براہ راست رابطہ قائم ہو تاکہ امن وامان کی بحالی میں ان کو شریک بھی کیاجاسکے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی مقتدر حلقوں سے رابطے کا موقع نہیں مل سکا وزیراعظم کو دونوں کمیٹیوں کو کھل کر سننا چاہیے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد سیاسی حلقوں کی طرف سے حکومت پر طالبان کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لئے دباؤ بڑھ گیا ہے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج اور پارلیمنٹ کو دوبارہ اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں۔
ڈر ڈر کر جینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ادھر سیاسی حلقوں میں عمران خان اپنے اس متنازعہ بیان کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جس میں انہوں نے سابق آرمی چیف سے ایک بیان منسوب کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف آپریشن کی کامیابی کے 40فیصد امکانات ہیں سید خورشید شاہ نے کہا ہے عمران خان نے آپریشن کے حوالے سے بیان دے کر فوج اور حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔
ہم نے کمزور ہونے کے باوجود سوات میں آپریشن کیا نواز شریف تو مضبوط وزیر اعظم ہیں۔ چودھری نثار علی خان بطور اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کی حکومت کا محاسبہ کرتے ہوئے ایوان میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے تھے۔ ہم تو حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں حکومت کے خلاف کسی خفیہ طریقے سے ملاقاتیں بھی نہیں کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف اپوزیشن کے دباؤ میں شمالی وزیر ستان میں آپریشن کا حکم جاری کرتے ہیں۔”چوہدری نثار فارمولہ “پر عمل کرتے ہیں یا پھر ”امن “ کو ایک اور موقع دیتے ہیں ان تمام سوالات کا آئندہ چند دنوں میں جواب مل جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-21

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان