بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہر لیڈر کہہ رہا ہے پاکستان کے عوام اس کے ساتھ ہیں
عوام سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ان کے مسائل کیا ہیں؟۔۔۔۔ سیاست دانوں نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر عوام کو استعمال کیا
ابو زید محمد اکرم:
اس وقت پاکستان کی سیاسی صورتحال بڑی کروٹیں بدل رہی ہے۔ اگست کے مہینے میں مارچ نے ملک کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے۔ یہ مارچ انگریزی مہینوں جنوری فروری کے بعد آنے والا مارچ نہیں بلکہ لانگ مارچ، انقلاب مارچ اور آزادی مارچ ہے ۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کا لانگ اور آزادی مارچ اور دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں بڑئے پر دھاندلی کی گئی ہے اوع اس دھاندلی میں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت بلا واسطہ اور بالواسطہ ملوث ہے۔ عمران خان کے مطابق الیکشن کمیشن نے کھلے عام دھاندلی کر کے مسلم لیگ (ن) کے جیتنے اور ان کی حکومت بنا نے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف نے شروع دن سے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ الیکشن 2013ء میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
انہوں نے چند حلقوں کی نشاندہی بھی کرائی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان حلقوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف نے عدلیہ سے بھی رجوع کیا مگر پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ کسی بھی سطح پر ہمارے مطالبے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ (ن) اس بات کا دعویٰ کر رہی ہے کہ پوری قوم نے اس کو منتخب کیا ہے اور پاکستان کی پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔
مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف کے تمام دعووٴں کو مسترد کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ پہلے تو حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ئی اہمیت نہ دی مگر جب یہ دیکھا گیا کہ یہ لوگ لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے والے نہیں تو اچانک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کار کردگی قوم کو بتائی اورساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف کے 4 حلقوں کی دوبارہ گنتی کرنے کے مطالبہ پر جو ڈیشل کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔
مگر عمران خان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی بھی کمیٹی اپنا آزادانہ فیصلہ نہیں بنا سکتی۔ لہٰذا اب عمران خان نے ایک آئینی وزیراعظم سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اس وقت وفاقی دارلحکومت میں بھی حکومت کے خلاف دھرنا دئیے بیٹھی ہے ابھی تک تو عمران خان وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔
پارٹی کے دوسرے عہدیدار ان بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے سر براہ شیخ رشید بھی گوشہباز گو اور گو نواز گو کے نعرے لگاتے رہے۔
اس ساری صورتحال کو اگر دیکھا جائے تو اس میں ایک چیز واضح طور پر نمایاں ہے کہ حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ اسے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام نے منتخب کیا ہے ، اپوزیشن اور دوسری سیاسی جماعتوں کا بھی یہی دعویٰ ہے ۔
پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام ان کے ساتھ ہیں۔لیڈر ان ساحبان کا یہ کہنا تو سرے سے ہی غلط ہے کہ پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے بلکہ باکستان کی کل آبادی بیس اکیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر لیڈر اپنی پوری قوم کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے مگر آج تک کیا کسی لیڈر نے پاکستان کے عوام سے یہ پوچھا کہ اس کے کیا مسائل ہیں۔
قوم کیا چاہتی ہے۔ وہ کن مصائب میں گھری ہوئی ہے؟ عوام بھوک سے مر رہے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں علاج معالجے کیلئے دوائی غریب کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے ۔ بجلی روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہو رہی ہے۔ غریب آدمی اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دلوانے کے سوچ بھی نہیں سکتا ۔ سچی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے صرف موجودہ حکومت ہی نہیں سابقہ حکومتوں نے بھی اسی طرح عوام کو اپنے مفاد کی خاطر صرف استعمال کیا ہے عوام کو اس کے حقوق نہیں دیئے گئے۔
لاٹھی چارج ہوا تو عوام پر ، آنسو گیس پھینکی گئی تو عوام پر ، گرفتاریاں ہوئیں تو عوام کی، خون بہا کر غریب کا ، حکمرانوں اور لیڈروں کا کیا گیا، کچھ بھی نہیں۔ وہ عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں بیرونی ممالک میں کاروبار کئے جا رہے ہیں کے بینکوں میں ان کی رقمیں جمع ہو رہی ہیں اور یہاں پر غریب عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

اس وقت اسلام آباد میں سیاسی گہما گہمی ہے عمران خان لاہور سے اپنے سپورٹروں کے ساتھ 5 گھنٹے کا سفر تقریبا 36 گھنٹوں میں طے کر کے اسلام آباد میں وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کے لئے پہنچ گئے۔ وزیراعظم مستعفی ہوتے ہیں یا عمران خان لاہور کی طرف واپسی کا ٹکٹ لیتے ہیں۔ اس کا فیصلہ یہ سطور شائع ہونے تک ہو جاتے گا ۔ لیکن دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ وزیراعظم اتنی آسانی سے اپنا عہدہ چھوڑنے والے نہیں کیونکہ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔
اکیلے عمران خان کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ زبردستی وزیراعظم کو ان کے آئینی عہدے سے ہٹا سکے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے اور آپس میں مفاہمت کے ساتھ ہی کچھ کیا جائے جو ملک اور قوم کے حق میں بہتر ہے۔ ملک کی 67 سالہ تاریخ میں کوئی ایک دفعہ ہی تمام جماعتیں اور لیڈر ان صاحبان ایسے نقطے پر متفق اور متحد ہو جائیں جس سے ہمارا وطن عزیز ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔
ہم معاشی استحصال کا شکار ہیں، تعلیمی میدان میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ یہ وقت کھو کھلے نعرے لگانے کا نہیں بلکہ ایسے اقدامات کرنے کا ہے جس میں ہم سب کی بھلائی ہو اس ملک و قوم کی بھلائی ہو۔
14 اگست تاریخ کا دوہ دن ہے کہ جب پاکستان کا نقشہ پوری دنیا کے سامنے آیا ۔ یہ دن تجدید عہد کا دن تھا اس دن تو چاہیے تھا کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان مل بیٹھ کر اپنی غلطیوں کا ازالہ کرتے اور آئندہ غلطیاں نہ کرنے کا عہد کرتے ۔
یہ وہ دن تھاکہ ہم سب اپنے اپنے گریبانو ں میں جھانکتے اور اپنی غلط کاریوں پر پشیمان ہوتے اور آئندہ اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا وعدہ کرتے مگر صد افسوس کہ بحیثیت حکمران، بحیثیت سیاستدان ہم سب نے اس دن کو بھی سیاست کی نذر کر دیا، اپنے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر سیاسی احتجاجوں اور سیاسی دھرنوں کی نذر کر دیا۔ ہم 67 سالوں میں بھی اپنے آپ کو نہ بدل سکے اپنے آباوٴ اجداد کی قربانیوں کا صلہ نہ دے سکے۔
آج بھی پاکستان کو اور حصول پاکستان کے مقصد کو نہ پہچان سکے ۔ اے قائد ! اے مفکر پاکستان ! اے جانثار ان تحریک پاکستان ہم آپ سب سے شرمندہ ہیں کہ ہم اس خطے کی قدر نہ کر سکے جو آپ نے سال با سال کی محنت اور قربانیوں کے بدلے میں ہمیں سونپا تھا۔ آج بھی ایک ایسے قائد اور رہنما کی ضرورت ہے جو ہمیں بحیثیت مسلمان قوم ہماری شناخت کر یاد دلادے۔ آج بھی ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کی درست سمت رہنمائی کر سکے اور اسے اس کا کھویا ہوا مذہبی اور قومی تشخص واپس دلا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان