بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومتی شرائط، کیا امن کی منزل کا راستہ کھل گیا؟
جنرل راحیل کے ذریعہ امریکی جنگ سے چھٹکارے کی امیدیں بڑھ گئیں فوج اور طالبان کے ایک دوسرے پر حملے، مذاکرات کے حامیوں کو تشویش
اسرار بخاری:
طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے شرائط کھل کر سامنے آئی ہیں۔ ان شرائط کا جائزہ لیا جائے تو ان کی معقولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے یعنی اگر طالبان قبائلی علاقوں میں نائن الیون سے پہلے کی صورتحال بحال کردیں تو انہیں تمام تر رعایتیں دی جاسکتی ہیں۔
یہ شراط حسبِ ذیل ہیں:
1۔نائن الیون سے پہلے کی صورتحال بحال کرو۔

2۔پروفیسر اجمل، علی حیدر گیلانی، شہباز تاثیر کو رہا کرو۔
3۔با مقصد مذاکرات کرو۔
حکومت نے شرائط کے ساتھ ساتھ پیشکش بھی کی ہیں جو مندرجی بالا شرائط پوری کرنے پر دی جائیں گی۔
سرکاری مذاکرات کمیٹی کے مطابق طالبان کی جانب سے نائن الیون سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے، ان کے قیدی رہا کردئیے جائیں گے۔ متاثرہ قبائلی خاندانوں کو زرتلافی دیا جائے گا، پیس زون قائم کیا جائے گا جہاں مذاکرات کیلئے طالبان بآسانی آجاسکیں گے۔
پروفیسر اجمل، حیدر علی گیلانی اور شہباز تاثیر کی رہائی کے بدلے قاری شکیل کے بھائی کو رہا کردیا جائے گا۔ اس طرح دو طرفہ الزامات کے تحفظات کیلئے کمیٹی میں فریقین کے دو دو ممبران لئے جائیں گے جبکہ فیصلہ کن مرحلے میں قبائلی سرداروں اور علماء کرام کو بھی مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابرہیم کے مطابق حکومت طالبان براہ راست مذاکرات کیلئے طالبان شوریٰ کے ساتھ ابتدائی رابطہ ہوگیا ہے۔

جہاں تک حکومت کی جانب سے شرائط کا تعلق ہے یہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے جن کو پورا کرنے تحریک طالبان پاکستان کیلئے ناممکن کی حد تک مشکل ہو بلکہ قیدیوں کی رہائی ، پیس زون کا قیام اور متاثرین کیلئے زرتلافی تو گویا ان کے مطالبات ہی تسلیم کرنے والا معاملہ ہے اور جہاں تک تین افراد کی رہائی کا تعلق ہے تو اس کے بدلے میں طالبان کے قیدی رہا کئے جارہے ہیں اور یہ اعتماد سازی کیلئے عملی قدم سمجھا جاسکتا ہے کہ فوج نے مزید تیرہ قیدی حکومت کے حوالے کردئیے ہیں جو حکومت طالبان کے حوالے کرسکتی ہے۔
چار ہفتے کے تعطل کے بعد ان شرائط کا سامنے آنا مذاکرات کے حوالے سے خوش آئندہے اگرچہ اس وقت بادی النظر میں دشمنی کی پوری کیفیات موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت عہدیدار فوج کے افسر و جوان اور طالبان سب کے سب پاکستانی ہیں۔ غلط اقدامات، غلط فیصلوں اور غلط فہمیوں نے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کردیا ہے۔ اگر اس حقیقت کو مد نظر رکھا جائے کہ ان تمام فریقین نے اسی ملک میں رہنا ہے ان سب کا حال اور مستقبل پاکستان سے ہی واستہ ہے تو پھر یہ اپنے تنازاعات اور معاملات نمٹانے میں آسانی محسوس کریں گے۔
تاہم لمحہ موجود کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے توجہاں ایک طرف مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں وہاں دوسری جانب ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یعنی جمعرات کے دن خیبر ایجنسی نے کی۔ تحصیل باڑہ اور علاقہ تیراہ میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے کیا گیا کہ 37شدت پسند ہلاک 14زخمی ہوئے اور بمباری سے ان کے 10سے زائد ٹھکانے تباہ کردئیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے اور پشاور و چارسدہ میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں ملوث دہشت گردوں ک ی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ یاد رہے طالبان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد بمباری کی گئی۔ جمعہ کو کراچی میں دہشت گردی کی ایک سے زائد وارداتیں ہوئی۔
حکومتی شرائط پر تحریک طالبان کا رد عمل ان سطور کی اشاعت سے قبل منظر عام پر آجائے گا۔
تین افراد پروفیسر اجمل اور شہباز تاثیر کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی جبکہ علی حیدر گیلانی کی ایک وڈیو سامنے آگئی ہے جس میں شدت پسند گروپ نے حیدر گیلانی کو زنجیروں میں جکڑرکھا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ اگر میری رہائی کیلئے ایک ماہ میں تاوان ادا نہ کیا گیا تو مجھے قتل کردیا جائے گا۔ قبل ازیں علی حیدر گیلانی کی رہائی کیلئے دو ارب کا تاوان مانگا گیا تھا جسے کم کر کے اب 50کروڑ کردیا گیا ہے ۔
علی حیدر گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ تحریک طالبان کے کسی گروپ کی تحویل میں نہیں ہے بلکہ اسے جس شدت پسند گروپ نے گرفتار کر رکھا ہے وہ تحریک طالبان کے دئرہ کار میں نہیں آتا اور اس کے اہل خانہ اسے رہا کرانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے انکشاف کی اہے کہ علی حیدر گیلانی کو طالبان سے اغوا نہیں کیا میں نے اس کی وڈیو خود دیکھ ہے اس وڈیو کا ایسے وقت میں منظر عام پر آنا معنی خیز ہے جب حکومت نے ان تین افراد کے بدلے قاری شکیل کے بھائی سمیت طالبان قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کردی ہے اب ظاہر ہے جب طالبان کی جانب سے یہ جواب آئے گا کہ علی حیدر گیلانی تو ہمارے پاس ہی نہیں ہے تو اس سے مذاکرات پر منفی اثرات کا پڑنا لازمی امر ہے۔
سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ قدم مذاکرات کو سبوتاژکرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ چند روز میں اس اجمال کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ تاہم فریقین کو چاہیے کہ وہ معاملہ کی گہرائی میں جاکر حقیقت حال تلاش کریں اور عجلت میں کوئی منفی فیصلہ نہ کریں جس سے مذاکرات کی سازگار فضا مکدر ہوجائے۔ فنکشنل لیگ کے صدر پیرپگاڑا سے ملاقات میں جنرل پرویز مشرف نے جو یہ کہا کہ ”دفاعی ادارے کے خلاف پروپیگنڈہ نہیں کرنا چاہیے اور افراج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں تو اس سے اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
مگر اس سلسلے میں بھی دورائے نہیں ہے کہ فوج اور قوم کو غیر ضروری مشکل میں پھنسانے کے ذمہ دار بھی جنرل پرویز مشرف ہیں۔ کراچی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر کچھ افراد کو ریلی کا نام دیکر خطاب میں جنرل مشرف نے جو کچھ کہا اس سے اختلاف کی گنجائش بھی ہے۔
اگر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں 50سے 150تک جمع کرلئے جانے والے افراد کا نام پاکستان کے عوام ہے تو ضرور عوام اس کیلئے پریشن ہیں البتہ جہاں تک عوام کی پریشانی کا تعلق ہے تو یہ جنرل مشرف کیلئے نہیں بلکہ جنرل مشرف کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے اس نے ہوس اقتدار میں پاکستان کی قوم اور فوج کو امریکی جنگ کا ایندھن بنانے کا جو کام کیا ہے عوام اس سے ضرور پریشان ہیں۔
جنرل اشفاق پرویش کیانی کے رویہ نے عوام کے کچھ ریلیکس کیا اور اب جنرل راحیل شریف سے یہ توقع بندھی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو اس امریکی جنگ سے چھٹکارا دلانے میں تاریخی کردار ادا کریں گے۔ اس جنگ نے پاکستان کو تو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان کے سوا کچھ نہیں دیا، خود امریکہ بھی ”وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے“ کی تفسیر بنا ہوا ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بالکل درست کہا کہ دس سال میں پہلی دفعہ دھماکوں اور بالخصوص خود کش حملوں میں جو نمایاں کمی آئی ہے اسے مذاکرات کی کامیابی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو طالبان سے شدید بغض کا شکار ہیں اور ایسے عناصر بھی ہیں جو پاکستانی فوج کے بدخواہ ہیں لیکن مذاکرات کی مخالفت میں یہ دونوں ایک ہیں۔
یہ واضح طور پرغیر ملکی ایجنڈا بھی ہے کہ پاکستان کی فوج کو مختلف داخلی محاذوں میں الجھا کر کمزور کر دیا جائے۔ حامد میر کے معاملے پر ایک میڈیا گروپ نے جو کردار ادا کیا یہ اگر شعوری طور پر نہیں تو لاشعوری طور پر اسی ایجنڈے کو تقویت پہنچانے کا عمل تھا، ایک مفروضے کو بنیاد بنا کر جس طرح آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر آٹھ گھنٹے تک ملزم کے طور پر دکھائی جاتی رہی اسے ملک دوستی کے کس کھاتے میں رکھا جاسکتا ہے۔
وزارت دفاع کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ سے قبل جیو کے خلاف پیمرا کو جو درخواست دی گئی اس سے یہ عمومی تاثر پھیلا ہے کہ یہ سب فوج کے دباؤ کا نتیجہ ہے جبکہ زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ حکومت نے عجلت میں یہ کام وزیر اعظم کے بغیر سوچے سمجھے آغا خان ہسپتال پہنچ جانے سے پیدا شدہ جانبداری کے تاثر کی نفی کیلئے انجام دیا ہے۔ یہ تاثر اس لیے پیدا ہوا کہ جبکہ حامد میر ابھی مکمل طور پر ہوش میں نہیںآ یا تھا اس لئے وزیر اعظم کا وہاں پہنچنا یکجہتی کا علامتی پیغام سمجھا گیا بالخصوص ایسے وقت میں جب آئی ایس آئی پر کھل کر الزام لگایا جارہا تھا دوسری وجہ یہ ہے کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوئے بلکہ جان سے بھی گئے۔
وزیر اعظم نے ان تک پہنچنے میں ایسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
پاکستان میں وہ تمام جانے پہنچانے افراد ”انڈین لابی“ جن کی شناخت ہے ان تمام کے دلوں میں اچانک ایک میڈیا گروپ کی حمایت اور حامید میر کی محبت کا جوار بھاٹا اٹھنے لگا اور معض نے تو اپنی ”کارکردگی“ کی رپورٹ ہندوستان ٹائمز کے ونودشرما کے سپرد کر کے ”فرائض“ کی صحیح طور پر انجام دہی کی اطلاع دینا ضروری سمجھا۔
ان سطور میں پہلے بھی عرض کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی نہ ”قدسیوں“ کی جماعت ہے نہ اس کا سربراہ”جبرائیل“ ہے انسانی کمزوریاں رکھنے والے اس کے وابستگان سے بھی فروگذاشت ناممکن نہیں لیکن جس طرح اجتماعی دانش غلطی نہیں کرسکتی اسی طرح پورا ادارہ کسی جرم کا شکار نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سربراہ ہونے کے باوجود جنرل پرویز مشرف کے تجاوزات پر فوج کو مطعون نہیں کیا جاسکتا۔
جنرل پرویز مشرف کے خلاف اگر بات کی جاتی ہے تو یہ الزام نہیں بلکہ اقدام ہیں جو کوئی سربستہ راز نہیں ہیں۔ ان سطور میں اگر فوج کی کھل کرحمایت کی گئی اس لئے کہ یہ ملکی و قومی سلامتی کا ذمہ دار ادارہ ہے تو فوجی جرنیلوں ک ے بعض فیصلوں اور اقدام کی کھل کر مخالفت بھی کی گئی ہے۔ میں پوری دیانتداری سے سمجھتا ہوں ملک کے اندر جتنے فوجی آپریشن کئے گئے کسی ایک کے نتیجے میں مطلوبہ نتائج مکمل طور پرحاصل نہیں ہوسکے۔
سوات آپریشن کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے یہ صورتحال معمول پر آنے کی کیسی کیفیت ہے جسے بندوق کے زور پر برقرار رکھا جارہا ہے۔ ملک میں حقیقی امن کے قیام کا راستہ پاکستانی طالبان سے مذاکرات ہی ہیں، ان مذاکرات میں حائل رکاوٹوں میں ایک نفاذ شریعت کا مطالباہ بھی ہے اس سے ہراساں نہیں ہونا چاہئے۔ طالبان کو قومی دھارے میں شامل ہونے دیں اس طرح نفاذ شریعت کیلئے انہیں انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا اور ملک میں تمام مسلم لیگیوں، پیپلز پارٹی، اے این پی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی موجودگی میں وہ ایک تہائی تو کیا سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کرسکیں گے اور اس طرح اسلام کے نام پر قائم ہونے اور اسلامی جمہوریہ کی شناخت رکھنے والا ملک نفاذ شریعت کی ”قباحت“ سے پاک رہے گا۔

پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ایک سے زائد بار مذاکرا کی حمایت کی ہے اور مذاکرا کو ہی مسئلہ کا حل قرار دیا ہے اگرچہ بعد میں ان میں سے بعض جامعتوں کے لیڈروں نے اپنے موٴقف کے حوالے سے یوٹرن لیا ہے۔ بہر حال ان مذاکرات سے بہت سے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو محفوظ راستہ ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے عظام کے مطابق مذاکرات کے سلسلے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہم سمجھے ہیں حکومت انہیں تنگ گلی میں لے جائے گی جہاں ان کے اختیارات محدود ہوجائیں گے۔ ایک عرب جنگجو علی باز نے کہا کہ ہم شام منتقل ہونے میں دلچسپی رکھے ہیں تاہم اپنے بڑے خاندان کے ساتھ منتقلی کے انتخامات نہیں کرپائے۔ شاید مذاکرات کے حصے کے طورپر پاکستانی حکومت ہمیں محفوظ راستہ فراہم کردے تب میرے جیسی صورتحال سے دوچار لوگوں کی بڑی تعداد یہاں سے رخصت ہوجائے گی۔
سعودی شہری عبدالاسلام نے کہا کہ جہاد کسی ایک سرزمین تک محدود نہیں ہے۔ زیادہ تر ساتھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت شام اعلیٰ ترین جہادی محاذوں میں سے ایک ہے جبکہ طالبان شوریٰ کے ایک رکن کے دعویٰ کے مطابق عرب اور ازبک جنگجوؤں سمیت آٹھ ہزار جنگجو قبائلی علاقوں سے شام منتقل ہوچکے ہیں اور اس کو کوئی ابہام نہیں رہنا چاہئے کہ طالبان سے مذاکرات کا میاب ہوجاتے ہیں ملک میں امن و امان کا کائی مسئلہ نہیں رہتا اور قبائلی علاقے جنگی محاذ کی بجائے معمول کی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو صاف ظاہر ہے غیر ملکی جنگجوؤں کیلئے یہاں رہنے کا جواز رہے گا نہ ہی ان کیلئے کوئی کشش رہے گی۔
ان علاقوں سے غیر ملکی جنگجوؤں کو واپس بھجوانے کی جو خواہشات ظاہر کی جارہی تھی وہ ان کی خود پوری ہوجائے گی۔ جماعت اسلامی امیر سراج الحق کی اس تجویز کو بھی زیر گور لایا جانا چاہیے کہ مذاکرات میں فوج کا نماندہ بھی شامل کیا جائے تاکہ سٹاک ہولڈرز مل بیٹھ کر امن و سلامتی کو یقینی بنانے کا فارمولہ تلاش کرسکیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان