بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت اور فوج کے شانہ بشانہ عوام!
ساڑھے چارماہ بعدحکومت طالبان سے مذاکرات ختم کرکے ”فوجی آپریشن “ کا آپشن استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی موجودہ حکومت کے بعض رہنماء طالبان سے مذاکرات کرنے کے حامی تھے
بالآخر نواز شریف حکومت کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ”ضرب عضب“ شروع کر دیا گیا ہے یہ آپریشن اپنے مظلوبہ مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا پاک فضائیہ کے طیاروں نے تو ایک روز قبل ہی شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کر دی تھی کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی کے بڑے واقعہ کے بعد اسلام آباد میں اعلیٰ سیاسی وعسکری قیادت وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کرکے اٹھی۔
امریکہ پچھلے کئی سال سے پاکستان پر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لئے دباؤ ڈال رہا تھا لیکن حکومت بوجوہ آپریشن کرنے سے گریز کرتی رہی ہے لیکن 6سال بعد سول انتظامیہ جب ”بہت ہو چکا“ (Enough is Enough)کے نتیجہ پر پہنچی تو فوج کو طالبان کے خلاف بھر پور کارروائی کا حکم جاری کر دیا جب وزیر اعظم محمدنواز شریف نے عنان اقتدارسنبھالا تو انہوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا تمام سیاسی جماعتوں سے طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ حاصل کیا لیکن ساڑھے چارماہ بعدحکومت طالبان سے مذاکرات ختم کرکے ”فوجی آپریشن “ کا آپشن استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی موجودہ حکومت کے بعض رہنماء طالبان سے مذاکرات کرنے کے حامی تھے لیکن بدلتی صورت حال میں وہ بھی مذاکرات کے آپشن سے دستبردار ہو گئے اگرچہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی روز ہی حکومت کی طرف سے فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کردیا تھا جب فوج نے ”ضرب عضب “ شروع کی تاہم وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اگلے روزپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں پالیسی بیان دے کر یہ بات واضح کر دی ہے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں حکومت اور فوج ایک ہی ”صفحہ“پر ہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پر اعتماد لہجے میں دونوں ایوانوں میں اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین فیصلے کا اعلان کیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے بارے میں اپنے دل میں ”نرم گوشہ“ رکھتے ہیں اس فیصلے تک پہنچنے میں انہیں کئی دریا عبور کرنے پڑے اپنے ساتھیوں کو منانا پڑا بالآخر حکومت اور فوج کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کے معاملہ پر ایک” صفحہ“ پر کھڑا کیا ان کی پارٹی میں ”عقاب صفت“ رہنما حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے تھے انہوں نے جہاں پارٹی کے ان رہنماؤں کو بھی فوجی آپریشن کی حمایت پر آمادہ کیا وہاں وہ فوجی آپریشن پر” سیاسی تنہائی “کا شکار نہیں ہوئے دو جماعتوں کے سوا تمام سیاسی جماعتیں ان کی پشت پر کھڑی ہیں پاکستان پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے طاقت کے استعمال آپشن استعمال کرنے کی حامی تھیں لیکن بدلتی صورت حال نے تحریک انصاف کو اپنے موقف پر ”یو ٹرن “ لینے پر مجبور کر دیا طالبان سے مذاکرات کے سب سے بڑے حامی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان علالت کے باعث ”خاموش“ ہیں ان تک میڈیا کی رسائی نہ ہونے کے باعث ان کے موقف کے بارے میں آگاہی نہیں ہو سکی وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ” دہشت گردی کے خلاف ” ضرب عضب“ کے نام سے شروع ہونے والا یہ آپریشن انشاء اللہ اپنے حتمی مقصد کے حصول تک جاری رہے گا۔
عسکری کاروائی کی تمام تر نزاکتوں کا احساس رکھتے ہوئے آپریشن کی ہدایت جاری کی گئی ہے“ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ”ہمیں اِس راستے کی مشکلات اور نقصانات کا اندازہ ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی عوام کے دشمنوں نے اپنے طرز عمل سے ہمارے لئے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ پاکستان دہشت گردی کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ” دہشت گردی ہماری معیشت کو103ارب ڈالر کا گہرا زخم لگا چکی ہے۔
دہشت گردی نے پاکستان کے وقار اور ساکھ کو بْری طرح مجروح کر دیا ہے۔کل تک آپریشن اور مذاکرات کے بارے میں مختلف آراء ہو سکتی تھیں، اب یہ باب بند ہوجانا چاہیے“۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتراز احسن نے کہاکہ” وزیراعظم کے واضح اور دو ٹوک اعلان سے ثابت ہو گیا کہ حکومت گومگو کی صورت حال سے نکل آئی ہے۔ اس معرکے اور امتحان میں ہم صرف فوج نہیں بلکہ حکومت کے بھی ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے عوام بھی اس کی بھرپور تائید کر رہے ہیں۔
اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ان کی جماعت شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف حکومتی کارروائی کی حامی ہے۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میاں رضا ربانی نے کہا کہ ان کیمرہ سیشن بلا کر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے پارلیمنٹ میں شمالی وزیرستان میں جاری ” ضرب عضب “آپریشن کے حق میں قرارداد منظور کی گئی ہے قرار دا دمیں آخری فتح تک مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے قرار داد پر پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف ، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے نمائندوں نے دستخط کئے ہیں۔
جب کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام ف کے نمائندوں نے حکومتی اصرار کے با وجود قرارداد پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اس لحاظ سے پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ جس طرح انہیں آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ طور طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اسی طرح اب انہیں سیاسی جماعتوں کی طرف سے مجموعی طور فوجی آپریشن کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
اگرچہ جمعیت علما اسلام (ف) حکومت کا حصہ ہے لیکن وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے یہ بات قابل ذکر ہے ماضی میں امریکہ پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہے لیکن پاکستان بوجو ہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے گریز کرتا رہا ہے لیکن پچھلے دنوں امریکہ نے پاکستان سے افغانستان کے صدارتی انتخاب تک فوجی آپریشن موخر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اسے خدشہ تھا کہ آپریشن کے بعد طالبان کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے افغانستان کا صدارتی انتخاب کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
امر واقعہ ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے اگلے روز ہی فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سردست اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ فوجی آپریشن کب تک جاری رہے گا تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن جولائی 2014ء تک جاری رہے گا۔ البتہ ایک بات واضح ہے یہ آپریشن مطلوبہ نتائج کے حصول تک جاری رہے گا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بارے میں اس کے سیاسی مخالفین یہ بات کہتے تھکتے نہیں تھے کہ میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان طالبان کے بارے میں اپنے دل میں ”نرم “ گوشہ رکھنے کے باعث فوجی کارروائی کے حق میں نہیں چوہدری نثار علی خان کو تو طنزاً ”طالبان “ کا وزیر کہا جاتا تھا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو طالبان سے مذاکراتی عمل میں فوکل پرسن تھے نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی ہر ممکن کوششیں کیں لیکن دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے حکومت میں آپریشن کی مخالف قوتوں کو کمزور کر دیا ہے جس کے بعد سب ہی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ (Enough is Enough)۔
اب نتائج کی پروا کئے بغیر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان