بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت اسلام آباد میں ” سٹریٹ پاور“ جمع ہونے دے گی؟
عمران خان جن مطالبات کو منوانے کیلئے ” ملین مارچ کا ڈارمہ“ کرنا چاہتے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق الیکشن کمیشن اور نگران حکومت سے ہے۔حکومت کو حکومت کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہی ہوا ہے
نواز رضا :
بالآخر عمران خان نے بہاولپور کے جلسے میں 14 اگست2014ء کو اسلام آباد کی جانب ” لانگ مارچ“، جسے ” سونامی مارچ“ کا نام دیا ہے، کا اعلان کر دیا ہے۔ عمران خان نے چار انتخابی حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے مطالبے سے دستبردار ہو کر یوٹرن لیا ہے۔ انہوں نے 11 مئی 2013 کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو ایک ماہ کی ڈیڈلائن دید ی ہے۔
ان کا الزام ہے کہ قومی اسمبلی کے 90 حلقوں میں فہرستیں تبدیل کی گئیں اور 35 حلقوں میں جیتے ہوئے امیداواروں کو ہرایا گیا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں پنجاب لولیس کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے ملین مارچ کے موقع پر کارکنوں پر لاٹھی یا گولی چلائی تو وہ خود ایسے پولیس اہلکاروں کو پھانسی لگائیں گے۔ عمران خان نے چار مطالبات پیش کئے ہیں کہ 11 مئی 2013ء کو کس نے جلد فتح کی تقریر کروائی؟ الیکشن میں سابق چیف جسٹس کا کیا کر دار تھا؟ عام انتخابات میں نگران حکومت کا کیا کردار تھا؟ 35 پنکچر لگانیوالے کو چیئرمین پی سی بی کیوں لگایا گیا اور انتخابی فہرستوں کو عین وقت پر کیوں تبدیل کیا گیا؟ عمران خان نے دھمکی دی ہے کہ حکومت نے یہ مطالبات تسلیم نہ کئے تو تحریک انصاف کا سونامی 14 اگست کو اسلام آباد کا رُخ کرے گا۔

عمران خان جن مطالبات کو منوانے کیلئے ” ملین مارچ کا ڈارمہ“ کرنا چاہتے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق الیکشن کمیشن اور نگران حکومت سے ہے۔حکومت کو حکومت کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہی ہوا ہے کہ عمران خان اقتدار میں آنے کیلئے مُضطرب ہو گئے ہیں اور عجلت میں سیا سی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر لیا کیونکہ ملین مارچ کی ناکامی انکی سیاست کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
عمران خان ”گرینڈ الائنس“ کا حصہ بننے کی بجائے ”سولو فلائٹ“ پر یقین رکھتے ہیں اورانہوں نے شیخ رشید کو اپنے ساتھ شامل باجہ کے طور پر شامل کر رکھا ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اعلان کیا ہے کہ اب تک کسی سے ”گرینڈالائنس “ کے قیام پر بات نہیں کی بلکہ سانحہ لاہور پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔ سردست عمران خان اور طاہر القادری کے درمیان ملاقات نہیں ہوئی اور دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ شیخ رشید انجام دے رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ بالآخر عمران خان اور طاہر القادری سمیت نواز شریف حکومت مخالف عناصر ڈی چوک میں اکٹھی ہوں گے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان کی ” ڈوریاں“ جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں انہوں نے ان کو میدان میں اُتار دیا ہے۔ عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ انکے ” سونامی مارچ“ کو باآسانی اسلام آباد تک پہنچنے دیا جائے گا تو یہ انکی بہت بڑی سیاسی غلطی ہو گئی۔انکے پاس حکومت سے ٹکرانے والی سٹریٹ پاور ہے نہ ایسا کیڈر موجود ہے۔ وہ پہلی بار اس نوعیت کو تجربہ کر رہے ہیں۔
وفاقی اور پنجاب حکومت عمران خان کے سونامی کو شہروں میں ہی روک دیگی۔ اسلام آباد کے بعد فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور بہاور لپور کے جلسوں سے عمران خان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں لیکن حکومت کی اجازت سے جلسے کرنا آسان ہوتا ہے اور اجازت کے بغیر جلوس نکانے والوں کیخلاف ریاستی مشینری استعمال ہو گی۔ ماضی میں ڈاکٹر طاہر القادری بھی حکومت پنجاب کی آشیرباد سے ہزاروں مرد،خواتین اور بچوں کو اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
اس وقت پیپلز پارٹی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ڈی چوک کے سامنے انہیں اپنا ڈرامہ سٹیج کرنے کا موقع مل گیا تھا لیکن نواز شریف حکومت اس غلطی کو نہیں دہرائے گئی۔ نواز شریف نے 11مئی 2013 کے انتخابات کے بعد چاروں صوبوں میں عوام کے دیئے ہوئے مینڈیٹ کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کا احترام کیا ۔ خیبر پختونخواہ میں مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن نواز شریف نے تحریک انصاف کو واحد اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کا موقع دیا۔
انہوں نے تحریک انصاف میں ” بغاوت“ کا بھی فائدہ نہیں اُٹھایا لیکن اب خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جمعیت علماء اسلام (ف) ، (ن) لیگ ، قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے فاروڈ بلاک کو ”گرین سگنل “دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی تیار کردہ حکمت عملی کے تحت ایک گولی چلائے بغیر اسلام آباد کی بجائے لاہور ایئر پورٹ پر اُتار لیا گیا لیکن وہ لاہور پہنچنے کے بعد آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ مسلسل حکومت پر برس رہے ہیں اور دیمک زدہ سیاسی جماعتوں کو اپنے گرد اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

پچھلے کئی سالوں کے دوران ” نادیدہ قوتوں“ کے اشارے پر سیاسی جماعتیں حکومتیں گرانے کیلئے اسلام آباد کے عوام کو یرغمال بناتی رہی ہیں۔ طاہر القادری بھی اسی نوعیت کا ”لانگ مارچ“ کرچکے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ ہدف کی تکمیل کے بغیر ہی واپس لوٹنا پڑا تھا۔ اس بار چورہد ی شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی کے ایما پر طاہر القادری پاکستان واپس آئے ہیں اور صبح شام عوام کو انقلاب کی نوید سُناتے ہیں۔
ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ایسا انقلاب برپا کرنے کی باتیں کی جاری ہیں جس کے خدوخال سے کوئی آگاہ نہیں ۔اب تو ماشااللہ وہ مارشل لاء کا مقابلہ کرنے کے دعوئے بھی کرنے لگے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ” ڈاکٹر طاہر القادری شو“ کو ”غیر مسلح“ پولیس سے روک کر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پولیس سے ”فائر پاور“ واپس لے کر بھی حکومت اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھ سکتی ہے۔
طاہر القادری کا استقبال کرنیوالے ہجوم سے 100 سے زائد ” نہتے پولیس ملازمین“ نے اپنی ہڈیا توتڑوالیں لیکن عوامی تحریک کو کوئی” سیاسی شہید “ نہیں دیا۔ راولپنڈی اسلام آباد کی تاریخ میں کسی جلسہ میں پولیس ملازمین کی اتنی بڑی تعدا زخمی نہیں ہوئی۔ پولیس کی ” مظلومیت“ رنگ لائی اور عوامی تحریک کی قیادت کو ”لاشوں“ پر سیاست کرنے کا موقع نہ مل سکا۔
طاہر القادری کی وطن واپسی پر حکومت کے گرائے جانے کی پیش گوئیاں کی جار ہی تھیں بلکہ کچھ ” سیاسی پنڈت“ تو تاریخیں بھی دے رہے تھے لیکن طاہر القادری کی لاہور واپسی سے لاحق خطرات ٹل گئے ہیں۔ اگرچہ ایم کیو ایم ، تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے طاہرالقادری کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کی لیکن عملی چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی ہی انکی مددکو پہنچے ۔
شیخ رشید تو پولیس ناکے سے ہی واپس لوٹ گئے جبکہ تحریک انصاف نے طاہر القادری کا استقبال نہیں کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری پاکستان کے ” فتح اللہ گولن“ ہیں جنہوں نے تُرک حکومت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ طاہر القادری کے پاس عمران خان سے زیادہ ” سٹریٹ پاور “ ہے لیکن کیا حکومت دونوں کی ” سٹریٹ پاور“ اسلام آباد میں جمع ہونے دیگی یا دونوں مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کیلئے مل بیٹھیں گے؟ ان سوالات کا جواب آنیوالے دنوں میں ملے گا۔ اس وقت تک دھرنے کی سیاست سے نمٹنے کے بارے میں حکومتی پالیسی بھی واضح ہو جائے گئی۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-11

(0) ووٹ وصول ہوئے