بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت ۔۔۔انسانی المیہ کا موجب بنی
لمیہ یہ ہے کہ اس میں قدرت کی ستم ظریفی سے زیادہ اداروں کی انتظامی نا اہلی اور مجرمانہ غفلت کا ہاتھ ہے۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جاسکتا۔ آندھی طوفان زلزلے ہوں یا گرمی کی شدید لہر دنیا بھر میں لوگوں کو ا ن آفات کا سامنا ر ہتا ہے
غزالہ فصیح:
کراچی پرگرمی کا قہر ٹوٹا اور 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے‘ ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے۔ اس کا آغاز ہوتے ہی کراچی پر جو قیامت گزری ہے‘ اس پر جتنا ا فسوس کیا جائے کم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس میں قدرت کی ستم ظریفی سے زیادہ اداروں کی انتظامی نا اہلی اور مجرمانہ غفلت کا ہاتھ ہے۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جاسکتا۔
آندھی طوفان زلزلے ہوں یا گرمی کی شدید لہر دنیا بھر میں لوگوں کو ا ن آفات کا سامنا ر ہتا ہے‘ ان سے نقصان بھی ہوتا ہے لیکن انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ پاکستان کے کاسمو پولٹن شہر کی بدقسمتی دیکھئے کہ یہاں پارہ 44،45 ڈگری تک پہنچا اور دو دن میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کا باعث بن گیا۔ مردہ خانوں میں لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں رہی۔
اسپتال بتا رہے ہیں یہ ہلاکتیں لو لگنے یا گیسٹرو جیسی گرمی کی بیماریوں سے ہوئیں۔ ہلاک ہونے والے ا فراد میں بزرگ‘ نوجوان بچے سب شامل ہیں۔ سینکڑوں گھروں کے چراغ گل ہوگئے ہیں‘ موت برحقیقت ہے لیکن کیا ان لواحقین کی تکلیف کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے جن کے باپ‘ بھائی‘ بیٹے یا شوہر انکے سامنے ایڑیاں رگڑتے مرگئے‘ ان قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
اگر انکے لئے بروقت انتظامات کرلیئے جاتے۔ کراچی کے اسپتالوں میں جان کنی میں مبتلا مریضوں کے لئے بستر میسرنہیں تھے۔ لوہ سے تڑپتے مریضوں کو اسپتال کے تپتے فرش پر پڑے دیکھا گیا۔ 45 ڈگری سینٹی گریڈ میں مریضوں کو ائیرکنڈیشنڈ توکجا پنکھے تک میسرنہیں تھے‘ کیونکہ لوڈشیڈنگ اسپتال میں بھی ہوتی ہے‘ جہاں سرکاری اداروں کی سفاکی کا یہ عالم ہو کہ جاں بلب مریض کو پانی تک نہ ملے وہاں عوام کو ایدھی مرکز کے سرد خانوں میں برف کی سلوں کے نیچے ہی چین نصیب ہوگا ،مگر عوام کی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والوں کو گرمی سے مرنے والوں کے پیاروں کی اذیت کا احساس کیسے ہوگا؟ انکے لئے تواپنے ایوانوں میں ائیر کنڈیشن کے بغیر ایک گھنٹہ گزارنا بھی محال ہے۔
عوامی نمائندے جو ایک گھنٹے کیلئے گرمی کی شدت کا اندازہ لگانے کے لئے تیار نہیں دراصل وہ سب گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں‘ ان کی عملداری میں کراچی کے شہریوں پر پہلے روزے کو کراچی الیکٹرک نے قیامت ڈھادی تھی‘ شہر کے بیشتر علاقوں میں سحری کے وقت بجلی غائب ہوئی تو افطار کے وقت واپسی آئی‘ جیسے جیسے شہر کا درجہ حرارت بڑھتا گیا‘ کراچی الیکٹرک کی جانب سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا گیا۔
شہر کی سفید پوش اور لوئرمڈل کلاس آبادی اس کا نشانہ تھی‘ ہفتہ کا دن کراچی میں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا‘ جہاں پارہ 45 ڈگری سلیس تک جا پہنچا ‘ اتوار کو برقرار رہا‘ اور پیر کو 44 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا‘ شہرمیں ان تینوں دنوں کے بیشترعلاقوں میں 24 سے 48 گھنٹے تک بجلی غائب رہی۔ بیشتر علاقے ایک سحری سے دوسری سحری تک اندھیرے میں ڈوبے رہے‘ کراچی میں زیادہ آبادی فلیٹوں میں مقیم ہے‘ جن علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ ہوئی ان میں بیشتر جگہ 120 گز کے رقبے پر چھ چھ فلیٹس بنے ہوئے ہیں‘ ان تنگ و تاریک فلیٹس میں جہاں دن کو بھی لائٹیں جلا کر معمولات زندگی رواں رکھے جاتے ہیں‘ ہوا کا گزر ممکن نہیں ہوتا‘ آگ برساتے سورج میں دو دن تک بجلی بحال نہیں ہوگی تو لوگ گرمی سے تڑپ تڑپ کر جان دیں گے ،بوڑھے بیمار کہاں تک گرمی کا عذاب جھیلیں گے اسی طرح ہلاکتیں ہوں گی‘ جیسے کہ ہوئی ہیں‘ کے الیکٹرک کو لوگ کراچی کی صورتحال کا ذمہ دارٹھہرا رہے ہیں۔
وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا لوگوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار کے الیکٹرک ہے۔ سابق ملٹری صدرپرویزمشرف کے دور حکومت میں کراچی الیکٹرک کو پرائیویٹ کیا گیا تھا جس کے تحت کے ای ایس سی کا 25 فیصد حصہ وفاق کو دیا گیا اور 75 فیصد کے ای ایس سی کے پاس ہے‘۔ سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن نے کراچی کی صورتحال کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو ٹھہرایا ہے۔
انہوں نے کہا کے الیکٹرک کراچی میں پانی کے بحران کی بھی ذمہ دار ہے۔ پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی کے ای کو ذمہ دارٹھہرا رہے ہیں ‘ حقیقت یہ ہے کہکے الیکٹرک کراچی کے کئی علاقوں میں تین دن سے بند بجلی کے فالٹس کو درست کرنے میں ناکام رہی۔ شاہ فیصل کالونی کے علاقے انوار ابراہیم سوسائٹی‘ ابوالحسن اصفہانی روڈ‘ پیراڈائز کالجز اورتارا چنہ روڈ کے علاقوں میں دو دن سے بجلی بند ہے۔
سلطان آباد‘ سرسید ٹاؤن ‘ نارتھ ناظم آباد رضویہ‘ پوپاش نگر‘ اورنگی‘ لیاقت آباد‘ لانڈھی‘ بنارس‘ فیڈرل بی ایریا بلاک 2‘ 8‘ 10 ‘11‘ 12 ‘ 13 گلشن اقبال بلاک 5,3 شمسی سوسائٹی ملیر‘ نارتھ کراچی‘ نیو کراچی‘ شادمان ٹاؤن‘ بفرزون‘ ناگن چورنگی کے لوگوں نے بتایا کہ روزانہ 10 سے 18 گھنٹے بجلی بند کی جارہی ہے۔
بجلی کی طلب ا ور رسد کا فرق 6 سے 7 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ کراچی کے عوام کے ای کے لائسنس کی منسوخی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کے ای ایس سی کی پرائیوٹائزیشن کے بعد اسکی مینجمنٹ نے تانبے کے تاروں کو مہنگا ہونے کے باعث اس کی جگہ المونیم کی تاریں لگادیں جسکی وجہ سے آئے روز فالٹ پیدا ہوہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شدید گرم موسم میں ایلومینیم اور غیر معیاری میٹریل اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ شہر بھر میں ہزاروں کی تعداد میں تار ٹوٹنے اور جمپر لوز ہونے کی شکایات درج کرائی گئی ہیں۔
کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بحالی کے کام پر مامور نا تجریہ کار عملے اور اسکی تعداد میں کمی کے باعث کیبل فالٹس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اور معمولی فالٹس کو دور کرنے کے دورانئیے میں بھی کئی دن لگائے جارہے ہیں‘ کے الیکٹرک انتظامٹیہ نے احتجاج کی صورت میں متعلقہ علاقوں میں مرمت اور آپریشن بند کردئیے کی ہدایت کردی ہے اس کی وجہ سے بھی بجلی کی شکایات کے تدارک کے دورانئیے میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
کے الیکٹر ک انتظامیہ نے ایک دن بھی حکومت سے کئے گئے خریداری معاہدے کا پاس نہیں کیا، شارٹ سرکٹس پر ابھی تک قابو نہیں پایا گیا‘ ادارے نے حکومتی وسائل پر تسلط جمانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا‘ جس کے باعث شہر میں جگہ جگہ پرانی اور بوسیدہ پی ایم ٹیز اور ٹوٹے تاروں کی وجہ اکثر شارٹ سرکٹ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں‘ جن کی وجہ سے اکثر علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطًع ہوجاتی ہے۔
ایف آئی اے بلوں کی وصولی میں کے الیکٹرک کا ساتھ دے رہی ہے مگر بل وصول کرنے کے باوجود صارفین کو بجلی فراہم نہیں کی جارہی۔
اس صورتحال میں کے الیکٹرک کا موقف یہ ہے کہ طلب اور رسد میں فرق بڑھ جانے کی وجہ سے سسٹم کو مستقل فیڈرز کی ٹرپنگ‘ شارٹ سرکٹ اور تاریں ٹوٹ جانے کے مسائل درپیش ہیں۔ کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے ہنگامی اجلاس بلایا‘ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے اسپیشل ریپڈ ٹیمز تشکیل دی جارہی ہیں‘ اور ایک دن کے اندر صورتحال پرقابو پالیا جائے گا۔

کے ا ی انتظامیہ کا اس صورتحال پرتازہ موقف یہ ہے کہ شہر کے 1400 فیڈرز میں 1380 فیڈرز شیڈول کے مطابق کام کررہے ہیں اور شہرکے کسی بھی حصے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی جبکہ سحرو افطار کے اوقات میں 98 فیصد شہر کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی جاتی ہے۔ کے ای ایس سی کے اعلامیہ کے مطابق فالٹس کے باعث بجلی کی فراہمی میں آنے والے تعطل کو لوڈشیڈنگ نہیں سمجھنا چاہئے۔ کے الیکٹرک کے دفاتر 24 گھنٹے صارفین کی خدمت کے لئے کھلے رہتے ہیں۔
صوبے میں بدترین لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری کے ای سے لے کرصوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کوئی بھی قبول کرنے کو تیارنہیں‘ ایک دوسرے پر صورتحال کی ذمہ داری ڈالنے اور الزام تراشی کاعمل جاری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان