بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت ‘ فوج تعلقات میں بگاڑ کی سازش!
فوجی آمریت کے حامی سیاستدان لائق دشنام تو آمر قابل احترام کیوں ؟ بے بنیاد تبصروں اور بیانات سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے
اسرار بخاری :
کوئی فرد ہو، قبیلہ ہو، قوم ہو یا سیاسی و غیر سیاسی ادارہ اس سے وابستہ افراد کا طرز عمل ، مجموعی رویہ اور عمومی روش اس کے حوالے سے مثبت یا منفی تاثرات کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان بلاشبہ عسکری قوت سے نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد سے معرضِ وجود میں آیا تھا اور یہ تاریخ کی گواہی ہے کہ جب غالباََ بریگیڈئر یا میجر جنرل کی سطح کے آفیسر کی حیثیت سے ایون خان نے قائداعظم سے پاکستان میں فوج کے کردار کے حوالے سے سوال کیا تو بانی پاکستان نے دوٹوک جواب دیا تھا:
” جوان!پاک فوج کا کردار پاکستان کی سرحدوں کا دفاع ہے اور بس۔
“ لیکن 17اکتوبر 1958ء کو اس ایوب خان نے پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے پاک فوج کے کردار کو تبدیل کر کے قائد کے فرمان کی نفی کر دی۔ تاریخ کے اس سچ کو کہاں لے کر جائیں کہ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل نے پاکستان کے پہلے سول حکمران ( قائداعظم) کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ کیا تاریخ کے اس المیہ پر ماتم کیاجائے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ فوج کو متنازعہ بنانے کے ذمہ دار بھی دو فوجی آفیسر ( جنرل ایوب خان اور میجر جنرل سکندر مرزا) ہی تھے ان کی جانب سے مارشل لاء لگانے کے عمل نے فوک کے خلاف منفی ریمارکس کی راہ ہموار کی تاہم اس کے باوجود عوامی سطح پر بحیثیت مجموعی فوج کے عزت و وقار میں کمی نہیں آئی اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے تو فوج کی عزت و وقار کو بام عروج پر پہنچادیا۔
کاش ! اس وقت چودھری خلیق الزماں جیسے بڑے مسلم لیگی کنونشن لیگ کی شکل میں ”ایوب خانی“ مارشل لاء کو سیاسی بیساکھیاں فراہم نہ کرتے اور مزاہمتی کردار اپناتے اور جسٹس منیر جسیے سپریم کورٹ کے سربراہ عدالتی وقار کو مجروح نہ کرتے تو آج پاکستان کی تاریخ بہت مختلف ہوتی، جمہوری ادارے مستحکم ہو چکے ہوتے، سیاسی عمل میں پختگی آچکی ہوتی اور ہر اداراہ اپنے دائرہ اختیار میں اپنے تفویض کردہ فرائض کی ادائیگی تک محدود ہو چکا ہوتا لیکن بد قسمتی سے ایوب خان کے بعد تین فوجی جرنیلوں نے ہوس اقتدار کا ہو کر پاکستان کو کئی حوالوں سے جتنا نقصان پہنچایا اسے سمجھنے کے لئے کسی افلاطون کے دماغ کی ضرورت نہیں ہے۔
بے شک اگر سیاستدانوں کو ایک کھیپ اسے لئے لائقِ دشنام ہے کہ وہ فوجی آمروں کو سیاسی بیساکھیاں فراہم کرتے رہے تو اپنے حلف اور آئین سے بے وفائی کرنے والے جرنیلوں کے گلوں میں عزت و وقار کی مالائیں کیسے ڈلای جا سکتی ہے، بندوق کے ذریعہ عزت و اخترام حاصل نہیں کیا جا سکتا، زبان بندی کی جاسکتی ہے ، خوف دلا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے دو منفرد کردار حجاج بن یوسف عسکری قوت کے بل بوتے پر جبر اور استبداد کی فضا پیدا کر کے زبانوں پر پہرے بیٹھانے پر تو قادر ہو گیا تھا مگر کیا اپنے ہی مذہب اور ہم زبان لوگوں دلوں میں عزت و احترام کا گداز پیدا کر سکتا تھا جبکہ اس کے بھتیجے محمد بن قاسم کا خیر خواہی ، نرمی اور انصاف پر مبنی وریہ کا اعجاز تھا کہ اس کی جدائی ہر غیر مذہب اور غیر زبان کے حامل سندھ کے لوگ یوں گریہ وزاری کر رہے تھے جیسے کوئی بہت اپنا جدا ہو رہا ہو۔
دور کیوں جائیں لیفٹینیٹ جنرل(ر) اعظم خان نے اپنے محبت آمیز اور خیر سگالی کے جذبوں سے مشرقی پاکستان کے لوگوں کو اتنا گرویدہ بنا لیاتو وہ لوگ ان راستوں کو روکنے کے لئے لاشوں کی طرح لیٹ گئے تھے جن راستوں سے وہ ڈھاکہ چھوڑ کر جا رہے تھے۔ چنانچہ ثابت ہوا عزت واحترام کی فصل دلوں میں کاشت کی جاسکتی ہے محبت اور خیر خواہی جذبوں سے نہ کر بندوق یا تلوار سے۔

پاک فوج کے حوالے سے ایک بات بڑے تو اتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ پاک فوج کے جوان اپنے چیفس کی عزت و وقار کے حوالے سے بہت حساس ہیں اور وہ ان کی توہین برداشت نہیں کر سکتے بالکل یہ ان کے جذبات ہیں یہ ان کا حق ہے لیکن زندگی کے حقائق پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ جب 10اگست1980ء کو جنرل یحییٰ خان اس دنیا سے رخصت ہوا تو پورے ملک میں وہ کون سی آنکھ تھی اس صدمہ سے نم ہوئی ہو اسے قومی پرچم میں لپیٹ کردفن کیا گیا۔
اس کی قبر کو رائفلوں کی سلامی دی گئی۔ فوج کے اس عمل نے اسے پورے ملک میں کتنا محبوب و معزز بنا دیا تھا۔؟ گیارہ سال ملک کے سیاہ سفید کا مالک رہنے والا جنرل یحییٰ خان نے آخری ایام اپنے گاوٴں” ریحانہ“ میں کس تنہائی میں گزراے اور اس کے جنازے کو کتنے لوگوں نے کندھا دیا۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت کے ردعمل میں جنرل ضیاء الحق کی قبر پر جمع ہونے والا ہجوم کہاں گم ہو گیا۔
بازو چڑھا کر مکے لہرانے والا جنرل پرویز مشرف عوامی سطح پر کتنا عزت مند ہے یہ تو وہ تاریخ ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں اس کے برعکس چند ماہ پہلے ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے لئے دلوں میں احترام کیوں ہے کیا یہ اہم سوال نہیں ہے کہ جنرل موسیٰ خان، جنرل عبدالحمید خان، جنرل عبدالوحید کا کڑ اور جنرل اسلم بیگ کے لئے کسی جانب سے سیاسی، حصافتی یا عوامی سطح پر منفی انداز کیوں اختیار نہیں کیا جاتا۔
ان پر بالواسطہ بلاواسطہ انگشت نمائی کیوں نہیں ہوتی ان کے اقدامات کے خلاف منفی تبصروں، جائزوں اور تجزیوں کو رواج کیوں نہیں ملا اس لیے کہ یہ بھی پاک فوج کے ہی سربراہ تھے۔ یہ چار فوجی ادوار میں فوج کا حصہ رہے تھے مگر ان کے منصبی نامہ اعمال میں براہ راست آئین شکنی کے داغ دھبے نہیں ہیں ان میں جو بقید حیات ہیں کہیں آتے جاتے ہیں تو انہیں نامناسب سلوک کا تجزیہ نہیں ہوتا بلکہ انہیں ہر سطح پر عزت واحترام ہی ملتا ہے اور یہی فوج کا حقیقی وقار ہے جبکہ آئین شکن فوجی سربراہ اپنے اعمال و افعال کے ذریعہ فوج کے وقار کومجروح کرنے کا باعث بنے ہے ان کی وجہ سے فوج کے خلاف منفی باتیں سامنے آتی ہیں ۔
میں نے اپنی آنکھوں سے فوج کے لئے پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات کا مشاہدہ کیا جب کوئی فوجی نوائے کسی علاقہ سے گزرتا تو لوگ دیدہ دل فرشِ راہ کرتے۔ فوجی گاڑیوں کی جانب سے محبت سے ہاتھ ہاتھ ہلا کر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے پھر میری آنکھوں میں یہ منظر کرچیاں بن کر آج بھی چبھن پیدا کر رہا ہے، ایف سی کالج کے نزدیک اچھرہ پل سے ایک فوجی کانوائے ٹھوکر نیاز بیگ کی جانب جا رہا تھا ایم پی (ملٹری پولیس) کے دو جوان سائیڈ سے آنے والی ٹریفک کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
ایک ویگن ڈرائیور اس طرح سامنے آیا کہ فوجی ٹرک کے جوان نے بمشکل بریک لگائی جس پر ویگن ڈرائیور نے بہت بدتمیزی سے کھڑکی سے سر نکال کر فوجی ڈرائیور سے کہا ”اوئے تنیوں نظر نئی آریا“ اس منظر نے مجھے بے چین کر دیا جس کا ذکر پریس کلب آکر حسن برجیں مرحوم سے کیا تو انہوں نے کہا تم کیوں پریشان ہوتے ہو جب انہیں خود اپنی عزت کا خیال نہیں ہے یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا اور لال مسجد کے خلاف آپریشن نے اس کے حوالے سے ملک میں ناپسندیدگی کی فضا پیدا کر رکھی تھی۔

جہاں تک حالیہ دنوں میں بعض وفاقی وزراء کے عاقبت نااندیش بیانات اور ان سے بڑھ کر طالبان سے مزاکرات کے مخالف عناصر کی جانب سے فوج اور موجودہ حکومت کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششوں کا تعلق ہے ان کاجائزہ پیپلز پارٹی ، اے این پی اور ایم کیو ایم کے رہنماوٴں کے بیانات اور ان کے ساتھ فکری، نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے تجزیہ نگاروں ، کالم نویسوں کی تحریروں اور اینکرپرسنز کے پروگراموں کے خدوخال کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔
اس فضا میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بیان کم از کم میرے نزدیک خلاف توقع نہیں ہے بلکہ یہ ” بڑی دیر کی آتے آتے“ والا معاملہ ہے جنرل پرویز مشرف کے کیس کی آڑ میں جس طرح فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ ہی نہیں کیا جا رہا تھا کہ بلکہ یہ فیصلے کئے جا رہے تھے کہ فوج کیاکرے اور اپنی خواہشات پر مبنی یہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ فوج موجودہ نظام کو تلپٹ کر دے گئی اگر جنرل پرویز مشرف کو سزا دی گئی، خاص طورپر جنرل پرویز مشرف کے وکلا اور بالخصوص احمدرضا قصوری کے بیانات آن ریکارڈ ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوج نے ہر صورت جنرل پرویز مشر ف بچانے کا تہیہ کر رکھا ہے خواہ حکومت کا تختہ اُلٹنا پڑے اور چاہے عدلیہ پر شب خون مارنا پڑے۔
امریکہ، برطانیہ، بھارت سمیت دنیا کے کسی ملک میں فوج کو بالواسطہ بلاواسطہ نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ جب ائیر کنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھ کر اُلٹے سیدھے تجزیے کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس سے پوری دنیا میں فوج رسوا ہو گئی اور اس طرح فوجیوں کے مورال پر کیا اثر پڑے گا۔ یادشِ بخیر کئی سال پہلے اس عاجز سمیت چند رپرٹروں کی ڈی آئی جی سطح کے ایک پولیس آفیسر سے لوگوں کی کی جانب سے شکایات پر پولیس ملازمین کے خلاف فوری کارروائی نہ ہونے پر بات ہو رہی تھی انہوں نے کہا جس کے خلاف شکایات ہوں اس کی سرزنش ضرور کی جاتی ہے مگر کاروائی اس لئے نہیں کی جاتی کہ اس سے فورس کا مورال ڈاوٴن ہوسکتا ہے۔
سوال پیداہوتا ہے اگر پولیس جیسی فورس جو بدقسمتی سے بدنام ترین فورس ہے تاہم مستثنیات سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس کے مورال کو بلند رکھنا ضرروی سمجھا جاتا ہے ‘ تو کیا فوج جو ملک و ملت کی سلامتی کاذمہ دار ادارہ ہے اس کے وابستگان کے مورال کو بلندرکھنا بھی زیادہ ضروری وناگزیر نہیں ہے؟ لوگ جب اپنے گھروں میں چین کی نیند سو رہے ہوتے ہیں یہ فوجی ہیں جو پنچاب کے سرحدی میدانوں میں، سندھ کے ریگستانوں میں، خیبر پی کے کے سنگاخ پہاڑوں میں، بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیوں میں ، سیاچن کی چالیس منفی سینٹی گریڈ سے بھی کم ہر شے منجمد کر دینے والے برف زاروں میں ماد روطن کی حفاظت کیلئے سینہ سپر ہوتے ہیں، موت ہر لمحے جن کے سروں پر رقصاں رہتی ہے۔
بے شک انہیں تنخواہ ملتی ہے،درست مراعات بھی ملتی ہیں مگر محض تنخواہ اور مراعات جان دینے کاجذبہ پیدا نہیں کرتے یہ اپنے عوام سے محبت اور وطن کی ہر صورت حفاظت کے عزم پر مبنی جذبہ ہے کہ وہ جام شہادت نوش کرتے ہیں تو چہرے میں زندگی رائیگاں نہ جانے کا احساس مسکراہٹ بن کر پھیل جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین افسر سے سپاہی تک کسی شہید فوجی کی ماں، بیٹی ، بہن یا بیوی کو کسی آنکھ نے بین کرتے نہیں دیکھا اس لئے فوج کی رسوائی کا سامان کرنے والا بلا خوف تردید ملک کا بدخواہ اور دشمن کا آلہ کار ہے خواہ غیر ارادی اور لاشعور ی طور پر ہی ایسا کیا جائے۔

البتہ فوج کے وہ جرنیل اور اُن کے ساتھی جو ہوسِ اقتدار کا شکار ہوئے، جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق کے اداور میں ملک و قوم کیلئے بہتر اقدامات کا سراغ بھی لگایا جاسکتاہے مگر بحیثیت مجموعی ان ادوار کے نتائج بہت تباہ کن ثابت ہوئے۔ بد قسمتی سے ہر جرنیلی دور میں پاکستان کی جغرافیائی حدود سکڑی ہیں جنرل ایوب خان کے دورمیں میر جاواسمیت بلوچستان کا بڑا علاقہ ایران کے حوالے کر دیا گیا، جنرل یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا، جنرل ضاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کر لیا اور جنرل پر وزمشرف کے دور میں کارگل میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے اور اس وقت دہشت گردی کی جس لعنت شکا ر ہے یہ ہوس پرست جنرل پرویز مشرف کے کرتوُ توں کے باعث ہے۔
ان اداروں کی بدبختیوں میں سیاستدان بھی برابر کے ذمہ دار ہیں لیکن ان چار جارنیلوں اور ان کے چند درجن ساتھیوں کی وجہ سے پوری فوج کو رگید نابے حد مذموم اور ناقابل معافی حرکت ہے اور پھر ایسے وقت میں جب فوج قومی سلامتی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مشکل دور میں ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں فوج نے جمہوریت اور جمہوری نظام سے وفاداری اور طرفداری کا جو عملی مظاہرہ کیا تھا جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اس عمل میں کوئی چھول پیدا نہیں ہوا ہے۔
جنرل راحیل شریف نے ” فوج اپنے وقار ہر صورت تحفظ کرے گی “ جوبات کی ہے یہ صرف فوج کی اپنی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پوری پاکستانی قوم کا اولین فرض ہے ۔ تاہم پوری دنیا میں فوج کو عوام سے دور رکھا جاتا ہے جس سے فوج کا رُعب اور دبدبہ قائم ہوتا ہے، چار فوجی ادوار نے اس کیفیت کو بہرحال کمزور کیا ہے جس کی بحالی فوج کے وقار کے ازخود تحفظ کی ضمانت ہوگی اور یہ بھی کم خوش آئند نہیں ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں فوج اور پاکستانی عوام کے مابین ذہنی اور قلبی قربتوں کے جس سفر کا آغاز ہواہے دعا کرنی چاہیے جنرل راحیل شریف کی قیاد ت میں مزید پیش قدمی سے ہمکنار ہو گا لیکن یہ بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ بگاڑ پیداکرنے والی قوتیں بی ہر آن اپنے داوٴ پر ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان