بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت آزاد کشمیر بجٹ کے حجم میں اضافے کیلئے کوشاں
وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیر خزانہ چودھری لطیف اکبر نے اسحاق ڈار اور احسن اقبال سے ملاقاتوں میں اپنی حکومت کی مالیاتی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے ترقیاتی بجٹ 10 ارب 50 کروڑ سے بڑھا کر 26 ارب کرنے کی تجویز دی تھی
سلیم پروانہ
پاکستان میں دھرنوں کی سیاست اور اس کے اثرات قبول کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مسائل کے حل کے لئے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کی مداخلت کے باعث دھرنا منسوخ کر دیا گیا۔ اس دوران وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے ایک ملاقات میں فنڈز کی فراہمی کیلئے ہر ممکن یقین دھانی بھی کرائی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیر خزانہ چودھری لطیف اکبر نے اسحاق ڈار اور احسن اقبال سے ملاقاتوں میں اپنی حکومت کی مالیاتی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے ترقیاتی بجٹ 10 ارب 50 کروڑ سے بڑھا کر 26 ارب کرنے کی تجویز دی تھی۔ جس کو مکمل پذیرائی ملنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت اس ایشو کو اب عام انتخابات سے قبل سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مگر پھر بھی ایسے تیر نشانے پر لگتے دکھائی نہیں دیتے۔ آزاد کشمیر میں محکمہ مالیات بجٹ مرتب کر رہا تھا جس کیلئے ضروری تھا کہ بجٹ خسارہ کم کیا جائے اور غیر ترقیاتی اخراجات ختم کر کے زیادہ سے زیادہ منصوبہ جات رکھے جائیں۔ جس سے آمدن میں اضافہ ہو اور خطہ کے عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں۔ کیا آزاد کشمیر کا بجٹ عوام دوست ثابت کرنے میں حکومت کامیاب ہوگی یہ سوال سیاسی و عوامی حلقوں میں ان دنوں زیر بحث ہے۔
دوسری جانب بجٹ کے استعمال کو درست بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے یہ عندیہ تو دیا ہے کہ عوامی مفاد کے محکمہ جات کے بجٹ میں اضافہ کریں گے رواں ماہ میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔
آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے وکٹیں گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ وادی نیلم سے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے 35 سال منسلک رہ کر کئی مرتبہ وزارت کے عہدہ پر فائز رہنے والے سردار گل خندی اور پی پی پی آزاد کشمیر کے رہنما و صدر آزاد کشمیر کے بھتیجے سردار مقصود زمان پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں شامل ہوگئے ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات پی ٹی آئی میں شامل ہو رہی ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی عوام کی امیدوں کا مرکز ہے۔ آزاد کشمیر سے کرپٹ کلچر کا خاتمہ کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سینئر سیاست دان پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کن ترجیحات کی بنیاد پر حقیقی تبدیلی لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں؟
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے راولا کوٹ میں بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صلاح الدین کی جانب بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں گے۔
نریندر مو دی کو گرفتار کرنے والے کو ایک کھرب روپے انعام دینے کا بھی انہوں نے اعلان کیا اور حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ابہام سے پاک کشمیر پالیسی اختیار کرے۔ ادھر قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان صدر پاکستان مسلم لیگ آزاد کشمیر نے یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو بتا دیا ہے کہ غلام بنکر نہیں رہیں گے، آزاد کشمیر میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی بدبو دار لاشیں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ یوتھ ڈویڑن ساتھ دے تو ایکٹ 74 میں ترمیم لا سکتے ہیں۔ اس مجوزہ آئینی ترمیم کے لئے قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات کے باوجود انہیں مشترکہ ایوان میں پیش کرنے میں آخر رکاوٹ کیا ہے۔ جن کے پاس ترمیم کرنے کا اختیار ہے وہ کس لئے اپیل کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آفیسرز ایسوسی ایشن نے خطہ میں گڈ گورننس کے قیام نے آئین کے مطابق رولز کی بالادستی، ٹائم ٹیبل دینے اور سیکرٹری کے عہدہ کے لئے رولز مرتب کرنے سمیت دیگر مطالبات کی پذیرائی کے لئے گڈ گورننس مارچ کا انعقادکیا ہے۔
جس میں حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران آفیسرز روزانہ ایک گھنٹہ قلم چھوڑ ہڑتال روزانہ کی بنیاد پر کریں گے۔ غیر جدیدہ تنظیموں نے بھی اپنے مطالبات پورا کرنے کا مطالبہ کر ر کھا ہے۔
چند روز قبل وزیراعظم نے سیکرٹریوں کو ناشتہ پر مدعو کیا تھا جس میں سینئر مشیر چودھری ریاض اور سابق سپیکر چودھری انوارالحق بھی مدعو تھے۔
ایک احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے سیکرٹری محمد اکرم نے کہا تھا کہ سیکرٹری وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہیں مشیران کے سامنے نہیں، مشیران وزیراعظم کو مشورہ دے سکتے ہیں ،سیکرٹریوں کو نہیں لہٰذا رولز کے خلاف کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے۔ سیکرٹری نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ تبادلے رشوت کے عوض کئے جاتے ہیں ہم رشوت لیتے ہی نہیں دیں کیوں؟ ملازمین کا احتجاج اور کئی سیکرٹریوں کے موقف کے بعد آزاد کشمیر کی حکومت اور ان کے کلچر کا چہرہ سامنے آگیا ہے۔ کئی شخصیات کا موقف ہے کہ وزیراعظم کو آزاد اور بااختیار بھی کیا جائے۔ پس پردہ حکومت چلانے سے آزاد کشمیر کا سرکاری اور دفتری نظام تباہ ہوگیا ہے۔ سخت ترین عوامی اور سرکاری ردعمل سے قبل اصلاح و احوال ناگزیر ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-06

(0) ووٹ وصول ہوئے