بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گلگت میں طالبہ کے ساتھ زیادتی
بعض حلقوں نے گلگت کے اس واقعے کو سانحہ قصور کے بعد دوسرا بڑا جنسی واقعہ قرار دیا۔ لگتا ہے میڈیا کے بعض عناصر گلگت واقعہ کو اچھال کر قصور میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز واقعات کے اثرات کو کم کرکے با اثر ملزمان کو بچانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں
اقبال عاصی:
گلگت بلتستان کے معاشرتی ماحول میں خواتین کی عزت و احترام پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کبھار ایسے واقعات رونما ہو تے ہیں جو پورے خطے میں ہلچل مچا دیتے ہیں بلکہ میڈیا کے طفیل ملک بھر میں ان اچھے یا برے واقعات کی بازگشت جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔بعض اوقات میڈیا ریٹنگ کی چکر میں واقعے کو کچھ سے کچھ بناتی ہے جس کی وجہ سے کسی واقعے سے متاثرہ خاندان کی رسوائی میں مزید اضا فہ ہوجاتا ہے بلکہ علاقے کی روایات پر بھی حرف آجاتا ہے۔
میڈیا کی غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی تازہ مثال گزشتہ ہفتے میں دیکھنے میں آئی جس میں تین افراد کی خاتون کے ساتھ زیادتی کا زکر تے ہوئے ملزمان کے قبضے سے تیس (30)خواتین کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز ملنے کا انکشاف کیا گیاتھا۔ بعض حلقوں نے گلگت کے اس واقعے کو سانحہ قصور کے بعد دوسرا بڑا جنسی واقعہ قرار دیا۔ لگتا ہے میڈیا کے بعض عناصر گلگت واقعہ کو اچھال کر قصور میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز واقعات کے اثرات کو کم کرکے با اثر ملزمان کو بچانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔
گلگت میں درندگی کا نشانہ بننے والی کوئی خاتون نہیں بلکہ بائیس برس کی نو جوان دوشیزہ ہے جو مقا می کالج میں بی اے کی طالبہ ہے۔ ذرائع کے مطابق زع نامی طالبہ کے ریپ کیس کے مبینہ مرکزی ملزم عدنان کے ساتھ موبائل فون کے ذریعے تعلقات تھے اور ملزم نے زع کے گھر شادی کے لئے رشتہ بھی بھیجا تھا جسے لڑکی کے والدین نے مسترد کر دیا تھا جس کا مبینہ ملزم کو بڑا رنج تھا لیکن ملزم نے رشتہ مسترد ہونے کے باوجود فون پر رابطہ بحال رکھا اور موقع ملتے ہی اپنے سگے بھائی اور ایک دوسرے رشتہ دار کے ساتھ مل کر لڑکی کو اسلحہ کی نوک پر ہوس کا نشانہ بنا لیا بلکہ بعد میں تصاویر اور ویڈیوز کی موجودگی کا جھانسہ دیکر لڑکی کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور یہی کوشش ملزمان کی درندگی کو سامنے لانے کا سبب بنی ورنہ اپنی عصمت تار تار ہونے کے باوجود متاثرہ بچی خاندان کے بدنامی کے ڈر سے چپ سادھے بیٹھی تھی لیکن اس گھناوٴنی واردات کے چوتھے روز ملزمان نے فون کال کے زریعے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو لڑکی نے گھر والوں کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم سے آگاہ کردیا اور بات پولیس تک پہنچ گئی۔
گلگت کے جوٹیال تھانے میں واردات کے چوتھے روز ریپ کیس کی رپورٹ درج کرنے کے بعد پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم عدنان کے سگے بھائی زوالفقار اور آصف نامی شخص کو گرفتار کرلیا ہے لیکن مرکزی ملزم عدنان واردات کے بعد سے غائب بتا یا جاتا ہے جسے پولیس تندہی سے تلاش کر رہی ہے۔نوائے وقت کو پولیس زرائع نے بتایا کہ لڑکی کو چھبیس جولائی کو مبینہ ملزمان نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور واقعے کی رپورٹ ملزمان کی طرف سے لڑکی کو بلیک میل کرنے کی کوشش پر واقعہ کے چار روز بعد انتیس جولا ئی کو درج کرائی گئی اور رپورٹ در ج ہوتے ہی پولیس حرکت میں آگئی اور دد ملزما ن کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ روپوش مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ملزمان کے قبضے سے تیس خواتین کی ریپ ویڈیو ملنے کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں کو پولیس ذرائع نے مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے کسی قسم کی تصاویر یا ویڈیو تاحال برآمد نہیں ہوئی ہے البتہ روپوش مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد اس طرح کی کوئی چیز یا ثبوت سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا۔
تین جنسی درندوں کی وحشت کا نشانہ بننے والی طالبہ کے خاندان کے اہم شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مبینہ ملزمان کے رشتہ دار لڑکی کے گھر والوں کو مسلسل دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ پولیس کیس واپس لینے کیلئے سخت دباوٴ ڈال رہے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ خاندان کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
ادھر وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بھی طالبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا سختی کے ساتھ نو ٹس لیتے ہوئے ریپ کیس کی تفصیلات طلب کرلی ہے۔وزیر اعلی نے کہا ہے کہ اگر طالبہ کے ساتھ واقعی زیادتی کی گئی ہے تو ملزمان کو قانون کے تحت کیفر کردار کو پہنچا یا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی صوبائی وزیر ترقی نسواں و امور نوجوانان محتر مہ ثوبیہ مقدم نے کالج کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کیس کو دھشت گردی ایکٹ کے تحت چلانے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث درندہ صفت عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے گا اور صوبائی حکومت متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو ہر ممکن انصاف فراہم کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-20

(0) ووٹ وصول ہوئے