بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غریب ملک، امیر حکمران
ملک کی بجائے حکمران اپنے خاندان کو مضبوط بنا رہے ہیں۔۔۔۔پاکستان کے پرانے تجارتی گروپ آدم جی، سہگل،حبیب، ہاشوانی، منوں، دیوان، داوٴد، ہارون، بھوانی، یوسف بردار زاور گل احمد، شریف گروپ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں
قیوم نظامی :
میاں نواز شریف 1990 میں پاکستان کے پہلے تاجر وزیراعظم منتخب ہوئے ۔ شریف خاندان نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل کو مشاورت کیلئے رائے ونڈ میں ڈنر پر بلایا۔ حمید گل نے میاں شریف (مرحوم ) کو مشورہ کیا کہ باری تعالیٰ نے آپ کے خاندان کو عزت دی ہے اور آپ کے بیٹے کو سب سے بڑے منصب سے نوازا ہے ۔ آپ اعلان کریں کہ جب تک میاں نواز شریف وزیراعظم ہیں، شریف خاندان کاروبار نہیں کرے گا۔
میاں شریف (مرحوم) کہنے لگے ”جنرل صاحب اب تو کاروبار کا وقت آیا ہے اور آپ کاروبار سے روک رہے ہیں“ ۔
شریف خاندان نے اسلامی اور جمہوری روایات کے برعکس حکومت اور تجارت کو ایک کر دیا ۔ سیاسی طاقت کی وجہ سے شریف خاندان کے اثاثے حیران کن حد تک بڑھ گئے۔ پاکستان کے پرانے تجارتی گروپ آدم جی ، سہگل ،حبیب ، ہاشوانی، منوں ، دیوان ، داوٴد ، ہارون ، بھوانی، یوسف بردار زاور گل احمد ، شریف گروپ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
شریف خاندان کی سٹیل ، شوگر، ایگری فارم، پولٹری فارم، ڈیری فارم، ٹرانسپورٹ اور بورڈ کے بزنس پر اجارہ داری ہے۔ جب بھی شریف خاندان اقتدار میں آتا ہے میٹرو اور موٹرویز کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے کیونکہ اس سے لوہے کے بزنس کو فروغ ملتا ہے ۔ پولٹری کے بزنس پر حمزہ شریف کی اجارہ داری ہے۔ مارکیٹ میں ہر روز حمزہ شریف کی کمپنی مرغیوں کا ریٹ نکالتی ہے۔

شریف خاندان کی اجارہ داری کی وجہ سے سینکڑوں افراد کے پولٹری فارم بند ہو چکے ہیں ۔ حکومت اور تجارت کے ادغام سے استحصال اور اتکاز کی بدترین صورتیں سامنے آتی ہیں حالانکہ پاکستان کا آئین استحصال اور ارتکاز کی اجازت نہیں دیتا مگر تاجر حکمران آئین سے انحراف کرتے ہیں۔میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ بنے تو پاکستان میں یہ بحث چلی کہ جاگیردار سے سرمایہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ وہ سرمایہ کاری کرتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں مگر یہ تصور درست ثابت نہیں ہوا۔
تاجر جب حکمران بنے تو وہ قومی دولت ملک سے باہر لے گئے اور پاکستان معاشی طورپر دیوالیہ ہو گیا۔
میاں نواز شریف کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان کے دس امیر ترین افراد میں شامل ہیں۔(1) ۔ میاں منشاء، (2) ۔ آصف علی زرداری، (3)۔ انور پرویز، (4) ۔شریف برادران، (5) ۔ ہاشوانی ، (6) ۔ ناصر سچن ،(7) ۔ عبدالرزاق یعقوب، (8)۔ رفیق حبیب، (9)۔
فاروق ،(10) عمران گروپ (یہ گروپ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا)۔
سوال یہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری اور شریف خاندان سیاست میں نہ ہوتے تو کیا اُن کا شمار امیر ترین افراد میں ہو سکتا تھا۔ شریف خاندان نے حکومتی طاقت کو مختلف طریقوں سے استعمال کر کے مالی فوائد حاصل کئے۔ زمینیں سستی لے کر ریاستی وسائل استعمال کر کے ان کو ڈویلپ کیا اوراربوں روپے کمائے۔
ایس آر او جاری کر کے مال کمایا۔ روپے کی قیمت گرانے سے پہلے ڈالر خریدلیے۔ بڑے تعمیراتی ٹھیکے بالواسطہ اپنی کمپنیوں کو جاری کر دئیے۔ جب کوئی محقق شریف خاندان کے عروج کی داستان لکھے گا تو بہت سے انکشافات سامنے آئیں گے۔بھٹو خاندان کا شمار پاکستان کے محب الوطن خاندان میں ہوتا ہے۔ بھٹو اور بینظیر کرپٹ نہیں تھے۔ دونو ں نے پاکستان کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
آصف علی زرداری نے بینظیر کو کہا کہ شریف خاندان دولت کی بنیاد پر پنجاب پر قابض ہو اہے اگر بھٹو خاندان دولت جمع کر لے تو شریف خاندان کا مقابلہ آسان ہو گا۔اس مشورے کے بعد آصف علی زرداری ”مسٹرٹین پرسنٹ “کے نام سے مشہور ہوئے ۔ آج ان کا شمار پاکستان کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے ۔
ایسی سیاست اور جمہوریت پاکستان کیلئے تباہ کن ہے جس میں خاندان امیر ہو جائیں اور عوام غربت کا شکار ہونے لگیں۔
عمران خان تاجر نہیں ہیں بلکہ عوامی خدمت میں یقین رکھنے والے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی عمران خان کی عوامی خدمت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔وہ وزیراعظم منتخب ہو گئے تو ان کے ذاتی اور تجارتی مفاد کا ریاست کے مفاد سے ٹکراو نہیں ہو گا اور ان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا۔
ملائشیا کے مہاتر محمد جب تیسری باروزیراعظم منتخب ہوے تو ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے ملائشیا کو ایشین ٹائیگر کیسے بنایا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوا تو میں نے سوچا کہ میں اپنے خاندان اور ملائشیا میں سے ایک کو خوشحال بنا سکتا ہوں۔میں نے ملائشیا کی تعمیر و ترقی کا فیصلہ کیا اوراس طرح ملائشیا ٹائیگر بن گیا۔ عمران خان نیک نیت حب الوطنی کے جذبے سے سرشار رہنما ہیں۔ ان کواگر عوام نے موقع دیا تو وہ پاکستان کے مہاتیر ثابت ہوں گے اور پاکستان کی سیاست تاجروں اور جاگیرداروں سے پاک ہو جائے گئی اور پھر اس کے بعد پاکستان پوری رفتار کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پرگامزن ہو جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-09

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان