بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جنرل راحیل کا نعرہ حق‘ بھارتی کانگرس بوکھلاہٹ کا شکار
بھارتی حکومت کی ایک سال میں دو طرفہ معاہدہ کی چوتھی مرتبہ وعدہ خلافی کشمیریوں کے خلاف مسلسل ظلم و ستم کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کی ازخود تردید
اسرار بخاری:
بھارت کی حکمران کانگرس پارٹی کی یہ دیریدہ دہنی خبث باطن تو ہے ہی مگر یہ بھارت سے دوسری کی پتنگیں بڑھانے والے مفاد پرستوں، کم عقلوں اور امن کی آشا کے راگ الاپنے والوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ بھی ہے۔ پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحی شریف نے یوم شہدا کے موقع پر خطاب میں دو ٹوک انداز میں بابائے قوم حضرت قائد اعظم کے اس فرمان کو دوہرایا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے“ جس پر کانگرس کے ترجمان راشد علوی نے دھمکی دی ہے کہ ”اگر پاکستان کشمیر کو اپنی شہہ رگ سمجھتا ہے تو اسے سمجھنا چائے ہم اس رگ کو کاٹنے کی قوت رکھتے ہیں بھارت کشمیر کا اٹوٹ انگ ہے اور رہے گا۔
“ یہ کانگرس پارٹی کا نہایت کھوکھلا دعویٰ ہے ۔ بھارت میں ماضی اور حال کی ہار حکومت نے اس ”اٹوٹ انگ“ سے جو سلوک کیا وہ از خود اٹوٹ انگ ہونے کی نفی ہے۔ لاکھوں کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ ہزاروں باعصمت خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سب کچھ آج بھی جاری ہ۔ بھارتی فوجی درندوں کے ہاتھوں کشمیری عوام کی جان، مال اور عزت ہر وقت بلکہ ہر لمحے خطرے میں ہے کیا کوئی اپنے اٹوٹ سے یہی سلوک کرتا ہے۔
65سال کی طویل مدت گزرنے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کشمیری عوام بھارت کو قبول نہیں کرسکے انہیں زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کیلئے بھارت کو 8لاکھ سے زائد فوج رکھ کر انہیں جبراََ دبانا پڑرہا ہے۔ بے شک آج کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے مگر ایک دن کشمیر بھارت کی غلامی سے آزاد ہوگا اس کے باوجود کہ ایک خاص میڈیا گروپ کچھ این جی اوز اور افراد اپنے اپنے مقاصد کیلئے اور پاکستان کی بعض حکومتیں اپنی مصلحتوں کا شکا ہر کر آزادی کشمیر کی راہ کھوٹی کرتی رہی ہیں اور کررہے ہیں۔
آزادی کشمیر کا سورج انشاء اللہ طلوع ہو کررہے گا بے بناہ کشمیری عوم کا بہنے والا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔
کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے والے بھارت نے اس جنتِ اراضی کو اپنی ظالمانہ کارروائیوں خے ذریعہ جنم زار بنا رکھا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوان کی شہادت کیخلاف جمعہ المبارک کو بھی مقبوضہ کشمیر میں غیر معمولی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کیخلاف زبردست نعرے لگائے ۔ اس دوران مکمل ہڑتال رہی جبکہ سرینگر میں کرفیو نافذ رہا۔ ادھر حریت پسند قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر بدستور گھروں میں نظر بند رہے۔ بڈگام میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس و مرچی کی شیلنگ، ہوائی فائرنگ اور پیلٹ فائرنگ کی جس سے 16افراد زخمی ہوگئے۔
کشمیری مظاہرین نے کئی مقامات پر شدید پتھراؤ کیا جس سے 7اہلکار زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گرٹہ بل نوکدال میں بھارتی فائرنگ سے کشمیری نوجوان کی شہادت انتہائی دلخراش واقع اور بھارتی ظلم و جبر کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اب شمالی کشمیر کے عوام بھی 7مئی کے بھارتی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
کشمیریوں کے خون سے بھارت کے چنگل سے ضرور آزادی ملے گی۔ پر امن احتجاج کرنیوالوں پر فائرنگ بھارتی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے بھی اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں بدل دیا۔ بھارتی فوجی جب اور جس وقت چاہتے ہیں نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں کرفیو کا نفاذ ناقابل قبول ہے۔ بشیر بٹ نامی نوجوان کی شہادت کو فراموش نہیں کیا جائیگا۔تحریک کے موجودہ مرحلے پر امن حیث القوم ہمارے لئے بھرپور استقلال کا مظاہرہ کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل ووٹنگ کے بعد پائین شہر کے نواکدل علاقہ میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شہید 24سالہ نوجوان بشیر احمد بٹ کی شہادت کے خلاف متوقع احتجاج کے خدشے کے پیش نظر بھارتی حکام نے سختی سے دفعہ 144کا نفاذ کررکھاتھا اور اس دوران سڑکوں اور گلی کوچوں میں اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا اور اندرونی گلی کوچوں کو بھی خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا تھا۔
شہریوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد تھی جبکہ مکمل ہڑتال کی وجہ سے وادی بھر میں کاروباری زندگی مفلوج رہی۔ دکانیں، کاروباری ادارے اور سکول و دفاتر بند رہنے سے سڑکوں پر ہو کا عالم رہا جبکہ گاڑیوں کی آمدو رفت معطل رہی۔
بھارت کی پاکستان دشمنی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اس نے پاکستان کے دریاؤں کے پانی پر ناجائز طور پر قبضہ کر کے یعنی پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز بنا کر اور ان کا رخ بھارت علاقوں کی جانب موڑنے کیلئے آبی سرنگیں بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
پہلے ہی وہ بگہیار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم جیسے منصوبوں کے ذریعے بھارت پاکستانی دریاؤں کے پانی میں کمی کرچکا ہے۔اسی طرح پاکستان کو آبپاشی کیلئے پانی اور توانائی سے محروم کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم کے خلاف مسلسل سازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور بدقسمتی سے اس مذموم مقصد کیلئے مفاد پرست پاکستانیوں کو استعمال کرا جارہا ہے اور کالا باغ ڈیم مخالف مہم کیلئے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔
کالا باغ ڈیم کے بعد دوسرا بڑ امنصوبہ بھاشاڈیم کا ہے بھارت کی سازشوں میں اس میں بھی روڑے اٹکانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر کیلئے ورلڈ بینک سے فنڈز کی عدم فراہمی کو انہیں سازشوں کے پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے اور بے شک ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس حوالے سے سکت دھچکا لگا ہے کہ ورلڈ بنک نے اگلے پانچ سال 1915-19ء پاکستان کو 4500میگاواٹ کے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز دینے سے انکار کردیا ہے جس کی پاکستان کو اشد ترین ضرورت تھی جس سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا امکان ہے۔
ورلڈ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان کی آمداد کے لئے دو پیکج منظور کئے تھے ۔ ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر راشد بن مسعود نے میڈیا کو بریفنگ دی۔ پاکستان نے ورلڈ بنک، ایشائی ترقیاتی بنک سے 14بلین ڈالر کی رقم دیا مربھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے طلب کی تھی مگر ورلڈ بنک نے اس کی تعمیر کی منظوری نہیں دی، وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
ورلڈ بنک نے دیا مربھاشا ڈیم کی تعمیر کو بھارت سے این او سی لینے سے منسلک کردیا جو پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہے۔ راشد بن مسعود نے دیامیربھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے مدد کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ حکومت پاکستان کو بجلی اک ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار مکمل طور پرنیپرا کے سپرد کرنا چاہئے اور خود اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستان میں غربت میں کمی کا رجحان نظر آرہا ہے اور حکومت نے غربت میں کمی کیلئے متعد اقدامات کئے ہیں۔ عالمی بینک نے پاکستان کیلئے ایک بلین ڈالرکے معاشی پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس میں سے 600ملین ڈالر پاور سیکٹر کیلئے ہیں جبکہ 400ملین ڈالر گروتھ بڑھانے کے اقدامات کیلئے ہیں ۔ تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ ایک بلین ڈالر کا قرضہ رعایتی شرح سود کے تحت ہے۔
وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بنک کی طرف سے جاری ہونے والا قرضہ رایتی ہے۔ پاکستان کو یہ رقم آئندہ ہفتہ کے دوران مل جائے گی اور اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔ وزارت خزانہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کی ڈی پی سی نے پاکستان کے بجٹ کو سپورٹ کرنے کیلئے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی۔
پاکستانی کرنسی میں 100بلین روپے کے برابر یہ رقم ملکی قرض سے کم کی جائے گی۔ بجٹ کی مد میں اس سپورٹ سے حکومت مجموعی قرض میں 10فیصد بچائے گی جیسا کہ موجودہ قرض پر سود کی شرح 2.5فیصد ہے اس رقم کی وصولی کے بعد اس شرح سود کے دو فیصد پر لایا جائے گا اس طرح قرض پر سود کی مد میں 10فیصدد کی بچت ہوگی۔ وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بین کے بورڈ کا ایک اجلاس ہوا جس میں انہوں نے پاکستان کیلئے دو ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹس (ڈی پی سیز) کی منظوری دی جس میں ایک توانائی اور دوسری ریوینیوز سے متعلق ہے۔
ورلڈ بینک کے بورڈ نے مکمل اتفاق رائے سے ان پالیسیوں کی منظوری دی اور ان پالیسیوں کے خلاف کوئی ووٹ پڑا۔ یہ خالصتاََ رعایتی قرض ہے جو 30سال میں ادا کیا جائے گا جس میں 25سال معمول کا عرصہ اور 5سال گریس پیریڈ ہے۔ یہ قرض 25برس کے بع قابل ادائیگی ہوجائے گا۔ عالمی بینک نے پاکستان کیلئے پانچ سالہ کنٹری پارٹنز شپ سٹریٹیجی پیپر کی بھی منظوری دی جس کے تحت پاکستان 2014-19ء کے عرصہ میں 11ارب امیرکی ڈال حاصل کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منظور ی سے حاصل کردہ رقم حکومتی منشور کے چار نکات معیشت، انتہا پسندی کے خاتمہ، تعلیم اور توانائی پر خرچ کی جائیگی۔ ورلڈ بنک اعلامیہ ہمیں کہا گیا ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کیلئے پارٹنر شپ سٹریٹیجی تیار کرلی ہے۔ توانائی کے شعبے میں پالیسی اصلاحات اور اسرمایہ کاری کی جائے گی۔ اصلاحات کا مقصد لوڈ شیڈنگ میں کمی، سستی توانائی کا حصول اور نقصانات کم کرنا ہے۔
کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان کی مدد کی جائے گی۔ عالمی بنک غریب اضالع، خواتین، نوجوان، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی مدد کرے گا۔ راشد بن مسعود نے بتایا ہے پاورسیکٹر کیلئے 60کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے، چالیس کروڑ ڈالر پیداوار میں اضافے کیلئے دئیے جائیں گے۔
بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو سخت ناقابل اعتبار ہے جو کسی بھی وقت اپنے وعدوں اور کسی لمحے اپنے معاہدوں سے پھرسکتا ہے۔
اس کی وعدہ خلافی کا سنگین واقع کشمیری عوام کے حق میں استصواب رائے سے پھرجانا ہے۔ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کے سلسلے میں درگاہ اجمیر شریف جانے کیلئے 500 پاکستانیوں کو عین وقت پر ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا۔ نئی دہلی میں بھارتی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی زائرین کے ویزے سکیورٹی کے نقطہ نظر سے اور انکی بہبود کی خاطر منسوخ کئے گئے۔
اھر پاکستان نے 500عرس زائرین کو ویزے دینے سے انکار پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ اسلام آباد میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے انہیں پاکستانی حکومت کے موقف سے آگاہ کردیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے زائرین اجمیر شریف کو ویزے جاری کرنے سے بھارت کے انکار پر مایوسی اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کے ہاں زائرین کو ویزے 1974ء میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت جاری کئے جاتے ہیں تاہم بھارتی حکومت نے ایک سال کے دوران پاکستانی زائرین کو چوتھی مرتبہ ویزے دینے سے انکار کیا جو نہ صرف دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں اور عوام کے آپس کے رابطوں کی روح کے منافی بھی ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا اجمیر شریف کے زائرین کو ویزا نہ دینا قابل مذمت ہے ۔ دو ماہ پہلے اجمیر شریف کے زائرین کیلئے تمام دستاویزات اور کارروائی مکمل کرلی گئی تھی۔ بھارت کی جانب سے ویزا نہ جاری کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان آنے والے سکھ اور ہندو زائرین کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-08

(1) ووٹ وصول ہوئے