بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گیس کہاں چلی گئی؟
غلط پالیسیوں سے قدرتی گیس کا غیر ضروری استعمال کیا گیا۔۔۔۔۔آج سے آٹھ سال پہلے تک یہ صوتحال تھی کہ لوگ قدرتی گیس جلا کر متبادل روشنی بھی حاصل کرتے رہے۔ اسی دوران میں اس وقت کی حکومت کو خیال آیا
خالد نجیب خان :
جس طرح ہر انسان کوئی نہ کوئی امتیازی حیثیت ہوتی ہے، اُسی طرح ہر ملک کی ایک امتیازی حیثیت ہوتی ہے۔ پاکستان کی امتیازی حیثیت کسی زمانے میں کچھ اور ہوتی ہوگی مگر کزشتہ تیس پینتیس سال سے تو لوڈشیڈنگ ہی ہماری پہنچان ہے۔اسی لوڈشیڈنگ میں ایک نسل پیدا کر جوان ہو گئی اور ایک نسل جوانی سے بڑھاپے کو پہنچ گئی۔80 ء کی دھائی میں لوڈشیڈنگ کا لفظ پاکستانی عوام کیلئے بالکل نیا تھا اور ایسے لوگ تو اس سے بالکل ہی ناآشنا تھے جو لالٹین جلانے کیلئے بجلی جلایا کرتے تھے ۔
اُس دور میں ڈاکٹر نسخے کے مطابق صبح و شام مخصوص اوقات میں ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ بجلی بند ہونے پر لوگ گھروں میں لالٹین یا موم بتی جلا کر روشنی کا اہتمام کرلیتے تھے اور بچے اُس کی روشنی میں دیواروں پر سائے سے مختلف شکلیں بنا کر خوش ہوتے تھے۔ گویا لوڈشیڈنگ عوام کیلئے تکلیف دہ نہیں تھی، پھر اُنہیں یہ اُمید تھی کہ شاید یہ چند دنوں کی بات ہے ۔
بڑے شہروں میں اس وقت چولہوں میں قدرتی گیس بھی جلائی جاتی تھی۔سیانے لوگوں نے قدرتی گیس سے چلنے والے لیمپ بھی لگوائے تھے جسے وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران جلا لیتے۔عموماََ ان لیمپوں کی روشنی بجلی سے چلے والے بلب یا ٹیوب لائٹ کے برابر ہی ہوتی تھی۔ یوں اُنہیں لوڈشیڈنگ سے کوئی خاص فرق نہ پڑتا۔ رفتہ رفتہ قدرتی گیس چھوٹے شہروں میں بھی پہنچ گئی اور لوگوں کی لوڈشیڈنگ سے ہونے والی تکلیف کم ہونا شروع ہوگئی۔
اسی دوران لوڈشیڈنگ کا ایک توڑ پٹرول سے چلنے والے چھوٹے پاور جنریٹرز کی صورت میں ملا۔ پٹرول سے جنریٹرز چلانا قدرے مہنگا پڑتا تھا مگر اندھیروں سے محفوظ رہنے کیلئے یہ قیمت زیادہ نہیں تھی۔ بہت سے لوگوں نے اندھیروں سے محفوظ رہنے کیلئے یو پی ایس کا ستعمال کرنا شروع کر دیا مگر لوڈشیڈنگ سے نجات پھر بھی نہ ملی
آج سے آٹھ سال پہلے تک یہ صوتحال تھی کہ لوگ قدرتی گیس جلا کر متبادل روشنی بھی حاصل کرتے رہے۔
اسی دوران میں اس وقت کی حکومت کو خیال آیا کہ گاڑیاں سی این جی سے چلائی جائیں کیونکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوتا اور یہ پٹرول اور ڈیزل سے سستا ذریعہ بھی ہے۔ اُس دوران میں ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ اتنا بڑا تھا کہ آج کے امن وامان کے مسائل اُس کے سامنے بھی بونے تھے۔ اس مسئلے کی نگرانی وہ محکمہ کرتا تھا جس کے پہلے وزیر سابق صدر مملکت آصف علی زرداری تھے۔
اُن کی پالسیوں اور منصوبہ بندیوں سے ہی مشرف دورمیں سی این جی سے گاڑیاں چلنا شروع ہوئیں۔ اوپر سے بنکوں کے تعاون سے لوگوں کو قسطوں پر گاڑیاں ملنے لگیں۔ یوں تقریباََ ہر موٹرسائیکل چلانے والے ن سی این جی سے مزین چھوٹی گاڑی لے لی کیونکہ اُس کو چلانے پربھی اتنا ہی خرچہ آتا تھا لوگ خوش تھے کہ اُن کا معیار زندگی بڑھ گیا ہے مگر سیانے لوگ کہہ رہے تھے کہ قدرتی گیس کو ضائع کیا جا رہا ہے۔
سیانے کی بات چونکہ بعد میں سمجھ آتی ہے اسلئے یہ بھی بعد میں ہی سمجھ آئی۔ لوگ دھڑا دھڑا سی این جی والی گاڑیاں خرید کر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کوبھی سی این جی پر منتقل کر دیا۔ دھڑا دھڑا سی این جی پمپس لگنے لگے۔ لوڈشیڈنگ کے توڑ کیلئے پاور جنریٹرز بھی قدرتی گیس سے چلنے لگے۔ پھر صورتحال یہ ہوگئی کہ سی این جی کی گاڑیاں زیادہ ہو گئی اور سی این جی کم پڑ گئی۔
اسلئے ہفتہ میں دو روز سی این جی کی چھٹی کر دی گئی ۔ سی این جی سٹیشن مالکان چونکہ تگڑے تھے اسلئے عدالت میں چلے گے اور جیت بھی گئے تو حکومت کو انہیں بحال کرنا پڑا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے گھروں میں قدرتی گیس سے جلنے والے چولہے ٹھنڈے ہو گئے۔ لوگوں نے کمپریسر لگوائے مگر پائپ میں گیس ہو تو کمپریسر بھی کام کرتے۔ گھریلو خواتین سی این جی کو کوسنے لگیں کہ اُن کی وجہ سے نہیں اس مشکل کا سا منا کرنا پڑرہا ہے ۔
اس دوران میں ہی حکومت نے قدرتی گیس سے چلنے والی کئی صنعتوں کو بند کر دیا کہ گیس دستیاب نہیں ہے۔ یہ وہ صنعتیں ہیں جن پر ہماری معیشت کا دارومدار ہے ۔ یوریا کھاد جس کی تیاری ہی قدرتی گیس سے ہوتی ہے ملک بھر میں وافر ملتی تھی بلکہ اس کی ایکسپورٹ سے زرمبادلہ بھی کمایا جاتا تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ملکی ضرورت کیلئے بیرون ملک سے یوریا کھاد منگوانے پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ سی این جی گاڑیاں چلانے کا واحد مقصد پاکستانی صنعت کو بند کرنا تھا تو غلط نہ ہوگا کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں اور نئے ذخائر کہیں سے دریافت بھی نہیں ہو رہے بلکہ جہاں کہیں ذخائر دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہاں مختلف ذریعے سے اُن منصوبوں کو بند کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
کہیں بلاواسطہ بدامنی پیدا کر دی جاتی ہے توکہیں تکینکی عملے کوا غوا قتل کردیا جاتا ہے ۔ یہ خوفناک صورتحال کسی کو ترقیاتی کام نہ کرنے سے روکنے کیلے کافی ہے خصوصاََ جب کارکن بھی غیر ملکی ہوں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قدرتی گیس سے نہ تو پوری طرح لوگوں کے گھروں کے چولہے جل رہے ہیں نہ ٹرانسپورٹ کا پہیہ چل رہا ہے اور نہ ہی صنعت کا پہیہ چل رہا ہے۔

صوئی سدرن قدرتی گیس کمپنی کے ایم ڈی صاحب نے حال ہی میں ایک آڈر جاری کیا ہے کہ اگلے تین ماہ کے دوران میں صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کو گیس دستیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ عمل یقینا اسلئے کیا ہے کہ گھریلو صارفین کو گیس مل سکے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود بھی گھریلو صارفین کو گیس دستیاب نہیں ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کو بھی گیس اُسی پائپ لائن سے فراہم کی جاتی ہے۔
جہاں سے گھریلوصارفین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ صنعت اور سی این جی کو بند کرتے ہی گھریلو گیس بھی بند ہوگئی ہے۔ ایسے گھریلو صارفین کو اس سے پہلے رات گئے چند گھنٹوں کیلئے ہی سہی گیس مل جاتی تھی۔ خواتین رات کو اٹھ کر کھانا پکا کر دکھ دیتی تھیں اور بوقت ضرورت مائیکروویواوون میں گرم کر کے کھالیتی تھیں۔بہت سی خواتین تو گیس کی اس روٹین کے باعث تہجد گزار ہوگئیں۔
اس بات کا اجر اگر ہمارے پالیسی ساز لینا چاہیں توانہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔
جنرل پرویز مشرف صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے 9/11 کے فوراََ بعد امریکی دھمکی صرف اسلئے قبول کر لی تھی۔ کہ وہ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنا نہیں چاہتے تھے۔مشرف صاحب ابھی پاکستان میں ہی ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ توانائی کے حوالے سے ہماراملک کسی بھی طرح پتھر کے زمانے سے آگے نہیں ہے۔
لوگ کھانا پکانے کیلئے لکڑیاں اور کوئلہ جلا رہے ہیں ۔ آج سے تیس سال پہلے جو گھر بنائے گئے تھے اُن میں کسی نے بھی یہ گنجائش نہیں رکھی تھی اُن کے باورچی خانے میں لکڑی یا کوئلہ جلایا جائے گا۔ اب یہ لوگ پریشان ہیں کہ وہ کیا کریں کیونکہ اُنہیں مجبوراََ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے والا ایندھن جلانا پڑتا ہے۔ ان حالات میں اب وہ محکمہ نجانے کہاں چلا گیا ہے جس کو ماحول کی بڑی فکر تھی ۔اب تو اس محکمہ کا وزیر بھی کوئی نہیں ہے۔ زرداری صاحب اور ماضی کے دیگر ذمہ داران عوام کو یہ ضرور بتائیں کہ اُنہوں نے ایسے غلط فیصلے کبوں کئے اور اس کی تلافی کے لئے وہ کیا کر سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان