بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فوج میں ترقیوں اور تقرریوں کو دھرنوں سے زیادہ اہمیت ملی
اس خبر نے سیلاب کی تباہ کاریوں اور دھرنوں کی سیاست کو کم از کم دو روز تک پس منظر میں دھکیل دیا اور فوج کی میں نئی ترقیوں اور تقرریوں کا معاملہ ہر فورم گفتگو کا موضوع بنا رہا
سہیل عبدالناصر:
بائیس ستمبر کو پورا دن ٹیلیویژن کی سکرین پر اور اگلے روز اخبارات کے صفحات پر جس خبر کا قبضہ رہا وہ بری فوج کے چھ میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی اور ڈی جی آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری کا معاملہ تھا۔اس خبر نے سیلاب کی تباہ کاریوں اور دھرنوں کی سیاست کو کم از کم دو روز تک پس منظر میں دھکیل دیا اور فوج کی میں نئی ترقیوں اور تقرریوں کا معاملہ ہر فورم گفتگو کا موضوع بنا رہا۔
جرنیلوں کی سبکدوشی اور نئے افسران کی تعیناتی ہر اعتبار سے ایک معمول کا معاملہ ہے۔ بری فوج میں ہر سال کم از کم چار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوتے ہیں اور پانچ میجر جنرلز کی ترقی ہوتی ہے تو معمول کے اس ردوبدل میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ بری فوج میں ترقیاں اور تقرریاں اس دن کی سب سے بڑی خبر بن جاتی ہے۔معروف محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر عائشہ جلا ل کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب ملک کی پارلیمان اس بحث میں مصروف تھی کہ پاکستان کس کیمپ میں شمولیت اختیار کرے، امریکہ یا سوویت یونین ؟لیکن انگریز کمانڈروں کی سرکردگی میں کام کرنے والی فوج اپنا فیصلہ پہلے سے کر چکی تھی اور اس پارلیمانی بحث کے دران فوج بلوچستان میں آپریشن ستالن کے نام سے خفیہ مشقون میں مصروف تھی تاکہ ایران کے قوم پرست وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی صورت میں ضرورت پڑنے پر یہ فوج بھی مغربی اتحادی کی حثییت سے کارروائی میں حصہ لے سکے۔
وہ دن اور آج کا دن فوج کو ملکی سیاست اور اہم امور پر پالیسی اور فیصلہ سازی سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکا۔اسی لئے فوجی تقرریاں ،تبادلے اور ترقیاں اس روز کی سب سے بڑی خبر ہوتی ہے۔خیر قیام پاکستان کے بعد تو انگریز کمانڈر فوج کے اس وقت کے رحجانات کے ذمہ دار تھے لیکن بعد میں سیاست دانوں کی ملی بھگت،ایک دوسرے کی تانگ کھینچنے کی بری عادت اور سول حکومتون کی نالائقیوں نے فوجی مداخلت کے دروازے کھولے۔
حکیم لقمان سے منسوب قول ہے کہ لوہے کی کلہاڑی کے ساتھ لکڑ کا دستہ نہ لگا ہو تو کلہاڑی کبھی درخت نہ کاٹ سکے۔ دور کیوں جایئے،چوہدری شجاعت اور الطاف کو ہی دیکھ لیں ،الطاف حسین تو کبھی کبھار لیکن چوہدری شجاعت کی طرف سے فوج کو مداخلت کی دعوت ان کا روزانہ کا وظیفہ بن چکا ہے۔اسلام آباد کے دھرنوں میں بھی کبھی بین السطور اور کبھی کھلے عام فوجی مداخلت کی پیشگویئاں کی جاتی ہیں لیکن بھلا ہو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا جنہوں نے اپنی شہرت کے عین مطابق خالصتاً سپاہیانہ اور غیر سیاسی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مداخلت کرنے کی دعوتوں کو درکور اعتنا نہیں سمجھا۔

فوج میں حالیہ ترقیوں اور تقرریوں کو اسلام آباد میں جاری دھرنوں کی وجہ سے زیادہ اہمیت ملی لیکن بغور جائزہ لینے سے معلوم ہو گا کہ ترقیوں اور تقرریوں کے ان فیصلوں میں ملک کی داخلی سلامتی خصوصاً کراچی کی صورتحال کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ کراچی جو بلا شبہ ملک کا مالیاتی دارلخلافہ ہے ان دنوں بدترین بدامنی کا شکار ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری ان فیصلوں میں سب سے نمایاں ہے۔
اس منصب کیلئے ایسے افسر کا چناؤ کیا گیا ہے جو سندھ میں رینجرز کے سربراہ کے طور پر کراچی میں انسداد بدامنی کی اہم ذمہ دارایاں سرنجام دے چکے ہیں۔وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مقامی سیاسی عوامل کے علاوہ،کراچی میں بدامنی کی کم و بیش تمام وجوہات کے پیچھے بھارتی ہاتھ کارفرما ہے۔لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اب ڈی جی آئی ایس آئی کی حثییت سے کراچی کی بدامنی کی بیرونی وجوہات کے تدارک کیلئے موزوں ترین افسر ثابت ہوں گے۔
کراچی کے نئے کور کمانڈر کی تقرری بھی اس حوالہ سے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ نئے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اس وقت آئی ایس آئی کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ ہیں۔ ان کا یہ گراں قدر تجربہ،کراچی میں قیام امن اور دہشت گرد گروپوں کے انسداد کیلئے بروئے کار لایا جائے گا۔امید کی جاتی ہے کہ اب کراچی کور اور آئی ایس آئی کے درمیان زیادہ بہتر روابط اور معاملات کی تفہیم کے باعث کراچی کے ھالات بہتر ہو سکتے ہی۔
ان دو تقرریوں کے علاوہ پشاور ،منگلا اور گوجرانوالہ کے بھی نئے کور کمانڈر مقرر کئے گئے ہیں۔ منگلا نہ صرف بری فوج کی سٹرائیک کور ہے بلکہ بری فوج کی سنٹرل کمانڈ کی تشکیل مکمل ہونے کے بعد منگلا اس کمانڈ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔اب کی بار پہلے سے مقرر کور کمانڈروں کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ صرف وہاں نئی تعیناتی کی گئی جہاں کے کور کمانڈرز سبکدوش ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا اور رائے عامہ کے جائزوں میں ہمیشہ نئے آرمی چیف کو وقت کا ارسطو اور ڈی جی آئی ایس آئی کو افلاطون ثانی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ مدت گزرنے کے بعد نجی محفلوں میں سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں ،سول ملٹری تعلقات کے رخنے نمایاں ہوتے ہیں اور میڈیا میں بھی اس پر تبصرے ہوتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل تو اس منصب پر دس ماہ گزارنے اور بطور خاص دھرنوں کی سیاست کے مشاہدات کے بعد داخلی سیاست کی پیدا کردہ مشکلات کو بخوبی سمجھ چکے ہیں لیکن لیفٹیننٹ جنرل رضواں اختر کو اس خارزار سے ابھی گزرنا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کا عہد ختم ہونے کے بعد آنے والے آئی ایس آئی کے دونوں سربراہان کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) احمد شجاع پاشا کے دور میں دو مئی اور ریمنڈ ڈیوس جیسے کا واقعات رونما ہوئے۔ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کو میڈیا گروپ اور اب دھرنوں کی سیاست کے حوالہ سے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ اپنے ادارے کے غیر پیشہ ورانہ حوالے،بالخصوص سیاسی تشخص کو ختم کر دیں۔ ادارے کو تنازعات سے الگ کریں۔اور بڑہتے ہوئے پیشہ ورانہ چیلنجوں سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کریں۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ،لیفٹیننٹ جنرل غیور محمود، لیفٹیننٹ جنرل نزیر احمد بٹ ، لیفٹیننٹ جنرل نوید مختاراور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان ،یہ سب وہ افسران ہیں جنہوں نے اپنے کیرئر کے دوران اہم کمانڈ،سٹاف، تربیتی اور انتیلیجنس عہدوں پر کام کیا ہے۔
کہا جا سکتا ہے اب جنرل راحیل شریف نے اپنی ٹیم بنا لی ہے اور بطورآرمی چیف ان کے ذھن میں جو پیشہ ورانہ اہداف ہیں ان کے حصول کیلئے اب وہ زیادہ تیز فتاری کے ساتھ پیشرفت کر سکیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان