بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فریقین پر اہم فریضہ ادا کرنے کی ذمہ داری!
سیاسی قائدین کی طرف سے امن کوششوں کی تعریف اور مذاکرات کی مقررہ مدت کا مطالبہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ کامیابی کی صورت میں ان مذاکرات کا کریڈٹ تو کسی اورکوجائے گا
ایم ریاض:
ایک ایسے مرحلہ پرجب ملک کے مختلف حصوں میں فوجی اورسویلین تنصیبات پربم حملوں کے واقعات کے بعد اندرون اوربیرون ملک تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعدادان اندازوں اورتجزیوں کااظہارکررہی تھی کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں اب جلد ایک ملٹری آپریشن کا قوی امکان ہے۔ لیکن وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی سے خطاب میں اپنے معاون خصوصی عرفان صدیقی ،میجر(ر)محمدعامر،سینئرصحافی رحیم اللہ یوسفزئی اورتحریک انصاف کے رہنماافغانستان میں پاکستان کے سابق سفیررستم شاہ مہمندپرمشتمل چاررکنی مذاکراتی کمیٹی کااعلان کر کے گویا ان تبصروں، تجزیوں اور اندازوں کے برعکس وطن عزیزمیں امن کے قیام کیلئے مذاکرات کی جانب پیش رفت کا آغازکر دیا ہے۔
قومی اسمبلی اورسینٹ میں اپوزیشن قائدین سیدخورشیدشاہ اوررضاربانی کی جانب سے مذاکراتی عمل کیلئے ٹائم فریم کے تقاضے کے ساتھ مجموعی طورپرملک کی تمام سیاسی قوتوں کی طرف سے اس کمیٹی کے قیام کوسراہا گیا ہے۔جبکہ اس کے جواب میں تحریک طالبان کی مرکزی شوری کے اجلاس میں تین روزتک غوروخوص کے بعدجس پانچ رکنی کمیٹی کااعلان کیاگیاوہ تمام مبصرین اورتجزیہ نگاروں کے اندازوں کے برعکس تھی۔
طالبان نے اپنی مذاکراتی کمیٹی میں طالبان قیادت اورکمانڈروں کی بجائے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ،جمعیت علماء اسلام(س)کے سربراہ مولاناسمیع الحق ،جماعت اسلامی خیبرپختونخواکے امیر پروفیسرمحمدابراہیم خان،جمعیت علماء اسلام(ف)کے رہنماسابق ایم پی اے مفتی کفایت اللہ اورلال مسجداسلام آبادکے خطیب مولاناعبدالعزیزکواپنی نمائندگی اورمذاکرات کیلئے نامزدکیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں پارٹی کے سربراہ عمران خان کی شمولیت سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومتی کمیٹی میں شامل رستم شاہ مہمندپہلے ہی ان مذاکرات میں تحریک انصاف کی نمائندگی کررہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام(ف)کے مرکزی شوری کے اجلاس میں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں مفتی کفایت اللہ کی عدم شرکت اور مذاکرات سے ان کی لاتعلقی کے فیصلے سے اگرچہ فضا میں یکلخت تبدیلی محسوس کی گئی لیکن نئی صورتحال میں حکومتی کمیٹی کی جانب سے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے بعض وضاحت مل جانے کے بعد ان دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس اب موجودہ ہیت ترکیبی ہی میں ہو منعقد ہو گا۔
اس معاملے پر کمیٹی کے رکن مولاناسمیع الحق نے پریس کانفرنس میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور حکومتی کمیٹی پرامریکی دباوٴ کا الزام بھی لگایا ہے۔ ان کے اس بیان پرحکومتی کمیٹی کے ارکان خصوصارحیم اللہ یوسفزئی اوررستم شاہ مہمندنے سختی سے اس تاثرکوردکیاکہ کمیٹی کسی دباوٴمیںآ ئی ہے مذاکرات کے باضابطہ آغازنہ ہونے سے فضا بوجھل ضرور ہوئی لیکن امیدکی کرن بہرحال پوری آب وتاب کے ساتھ موجودہے اورضرورت اس امرکی ہے کہ اس نازک موقع پرفریقین کسی عجلت یاجذباتی ردعمل کے اظہار کی بجائے پوری ذمہ داری ،سنجیدگی اورخلوص کے ساتھ بے لوث اندازمیں اس فریضہ کونبھائیں اس تمام معاملہ کا ایک غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ امن مذاکرات کے اس انتہائی اہم اورحساس معاملہ پر عمران خان،مولانافضل الرحمان اور دیگر قائدین یہاں تک کہ تحریک طالبان بھی اپنی اپنی تنظیموں اورسرکردہ اراکین کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔
لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ معاملہ کے مرکزی کرداریعنی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)،حکومت اورخصوصا وزیراعظم میاں نوازشریف کی جانب سے خطہ سے متعلق دیگرتمام اہم معاملات کی طرح اس معاملہ پربھی صوبہ خیبرپختونخواکی مسلم لیگ (ن)یا اس کی قیادت کو اعتماد میں لینااوران سے مشاورت تودرکنارخیبرپختونخواکے ان پارٹی قائدین کی باربارکی درخواستوں کے باوجود چند منٹ کی ملاقات کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔
اب تو وفاقی وزراء اور وزیراعظم کاعملہ بھی صوبہ کے ان جغادری قائدین کی فون کالز ریسیو کرنے کا بھی تکلف نہیں کرتے۔
مذاکرات کا معاملہ براہ راست خیبرپختونخوا اورفاٹا سے تعلق رکھتا ہے اوریہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ کامیابی کی صورت میں ان مذاکرات کا کریڈٹ تو کسی اورکوجائے گا لیکن اگرخدانخواستہ مذاکرات ناکام ہوئے تو اس امکان کو ردنہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس کے منفی اثرات کا براہ راست سامناخدانخواستہ اس خطہ اور یہاں حکمران جماعت کے قائدین اور سرکردہ ارکان کو کرناپڑے گا(کہ اس سے قبل مذاکرات کی ناکامی اپنی قیمت اس وقت کی حکمران اے این پی کے سینئروزیر اور متعدد ارکان اسمبلی سمیت ایک ہزار سے زائدکارکنوں کی جانوں کی صورت میں وصول کرگئی تھی)جبکہ دوسری طرف آج بھی(اس وقت کے صدر پاکستان) آصف علی زرداری کے مقررکردہ شوکت اللہ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر کے منصب پر فائز ہیں یہ اور بات ہے کہ زرداری دور میں اہم حکومتی عہدوں پر تقرری کے ”مخصوص“عوامل اورمعیار کی وجہ سے سب سے زیادہ مسلم لیگ(ن) ہی اس وقت کی تقرریوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی یہ امر مدنظررہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنرکا منصب اس لحاظ سے دیگر صوبوں کے گورنرز سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے گورنر پورے خیبرپختونخوا کے آئینی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ سات قبائلی ایجنسیوں اورچھ فرنٹئیرریجنزپرمشتمل وسیع، اہم اورحساس خطہ کے انتظامی سربراہ بھی ہیں۔
اس وقت ایک طرف امن مذاکرات کیلئے حکومت اورتحریک طالبان کی پیش قدمی جاری ہے تو دوسری جانب اس کے ساتھ صوبائی دارالحکومت پشاورمیں بم دھماکوں کا سلسلہ بھی برقرارہے۔مذاکرات کی فضا میں پہلادھماکہ اتوارکی شب کابلی بازارکے سینما ہال میں ہواجس میں پانچ افرادجاں بحق اور40دیگرشدیدزخمی ہوگئے جبکہ ایک خودکش بم دھماکہ منگل کی شام قصہ خوانی بازار سے ملحقہ کوچہ رسالدارکے پاک ہوٹل میں ہواجس میں10افرادجاں بحق اور50دیگرزخمی ہوئے تحریک طالبان نے فوراََ ان دونوں دھماکوں سے لاتعلقی کااعلان کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کردی جبکہ دھماکوں کے بعدصوبہ کے وزیراطلاعات شاہ فرمان اوردیگرحکومتی شخصیات نے ا ن واقعات کوامن مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش قراردیااورکہاکہ ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-07

(0) ووٹ وصول ہوئے