بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

فیصل آباد کو بگ سٹی کا درجہ دینے کی تیاریاں
ان دنوں فیصل آباد میں ایک پولیس کانسٹیبل عمران احمد جو دس سالوں سے ڈی سی او آفس میں بطور گن مین تعینات ہے۔ اس کے بارے میں کروڑوں روپے کا سکینڈل سامنے آیا
احمد کمال نظامی:
رشوت، دھونس دھاندلی، خردبرد اور اسی نوعیت کے سکینڈلز آئے روز منظرعام پر آتے رہتے ہیں، جن میں وزراء سمیت بڑے بڑے افسر ملوث ہوتے ہیں اور تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں شاید وہ واحد ملک ہے جہاں ایک ہی وقت میں 333اعلیٰ اور ادنیٰ افسران کو رشوت ستانی، کرپشن اور ایسے ہی الزامات کے تحت جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء میں نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
ان میں کچھ ایسے اعلیٰ افسران بھی شامل تھے جو سابق صدر جنرل ایوب خان کی ناک کا بال تھے اور وہ تمام تر پالیسی سازی کا فریضہ سرانجام دیتے تھے، انہی افسران میں وہ فطین اور ذہین افسر بھی شامل تھے جنہوں نے جنرل ایوب خان کے عہد میں ”بائیس خاندانوں“ کو پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا۔ حیران کن بات ہے کہ جنرل یحییٰ خان کے عہد میں نکالے گئے کرپٹ، رشوت خور اور افسر شاہی کے ”لٹیروں“ میں ایک شخص بھی عدالت سے سزاوار قرار نہیں دیا گیا اور نہ ان سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لی گئی۔

ہمارے ہاں آج تک کوئی عہد، کوئی حکومت ایسی نہیں گزری جس کا دامن کرپشن ”سو چھید“ نہیں رکھتا!!! ان دنوں فیصل آباد میں ایک پولیس کانسٹیبل عمران احمد جو دس سالوں سے ڈی سی او آفس میں بطور گن مین تعینات ہے۔ اس کے بارے میں کروڑوں روپے کا سکینڈل سامنے آیا۔ جس کے مطابق اس کانسٹیبل نے لاکھوں روپے مالیت کا گھر، ایک سٹور اور 20لاکھ روپے مالیت کی نجی گاڑی بھی خریدی ہے جس پر ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل نے حرکت میں آ کر سابقہ دور میں اس کی کرپشن پر انکوائری شروع کر دی۔
اس کرپشن کرنے والے نے گینز بک آف ورلڈ میں یقینی اپنا نام درج کرا لیا ہو گا۔ ڈی سی او آفس کے گن مین عمران کے سکینڈل کا سراغ کس ایجنسی نے لگایا، اس پر ابھی پردہ پڑا ہوا ہے۔ حکومت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اعزازات سے نوازتی ہے۔ اگر کرپشن، چوری، غفلت، عدم توجہی اور اس طرح کے دیگر جرائم کا مظاہرہ کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کی کوئی رسم ہوتی تو محکمہ پولیس کے حوالہ سے کانسٹیبل عمران”نشان کرپشن“ کے میڈل کا حق دار قرار پاتا کیونکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی پولیس میں ایسا کوئی شیر جوان ابھی تک سامنے نہیں آیا، جس نے پولیس کانسٹیبل ہوتے ہوئے کرپشن کا وہ معرکہ سرانجام دیا ہوتا جو ہماری بیوروکریسی کے بعض اعلیٰ افسران سرانجام دیتے ہیں۔
ڈی سی او کا گن مین عمران اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، اس کی گرفتاری سے فیصل آباد کی افسرشاہی میں تھرتھلی مچلی ہوئی ہے اور اس نے اپنے بیان میں افسران کو کروڑوں روپے اکٹھا کر کے دینے کا انکشاف کیا ہے۔ اس کا پولیس کو یہ بیان کہ پٹواریوں سے لے کر فوڈ انسپکٹروں اور دیگر محکموں سے سالانہ چھ کروڑ کے قریب اکٹھے ہوتے تھے جس میں ان کا حصہ دس سے بیس فیصد ہوتا تھا۔
گویا وہ رشوت اور کرپشن کا ریکوری افسر تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران نے خود کو اس سکینڈل سے دور رکھنے کی تگ و دو شروع کر دی ہے کیونکہ ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر کو کانسٹیبل عمران احمد کا سرپرست ہونے پر عہدہ سے ہٹا دیا گیا اور افسران کی ایک فہرست محکمہ انٹی کرپشن نے تیار کر لی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اس سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہے جبکہ ایک سیاسی شخصیت نے سوداکار ایجنٹ کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے تاکہ پردہ نشین پردے میں ہی رہیں۔
کانسٹیبل عمران احمد نے اپنی گرفتاری پر پولیس کو جو بیان دیا ہے، اسے اپنے بیان سے منحرف ہونے کی پیشکش بھی کی گئی لیکن اس نے اپنا بیان تبدیل کرنے سے تاحال انکار کر دیا ہے۔ تاہم اینٹی کرپشن والے اس انوکھے کرپشن کیس کی انکوائری کر رہے ہیں۔
کراچی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طالبان نے جس بھرپور منصوبہ بندی سے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خودکار جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
اس حملہ میں سیکورٹی فورسز پی آئی اے سول ایوی ایشن کے بائیس کے قریب جوانوں نے دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، ان شہداء میں فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے چک 61ر۔ب بلوچنی کا رہائشی طارق محمود جٹ بھی شامل ہے جو کہ ایئرپورٹ سیکورٹی فورس میں سب انسپکٹر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ سب انسپکٹر شہید طارق محمود کو ان کے آبائی گاوٴں میں سپردخاک کر دیا گیا ہے۔
فیصل آباد کی سرزمین کو اس نکتہ نگاہ سے شہداء کی سرزمین کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی دشمنان پاکستان نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو فیصل آباد کے سپوتوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر دفاع وطن میں اپنا خون شامل کر دیا۔ پاک فوج اور رینجرز نے بروقت اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے حملہ آوروں پر قابو پا لیا۔ حملہ آوروں سے بھارتی اسلحہ اور زخموں سے خون کا بہاوٴ روکنے والے بھارتی انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں اور اس حملہ کی ذمہ داری طالبان نے نہ صرف قبول کر لی ہے بلکہ مزید خودکش حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے حکیم اللہ محسود کا بدلہ لے لیا ہے۔
مہران ایئربیس کے بعد کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کا یہ دوسرا حملہ ہے۔ جس پر دہشت گردی کی واردات کے حوالہ سے سیکورٹی کی خراب صورت حال کا سوال بھی شدومد کے ساتھ اٹھ رہا ہے۔ ملک میں پھیلے دہشت گردی کے ناسور کے تناظر میں سیکورٹی اداروں اور ایئرپورٹس پر سیکورٹی کے انتظامات زیادہ سخت رکھے جاتے ہیں تاکہ ان حالات میں ملک کی سالمیت کے درپے اندرونی اور بیرونی عناصر کو حفاظتی انتظامات میں موجود کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا موقع نہ ملے۔
مگر اس کے برعکس بھارت نے جس تیزی کے ساتھ افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دینے کے کیمپ بنائے ہیں، انہی کی مدد سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کروانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور انجکشن اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اس واردات کی منصوبہ بندی میں بھارتی کردار کو کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورت حال میں اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔ کراچی ایئرپورٹ کا سانحہ بھارت کے مذموم مقاصد کا کھلا ثبوت ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو غیرملکی سرمایہ کاروں کی جو آمد شروع ہوئی ہے، اسے روکنا ہے۔ ہماری حکومت کیوں اس پہلو پر غور نہیں کرتی اور محض تجارت کے غیر منطقی اورفرسودہ خواب کی خاطر تمام بھارتی سازشوں پر پردہ ڈالنے پر تلی ہوئی ہے۔
ہم کب تک اپنے پیاروں کی میتوں کو کندھا دیتے رہیں گے۔ گذشتہ دنوں ہی فتح جنگ ریلوے پھاٹک کے نزدیک جو خودکش حملہ ہوا اور اس حملہ میں فیصل آباد کے سپوت کرنل ارشد حسین نے جام شہادت نوش کیا، انہیں چک 126 میں ہزاروں اشک بار آنکھوں سے سپردخاک کر دیا گیا، یہ بات اپنی جگہ درست اور ٹھوس حقیقت ہے کہ شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے لیکن آپریشن کے فیصلے کے بعد اب سکیورٹی سے متعلقہ اداروں کو ایسے واقعات کی روک تھام کی ضمانت بھی دیناہو گی۔

گذشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ملتان کی طرح فیصل آباد کو بھی بگ سٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کر چکی ہے اور حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامی افسران نے بگ سٹی پراجیکٹ تیار کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف اپنے مجوزہ دورہ فیصل آباد کے موقع پر فیصل آباد کو بگ سٹی قرار دینے کا اعلان کریں گے، اس کی سمری تیار ہے، بگ سٹی قرار دیئے جانے کے بعد فیصل آباد میں میئر کی جگہ لارڈ میئر کی حکمرانی ہو گی اور لارڈ میئر اسی وقت منتخب ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-14

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان