بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
علاقہ غیر نوگو ایریا کیوں ؟
پاکستان میں جرم کرنے والے، قتل کرنے والے، بینک لوٹنے والے، اغوا برائے تاوان کے مجرم ، کاریں چھیننے اور چوری کرنے والے بھتہ خور اور دیگر جرائم میں ملوث تمام لوگوں کا تعلق فاٹا کے علاقوں سے نکلتا ہے
آغا امیر حسین:
شمالی وزیرستان میں آپریشن ”ضرب عضب“ شروع ہونے کے بعد سے اب تک جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ شمالی وزیرستان اور فاٹا ، دیگر علاقے پاکستانیوں کیلئے نوگو ایریا ہیں۔ان علاقوں میں آباد پاکستانیوں کے بارے میں باقی پاکستانیوں کو کوئی معلومات نہیں ہیں، نہ ہی اُنہیں اُن علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت میسر ہے انگریز دور میں یہاں کی آبادی ہزاروں میں تھی۔
تب یہ علاقہ غیر اہم تھا، اسلئے خیبر پی کے بلوچستان میں مقامی قبائلیوں کو مختار ککل بنایا گیا۔ اُن کے سردار جرگے کے ذریعہ اختیار استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری اس حد تک ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں اور دیگر فلاحی کاموں کیلئے مخصوص فنڈ اُن کے حوالے کر دے۔ اُن کاجی چاہے تو وہ فنڈز اپنے غریب عوام پر صرف کریں ، سڑکیں بنوائیں، ہسپتال ، سکول ، کالج بنوائیں ، غربت دور کرنے کیلئے سکیموں پر خرچ کریں یا سارے کے سارے فنڈز خود ہڑپ کر جائیں۔
اُن سے پوچھنے کا اختیار نہ تو حکومت کے پاس ہے ، نہ ہی کوئی ایسا انتظام کہ جس مقصد کیلئے پیسہ دیاجا رہا ہے، اُس کی کوئی جانچ پرکھ ہو۔ گزشتہ 68 سال میں اربوں روپے اُن کے ذاتی ملکی اور غیر اکاونٹس میں منتقل ہوتے رہے ہیں۔ ان کی اولادیں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عیش کی زندگی گزار رہی ہیں۔
خیبر پی کے میں وزیرستان کے اندر طالبان کے بقول 70 کے قریب ملکی گروہ سال با سال سے مصروف تخریب کاری ہیں۔
مقامی سرداروں اور قبائلی عمائدین کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے علاقے کو پاک صاف رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جرم کرنے والے، قتل کرنے والے، بینک لوٹنے والے، اغوا برائے تاوان کے مجرم ، کاریں چھیننے اور چوری کرنے والے بھتہ خور اور دیگر جرائم میں ملوث تمام لوگوں کا تعلق فاٹا کے علاقوں سے نکلتا ہے۔ پاکستان کے جرائم پیشہ افراد کا محفوظ ٹھکانہ بھی ”علاقہ غیر“ ہے۔
تخریب کاروں کو پچھلے چند سالوں میں اتنا منظم کر دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کو چیلنچ کر رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کا نیٹ ورک قائم ہو گیا ہے۔ جب چاہا، جہاں چاہا، جسے چاہا مار ڈالا اور بڑی سے بڑی تخریب کاری کرتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے اُن کے نشانے پر ہیں۔ اُن کا ترجمان شاہد اللہ شاہد یہ ذمہ داری قبول کرتا چلا آرہا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ریاست کے وہ تمام وسائل جو عوام کی فلاح و بہود پر خرچ ہونے تھے، اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کیلئے مخصوص کر لئے۔ دفتروں کی دیواریں اونچی کرلیں ، اپنی رہائش گاہوں کے باہر بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے اور پولیس چوکیاں بنا کر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور عوام کو بے یاد و مدگار چھوڑ دیا جب کہیں کوئی دھماکہ یا تباہی پھیلی، ایمبولینس ، پولیس، رینجر لاشیں اٹھاتی نظر آئیں گویا مجرموں کو تلاش کرنا اور پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانا اُن کی ذمہ داری نہیں ہے ۔
خدا بھلا کرے پاکستان کے واحد منظم و مستحکم فوجی ادارے کا ، کہ اُس نے نام نہاد منتخب حکومت کو آپریشن ” ضرب عضب“ کرنے پر مجبور کیا۔آپریشن شروع ہونے کے بعد IDP'S کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کرنی شروع کی یہاں ہمیں یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کوئی ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جس سے IDP'S کونہ صرف بہترین سہولیت ، مدد اور رہنمائی حاصل ہوتی۔
اُن کے بھیس میںآ نے والے تخریب کاروں کو پکڑا جاتا، جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی، لاکھوں کی تعداد میں وہ لوگ بھی اس ہجوم میں شامل نہ ہو پاتے جن کے بارے میں نادرا کا یہ کہنا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ غیر متعلقہ لوگ IDP'S میں شامل ہو گئے ہیں۔ حکومت اور قبائلی سرداروں کی ناکامی اور نااہلی کا پتہ تو اس بات سے چلتا ہے کہ اُن کے پاس وہاں رہنے والوں کے اعداد وشمار بھی نہیں ہیں۔
شروع میں کہا گیا دو سے اڑھائی لاکھ لوگ نقل مکانی کریں گے لیکن نو لاکھ سے سے زیادہ لوگوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔ افغانستان چلے جانے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ”علاقہ غیر“ سے آنے والے تمام لوگوں کو یہ اختیاردے دیا گیا کہ وہ جہاں چاہیں اپنی رہائش کا بندوبست کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف افراتفری پیدا ہوئی اور مستحق IDP'S کی دادرسی نہ ہوئی۔
اربوں روپے کے فنڈز اور مخیر اداروں کی طرف سے روانہ کئے گئے سینکڑوں ٹرک اور ہزاروں ٹن اشیاء ہاتھی کی داڑھ میں زیرہ ثابت ہو کر دہ گئیں۔ کسی منظم طریقے سے کیمپ بنا کر ان IDP'S کو علاقہ غیر میں ہی رکھا جاتا اور اُن کی نقل حرکت کو محدود رکھا جاتا تو نہ صرف سب کی دادرسی ہوتی اور کسی کو کوئی شکایت نہ ہوتی بلکہ اُن سے بھیس میں آنے والے جرائم پیشہ افراد بھی گرفت میںآ جاتے ۔
ایسا لگتا ہے کہ منتخب حکومتیں اور بیورو کریسی سب طے کر کے بیٹھے ہیں کہ عقل کاکوئی کام کرنا ہی نہیں۔آپریشن شروع ہونے کے بعد پندرہ بیس دن تک پورے ملک میں مکمل سکون رہا۔اُن کے ہمدرد، کوئی آواز احتجاج بلند نہ کرپائے۔ پوری قوم ضرب عضب کی کامیابی کیلئے اپنی بہادرافواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے میران شاہ، امیر علی کے علاقے نیوز چینل پر دیکھنے کو ملے۔

پاکستان میں سولر انرجی کا استعمال ابھی خال خال ہے لیکن تخریب کاروں کے تمام مراکز سولر انرجی سے روشن ہیں۔ اُن کے بازاروں میں دکانوں پر منشیات، ہر قسم کا اسلحہ،خودکش جیکٹس تک موجود ہیں، نیٹ کیفے جگہ جگہ کھلے ہیں۔ اس طرح کی دیگر اشیاء بھی بازاروں میں دستیاب ہیں۔ ان شواہد کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ پورا قبائلی نظام اُن علاقوں میں اب قابل عمل نہیں رہا۔
پاکستان میں اگر چہ کوئی آئیڈیل نظام نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ نظام فاٹا کے علاقوں میں بھی نافذ ہوتا چاہیے۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لاکھوں افراد کو حق رائے دہی سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ اُن کے قبائلی سردار دس پندرہ ووٹوں سے فاٹا کے نام پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں منتخب ہوجاتے ہیں اور لاکھوں ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایم این اے کے برابر حقوق کے مالک بن جاتے ہیں۔
یہ ڈرامہ ختم کیا جائے ، فاٹا کے عوام کو ”ون مین ون ووٹ“ اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ بھی اپنے رہنما اور لیڈر چُن سکیں۔ قبائلی سردار، نواب ، تمن داروں کی غلامی سے باہر نکلیں، پاکستان کے عوام کو بھی غلامی سے باہران علاقوں میں جانے اور رہنے بسنے، کا روبار کرنے کا اختیار ملے وہ تمام اشیاء جن کی فروخت پاکستان میں ممنوع ہے ، اُن کی فروخت اُن علاقوں میں بھی ممنوع ہونی چاہیے۔
اغوا برائے تاوان کے کسی مجرم اور کسی بھی وطن دوشمن سرگرمیوں میں ملوث گروہ کو منظم ہونے اور من مانی کارروائیاں کرنے کا موقع نہ ملے۔جب فاٹا کے تمام رہنے والے پورے پاکستان میں جہاں چاہے آجا سکتے ہیں ، کاروبار کر سکتے ہیں، زمین جائیداد خرید سکتے ہیں، تو باقی پاکستانیوں کو ” علاقہ غیر“ کے نام پر کیوں روکا جاتا ہے ۔آج کے زمانے میں دنیا سُکڑ کر مٹھی میںآ چکی ہے تو پھر کیاوجہ ہے کہ حکومت فاٹا کے علاقوں کو صوبوں کے ماتحت کرنے سے ہچکچا رہی ہے؟ اگر ان علاقوں کو ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح موجود سسٹم میں شامل کر لیا جائے تو پورے ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا قابو کیا جا سکتا ہے ۔
اس وقت ہر مجرم کو یہ پتہ ہے کہ وہ جب چاہے” علاقہ غیر“ میں پناہ لے سکتا ہے ۔انشاء اللہ جلد ہی IDP'S اپنے گھروں کو واپس جائیں گے، حکومت کو چاہیے مکمل جانچ پرکھ کے بعد وہاں کے رہائشیوں کو ہی داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ دانشمندی سے کام لیا جائے تو ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں ، تخریب کاروں سے نجات مل سکتی ہے۔ افغانستان کی سرحد پر موثر کنٹرول کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان