بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عید قربان
پر مسرت موقع پر سیلاب زدگان کو فراموش نہ کریں۔۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے،انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرناچاہئے،عید کےموقع پر ان کا ہر طرح سےخیال رکھناہمارااخلاقی فرض ہے
مظہر حسین شیخ:
عید الاضحی کی آمد آمد ہے‘ہر سال کی طرح اس سال بھی بکرے‘ گائے اوراونٹ جو کہ اس خوشی کے موقع پر قربان کئے جاتے ہیں ہر جگہ دیکھائی دیتے ہیں‘ بچے قربانی کے جانوروں کی خریداری کے لئے نہ صرف جانے کی ضد کرتے ہیں بلکہ بڑے اہتمام کے ساتھ بکروں کو گھمانے پھرانے لے جاتے ہیں۔ ان کی خوراک کا بندوبست کرتے ہیں‘ ہر کسی نے اپنے بکرے کا نام رکھا ہواہے اور ان کو اسی نام سے پکاراجاتا ہے۔
گلی محلے کے بچے آپس میں اپنے اپنے جانوروں کے قصّے بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مرتبہ گزشتہ عیدین کے مقابلے میں قربانی کے جانوروں کی تعداد پہلے سے بہت کم دکھائی دیتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہن بھائی جن کا اانخصار انہیں جانوروں پر ہے وہ اپنی روزی روٹی انہیں جانوروں کے ذریعے کماتے ہیں سال بھر ان جانوروں کی خدمت کرتے ہیں اور جب وہ قربانی کے قابل ہو جاتے ہیں تو انہیں شہر میں بیچنے آتے ہیں۔

حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب تھا،جس نے وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب تک وسیع پیمانے پرتباہی مچائی قیمتی جانیں،فصلیں اور جانور سیلاب کی نذر ہو گئے اور کئی جانوراب بھی بیمارہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے نہ صرف کئی خاندانوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا بلکہ کئی قیمتی جانوروں کو بھی نگل لیا۔متاثرین سیلاب کا کوئی پرسان حال نہیں وہ کھلے آسمانے تلے بے یارومددگار کسی مسیخا کے منتظرہیں، جوں جوں موسم انگڑائی لے رہا ہے ان کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے دن کو گرمی جبکہ رات کو ٹھنڈ ہو جاتی ہے ایسے میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے جبکہ سیلاب کے پانی کی وجہ سے وہاں بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔
بے شک عالمی ادارہ صحت متاثرین سیلاب کے علاج معالجہ کے لئے بڑی مقدار میں ادویات اور دیگر سامان فراہم کررہی ہے لیکن یہ ان کے لئے ناکافی ہے۔کسی بھی اچھے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا فرد واحد کا کام نہیں اس کے لئے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔یونیوسٹیوں کے طلباء وطالبات کو میدان میں آنا چاہئے جس طرح کہ وہ ماضی میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ حکومت اپنی طرف سے سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے لیکن اس سلسلہ میں ہمیں بھی اپنا حصّہ ڈالنا چاہئے۔ہر محب وطن پاکستانی کو ان اقدامات میں تیزی لانے کے لئے سیلاب زدگان کی امدادکا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں جبکہ دوسری طرف عید قرباں کی آمدآمد ہے۔

مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے،انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہئے،عید قرباں کے موقع پر ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے جو خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی وہی کچھ پسند کریں جو خود ہمیں پسند ہے تو ہر طرف خوشیاں دکھائی دیں گی۔
دین اسلام نے کمزور لوگوں کی مدد کے لئے کئی طرح کی ہدایت فرمائی گئی ہے تاکہ غریب لوگ بھی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔بہت سے بچے ایسے ہیں جو اس خوشی کے موقع پر والدین سے نئے کپڑے اورجوتوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ان بیچاروں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے والدین پر کیا گزررہی ہے۔ ان میں سے کئی خاندان ایسے بھی ہیں جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں کیونکہ وہاں عام لوگوں کی رسائی مشکل ہے ان کے راشن کا بندوبست ہیلی کاپٹر کے ذریعے حکومت ہی کرسکتی ہے۔
سیلاب ذدگان میں چھوٹی عمر کے بچوں کی تعداد زیادہ ہے ان بچوں کو کیا معلوم کہ سیلاب کیا ہے یقیناً وہ والدین سے فرمائشیں کرتے ہوں گے،اس مشکل گھڑی میں والدین ان کی خواہش یا ضد کس طرح پوری کر سکتے ہیں؟ ان بچوں کے جذبات کا خیال رکھنا ہما را اخلاقی فرض ہے۔مذہبی تہوار ہمیں کوئی نہ کوئی سبق ضرور دیتے ہیں جس طرح عید قرباں ہمیں ایثار وقربانی کا درس دیتی ہے۔
ننھے منے دوستو! عید نام ہے خوشی کا اور خوشیاں بانٹنے کا ‘ چھوٹی عید جسے عید الفطر بھی کہتے ہیں کے موقع پر آپ کو مستحق لوگوں کی مدد کرتے ہیں انہیں نئے کپڑے جوتے اور عیدی سے نوازتے ہیں۔ آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ عید الاضحیٰ ہمیں قربانی کا درس دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے قربانی کے جانور خریدے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ پر قربان کر دیا۔
اس موقع پر یہ دیکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ کون سے لوگ قربانی کے گوشت کے مستحق ہیں ایسے گھرانے بھی ہیں جو مہنگائی کے اس دورمیں گوشت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ، انہیں گوشت دینا اور ان کی خوشیوں کا خیال رکھنا بھی ہمارا فرض ہے۔
جہاں حکومت سیلاب زدگان کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہاں ہمارا بھی فرض ہے کہ سیلاب زدگان کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی 23 ستمبر کو سالگرہ تھی انہوں نے اپنی سالگرہ کا دن سیلاب زدگان کے درمیان گزارااس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ کئی روز سے وہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں سالگرہ کا دن جھنگ کے سیلاب متاثرہ موضع بھوچرہ کے دورے کے موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے اہل خانہ آپ سے نہیں کہتے کہ سالگرہ کا دن ان کے ساتھ گزاریں تو انہوں نے کہا کہ میری خوشی اسی میں ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ مصیبت زدہ عوام کے کام آسکوں۔

ننھے منے دوستو! سیلاب زدگان کے اس مشکل وقت میں ہمیں چاہئے کہ ان کی زیادہ سے زیادہ امداد کریں ‘ ان کی مدد کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے،ضروری نہیں کہ انہیں نقد رقوم دی جائے، روز مرہ استعمال کی ضروری اشیاء ان تک پہنچا سکتے ہیں۔ کھانے پینے کا بندوبست کر سکتے ہیں تن دھانپنے کے لئے کپڑے فراہم کر سکتے ہیں اور ان کے لئے اپنے دوستوں رشتہ داروں سے رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان