بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اہم افسروں پر طالبان کے حملے
کیا مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگا؟
اس بار طالبان کی قیادت ملا فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کاروں میں تبدیلی کردی گئی تھی۔ ابھی یہ سلسلہ آگے بڑھنے ہی نہ دیا تھا
مصنف : سید بدر سعید
مسلم لیگ (ن ) نے حکومت بنتے ہی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس بھی ہوئی لیکن چند طاقتوں نئے مذاکرات کا عمل ناکام بنادیا۔ میجر جنرل ثنا اللہ نیازی شہید کر دئیے گئے۔ دوسری جانب طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود بھی ڈرون کا نشانہ بنادئیے گئے۔ جس کے بعد مذاکرات کی صف لپیٹ دی گئی۔ اب ایک مرتبہ پھر مذاکرا اک ڈول ڈالا گیا تھا۔
اس بار طالبان کی قیادت ملا فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کاروں میں تبدیلی کردی گئی تھی۔ ابھی یہ سلسلہ آگے بڑھنے ہی نہ دیا تھا کہ ایس ایس پی چودھری اسلم کو بم دھماکے کا نشانہ بنا دیا گیا ۔ اس حملے کے بعد سوال اٹھنا شروع ہوگئے کہ کیا ان حالات میں مذاکرات ممکن نہیں؟ عسکریت پسندوں کے حوالیس ے ابھی تک حکومتی پالیسی ابہام کا شکار نظر آرہی ہے جس سے قوم کا حوصلہ پست ہونے کا خطرہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مذاکرات یا آپریشن کے حوالے سے واضح پالیسی بنا کر قوم کو اعتما د میں لے۔
یہ عملی اقدامات کاوقت ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر طالبان گروپوں سے مزاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن دوسری جانب ایک بار پھر اس عمل کو برباد کرنے کی کوشش کی گئی حکومت کے آغاز میں ہی وزیر اعظم کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ عسکریت پسندوں سے ماکرات کیے جائیں گے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس عمل کو طالبان کے موجودہ امیر ملا فضل اللہ نے سبو تاژ کردیا۔
حکومتی اعلان کو طالبان کے کچھ گروپوں نے اچھا فیصلہ قرار دیا تھا لیکن پاک فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ثنااللہ نیازی پر حملے نے معاملات بگاڑ دئیے ۔ پاک فوج نے تو اس حوالے سے تحمل کا مظاہر ہ کیا اور کوئی ایسا بیان جاری نہ کیا جس سے حالات بگڑتے لیکن کچھ ہی دن بعد طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ڈرون حملے کا نشانہ بن گئے جس سے مذاکرات کی صف مکمل طور پر لپیٹ دی گئی ا ب حال ہی میں ایک بار پھر مذاکرات کی بنیاد رکھنے کی کوشش شروع ہوئی۔
اس حوالے سے مولانا سمیع الحق سمیت کچھ اہم شخصیات کے نام سامنے آئے۔ اس بار طالبان کے امیر کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے سربراہ بھی تبدیل ہوچکے تھے جبکہ مذاکرات کاروں میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی تھی۔ جن لوگوں پر پہلے تکیہ کیا جارہا تھا، اب ان کی بجائے دوسرے افرادکو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مولونا سمیع الحق نے اپنے بیانات میں امید دلائی تھی کہ جلد ہی معاملات بہتر رخ کی جانب جانا شروع ہوجائیں گے۔

ایک طرف مذاکرا کی بساط بچھائی جارہی تھی تو دوسری طرف ایک جنگ بھی جاری تھی۔ یہ کراچی آپریشن تھا جس کا آغاز ستمبر میں ہوا۔ بنیادی طور پر یہ آپریشن کراچی میں موجود ٹارکٹ کلرز، بھتہ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ افرا دکے خلاف ہورہا تھا۔ کراچی گزشتہ کئی سال سے لاقانونیت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور وہاں کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی تھی۔
اس لئے یہ آپریشن ناگزیر تھا۔ کراچی میں بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ تو عروج پر تھی ہی لیکن کچھ عرصہ سے وہاں طالبان کے مختلف گروپوں کا نام بھی سامنے آنیلگا۔ اکثر مارکیٹوں میں بھیجی جانے والی بھتہ کی پرچیوں پر تحریک طالبان کا حوالہ دیا جانے لگا ۔ اسی طرح بنک ڈکیتیوں اور لوٹ مارکی وارداتوں میں بھی اکثر اسی تنظیم کا نام سامنے آنے لگا۔
طالبان کی جانب سے اس کی تروید بھی کی گئی اور ایسے لوگوں کو اپنا مجرم بھی قرار دیا گیا۔ بعض گرفتار لوگ جعلی طالبان بھی ثابت ہوئے جو محض ڈر قائم رکھنے کیلئے اس تنظیم کا نام استعمال کررہے تھے۔
دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ کراچی جیسا بڑا شہر کسی بھی شخص کے چھپنے کیلئے بہترین جگہ ہے ۔ اس شہر میں طالبان کے کئی کمانڈر روپوش ہوئے اور انہوں نے یہاں رہائش اختیار کی۔
یہاں پویس اور رینجرز کے طالبان کمانڈروں اور جنگجوؤں سے مقابلے بھی ہوئے ۔کاچی آپریشن کا آغاز ہوا تو اس میں مزید شدت آگئی۔ اس آپریشن میں ایس ایس پی چودھری اسلم خاصے فعال نظر آئے انہوں نے تحریک طالبان سے منسوب متعدد جنگجوؤں کو گرفتار و ہلاک کیا۔
مذاکرات کی گفتگو اپنی جگہ لیکن حکومت اور طالبان دونوں حالت جنگ میں ہیں۔ مذاکراتی عمل میں کسی بھی مرحلے پر یہ جنگ روکی نہیں گئی۔
گزشتہ دنوں ایک دھماکے میں کاچی آپریشن کے اہم کردار چودھری اسلم اپنے آخری سفر کی جانب گامزن ہوگئے۔ یہ کراچی فورسز کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بت سے لگایا جاسکتا ہے کہ آرمی چیف نے پولیس کے اس ایس ایس پی کیلئے خصوصاََ بیان جاری کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
چودھری اسلم پر حملے کے بعد اب پھر یہ سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ جب بھی حکومت مذاکرات عمل آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہے، کسی اعلی اور اہم عہدعدار کو گھات لگا کر شہید کیوں کیا جاتا ہے؟ جنرل ثنااللہ نیازی کو بھی گھات لگا کر بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی ذمہ داری فضل اللہ نے قبول کی تھی۔
فضل الہ اس وقت مذاکرات کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ ا ب وہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر ہیں۔ جنرل ثنا اللہ نیازی کی طرح چودھری اسلم کو بھی گھات لگا کر بم دھماکے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے امیر سجاد مہمند نے اسن الفاظ میں قبول کرلی کہ چودھری اسلم ان کے نشانے پرتھے۔ عین ممکن ہے کہ ان پر یہ حملہ روٹین کی کارروائیوں کا حصہ ہو کیونکہ انہوں نے اپنا آخری آپریشن طالبان کے علاقائی امیرکے خلاف ہی کیا تھا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حملہ حکومتی مذاکراتی عمل کو سبو تاژ کرنے کیلئے کیا گیا ہو۔ لیکن یہ ضرورر ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے خلاف نظر آنے والے طبقوں نے اس حملے کو بھی مذاکراتی عمل سے جوڑ دیا ہے۔ اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ اگر طالبان حکومتی خواہش کا جواب ان حملوں سے دے رہے ہیں تو ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ کراچی میں ابھی تک عسکریت پسند اپنی مضبوط بنیادوں سمیت کھڑے ہیں۔
کیا وہ اس حالت میں مذاکرات کے عمل کا حصہ بنیں گے؟ ان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مووہ صورتحال میں مذاکرات کا مطلب عسکریت پسندوں کو مزید مضبوط کرنا اور آئندہ کیلئے مزید تیاری کاوقت دینا ہے۔ اس نظریہ کے حامل لوگ ایک مرتبہ بھرپور آپریشن کا مطابلہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود یہ خطرہ رہے گا کہ کسی بھی وقت عسکریت پسند دوبارہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔

مذاکراتی عمل کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی اسے پھر سے شدید دھچکا لگا ہے۔ مذاکرات کے حامی اور مخالف دونوں جانب موجود ہیں لیکن یہ عمل اس وقت تک پایہ تکمیل کو پہنچتا نظر نہیں آتا جب تک دونوں جانب سے جنگ بندی کا اعلان نہ ہو۔ امن مذاکرات اس طرح ممکن نظر نہیں آرہے کہ ایک جانب لاشیں گرتی ہیں اور دوسری جانب دونوں طرف کے رہنما مذاکرات کی میز پر نظر آئیں۔
ہمیں مذاکرات کرنے ہیں تو پھر دونوں جانب سے سیز فائر کا اعلان کر کے اسے معاملے کا کوئی بہتر راستہ تلاش کرنا ہوگا اور اگر یسا ممکن نہیں تو پھر قوم کو اعتماد میں لے کر ملک دشمن عناصر کے خلاف مکمل آپریشن کرنا ہوگا۔ اس وقت پوری قوم مذاکرات اور آپریشن کے درمیان لٹکی ہوئی ہے جس سے مزید ابہام پیدا ہورہے ہیں۔ یہ بات تو تاریخ سے ثابت ہے کہ جس قوم کا مورال گرجائے وہ میدان میں اترنے سے پہلے ہی شکست سے دوچار ہوجاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز صورتحال کا مکمل ادراک کرتے ہوئے بروقت ایسے اقدامات کا حکم دیں جو قوم کو کنفیوژن کا شکار ہونے سے بچائیں۔ ہمیں یہ بھی ذہم میں رکھنا ہوگا کہ مذاکرات یا جنگ ، دونوں صورتوں میں قوم کو اعتماد میں لینا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ وہ جنگ ہے جس میں 50ہزار سے زائد عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-